Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ویزا پالیسی میں سختی کے سبب وہاں مقیم ہندوستانی طلبہ کو ملازمت ملنا انتہائی مشکل: رپورٹ

Updated: July 11, 2026, 9:10 PM IST | Washington

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب غیر ملکی یونیورسٹی کی ڈگری خود ہندوستان میں بھی ملازمت کے حصول میں برتری کی ضمانت نہیں دیتی۔ کمپنیاں اب یونیورسٹی کے نام کے بجائے عملی مہارتوں، انٹرن شپ کے تجربے، ڈجیٹل صلاحیتوں اور ملازمت کیلئے فوری تیاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی ویزا پالیسی میں سختی، امیگریشن کی سخت نگرانی اور بین الاقوامی ملازمین کو اسپانسر کرنے پر آمادہ کمپنیوں کی گھٹتی تعداد کے سبب وہاں مقیم ہندوستانی طلبہ کو ملازمت کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال کے درمیان، گریجویشن کے بعد امریکہ میں کریئر بنانے کا خواب رکھنے والے ہندوستانی طلبہ اپنے مستقبل کے متعلق غیر یقینی کا شکار ہیں۔ 

’نیشنل فاؤنڈیشن فار امریکن پالیسی‘ کے ایک تجزیے کے مطابق، بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس (بی ایل ایس) کے جون ۲۰۲۶ء کے ہاؤس ہولڈ سروے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد میں جنوری ۲۰۲۶ء سے اب تک ۸۶ء۱۱ لاکھ اور مارچ ۲۰۲۵ء میں اپنی بلند ترین سطح کے بعد سے ۴۷ء۱۸ لاکھ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ کانگریشنل بجٹ آفس اور سوشل سیکوریٹی ایڈمنسٹریشن نے ۲۰۲۵ء میں ۱۳ لاکھ مزید اور ۲۰۲۶ء میں مزید ۹ لاکھ غیر ملکی ملازمین کی پیش گوئی کی تھی۔ اس کے برعکس، بی ایل ایس کا ڈیٹا جنوری ۲۰۲۵ء سے اب تک غیر ملکی ملازمین کی تعداد میں ۱۴ لاکھ کی کمی ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ملازمتیں امریکیوں کیلئے ہیں، غیر ملکی فراڈیوں کیلئے نہیں: جے ڈی وینس

بین الاقوامی گریجویٹس کو ملازمت دینے کیلئے تیار کمپنیوں کی تعداد تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ حالیہ ’جی ایم اے سی کارپوریٹ ریکروٹرز سروے‘ کے مطابق، ۲۰۲۶ء میں صرف ۲۹ فیصد امریکی کمپنیاں غیر ملکی بزنس اسکول گریجویٹس کو ملازمت دینے کیلئے تیار تھیں، جبکہ ۲۰۲۲ء میں یہ شرح ۵۵ فیصد تھی۔ ’یونیورسٹی لیونگ‘ کے بانی اور سی ای او سوربھ اروڑا نے اس صورتحال کو ”تین دباؤ کا مجموعہ: سست رفتار بھرتیاں، کمپنیوں کی جانب سے محتاط اسپانسرشپ اور سخت تر امیگریشن پالیسیاں“ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی طلبہ ملازمت کے حصول میں تاخیر کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ اب تیزی سے واپس ہندوستان میں مواقع تلاش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ویزا کی سخت جانچ پڑتال (جس میں سوشل میڈیا اسکریننگ بھی شامل ہے) اور پڑھائی کے بعد کام کرنے کے اختیارات جیسے کہ او پی ٹی (OPT) پروگرام کی کڑی نگرانی نے خاص طور پر ہندوستانی گریجویٹس کیلئے طویل مدتی کیریئر کی منصوبہ بندی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ملک میں پیپر لیکس کے درمیان، مرکزی وزراء کے بچے غیر ملکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب غیر ملکی یونیورسٹی کی ڈگری خود ہندوستان میں بھی ملازمت کے حصول میں برتری کی ضمانت نہیں دیتی۔ کمپنیاں اب یونیورسٹی کے نام کے بجائے عملی مہارتوں (practical skills)، انٹرن شپ کے تجربے، ڈجیٹل صلاحیتوں اور ملازمت کیلئے فوری تیاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ’ایم ایس ایم یونیفائی‘ کے بانی سنجے لال نے کہا کہ ”صرف ایک غیر ملکی تعلیمی قابلیت ہی کافی نہیں ہے، اب بھرتیاں ڈگری کے بجائے تیزی سے مہارتوں پر مبنی (skills-driven) ہوتی جا رہی ہیں۔“

بین الاقوامی تعلیم کی اہمیت اب عالمی سطح کے تجربے (global exposure) اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت میں پنہاں ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب اسے زیادہ مانگ والے شعبوں میں متعلقہ کام کے تجربے کی پشت پناہی حاصل ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK