• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ کے امکان کو مسترد کیا

Updated: February 27, 2026, 6:01 PM IST | Washington

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ کے امکان کو مسترد کردیا، دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری مذاکرات کے دوران فوجی کارروائی پر غور کررہی ہے۔

US Vice President JD Vance. Photo: INN
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس۔ تصویر: آئی این این

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں کسی طویل جنگ میں نہیں پھنسے گا۔واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری مذاکرات کے دوران تہران کے خلاف فوجیکارروائی  پر غور کر رہی ہے۔واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ ’’یہ خیال کہ ہم مشرق وسطیٰ میں برسوں تک جاری رہنے والی جنگ میں الجھے رہیں گے، ایسا ہونے کا کوئی امکان نہیں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ ترجیحی طور پر سفارتی متبادل کو ہی ترجیح دیتا ہے، لیکن یہ ایران کے رویے پر منحصر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی فوجی صلاحیت دیکھ کر امریکہ محتاط، مذاکرات کا آغاز

ان خیالات کا اظہار ایسے وقت میں ہوا ہے جب جمعرات کوجینیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا تیسرا دور مکمل ہوا، جسے ایرانی حکام نے سنجیدہ اور نتیجہ خیز قرار دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات میں پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اگلے دور کے مذاکرات تقریباً ایک ہفتے میں متوقع ہیں۔بعد ازاں وینس نے ماضی کی محدود فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے واضح مقاصد اور اختتامی نکات تھے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ضروری ہے لیکن حد سے زیادہ سبق سیکھ کر مستقبل میں کسی بھی فوجی مداخلت سے مکمل گریز بھی درست نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان افغانستان سرحدی تنازع: ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: شہبارشریف

یاد رہےکہ جبکہ ایران اور امریکہ بالواسطہ مذاکرات میں شامل ہیں، امریکہ نے ایران پر دبائو بڑھانے کیلئےایران کے اطراف بڑی تعداد میں بحری فوج تعینات کی ہے، جس میں دو بحری بیڑے بھی شامل ہیں، دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ پر امن جوہری پروگرام پر بات چیت کیلئے تیار ہے، لیکن اس پر حملہ کیا گیا تو وہ سخت جواب دے گا۔ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں واقع تمام امریکی فوجی اڈے اس کے نشانے پر ہوں گے۔جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ جنگ اگر شروع ہوتی ہے، تو اس کی طوالت اور دائرہ اثر اندازے سے کہیں زیادہ ہوگا۔ امریکی نائب صدر کا یہ بیان اسی پس منظر میں دیا گیا ایک وضاحتی بیان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK