Updated: July 10, 2026, 10:04 PM IST
| New Delhi
تعلیمی کارکن انیل کمار رائے نے کہا کہ بار بار پیپر لیک کے واقعات نے عوامی اعتماد کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہر سال پیپر لیک ہوتے ہیں، کوئی کیوں ہندوستانی تعلیمی نظام پر بھروسہ کرے گا؟ مرکزی وزراء اپنے بچوں کو بیرونِ ملک صرف اس لئے بھیجتے ہیں کیونکہ انہیں خود اس نظام پر بھروسہ نہیں ہے۔“
نیٖٹ پیپر لیک معاملے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے طلبہ اور تنظیمیں گزشتہ کئی دنوں سے جنتر منتر پر احتجاج کررہے ہیں۔ اسی دوران ’اسکرول‘ (Scroll) کے ایک نئے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ملک کے کابینی وزراء کے ۱۸ سے ۳۵ سال کی عمر کے ۲۱ بچوں (جن کی معلومات دستیاب ہیں) میں سے ۱۵ بچے یا تو غیر ملکی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھتے ہیں یا اس وقت بیرونِ ملک زیرِ تعلیم ہیں۔ صرف ایک نے ہندوستان میں تعلیم حاصل کی، جبکہ ۵ کے تعلیمی پس منظر کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
سرکاری ویب سائٹس، لنکڈان پروفائلز اور نیوز رپورٹس جیسے ذرائع اور عوامی سطح پر دستیاب معلومات پر مبنی یہ تجزیہ، ملک کے ان ۳۰ کابینہ وزراء کے بچوں کا احاطہ کرتا ہے جن کے ۲۰۱۴ء (جب مودی حکومت برسراقتدار آئی تھی) کے بعد سے کالج میں زیر تعلیم ہونے کا سب سے زیادہ امکان تھا۔
یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر: متنازع موا د کی تلاش، اسکولوں کو تمام کتابوں کی اسکریننگ کا حکم
کن وزراء کے بچوں نے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کی؟
اس فہرست میں مرکزی حکومت کی چند سینئر ترین شخصیات شامل ہیں۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے بیٹے ارجن نے ۲۰۲۱ء میں نیویارک یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کی بیٹی ونگمئی پرکالا الینوائے کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے میڈل اسکول سے ماسٹر آف آرٹس کی ڈگری رکھتی ہیں۔
وزیرِ تجارت پیوش گوئل کے بیٹے دھرو گوئل نے ہارورڈ سے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم مکمل کی ہے، جبکہ ان کی بیٹی رادھیکا نے اپنی دونوں ڈگریاں آکسفورڈ سے حاصل کیں اور یونیورسٹی آف سان ڈیاگو سے پی ایچ ڈی (PhD) مکمل کی۔ وزیرِ ریل اشونی ویشنو کے دو بچوں، تانیہ اور راہل، دونوں نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔ وزیرِ زراعت شیوراج سنگھ چوہان کے بڑے بیٹے کارتیکیہ نے ۲۰۲۳ء میں یونیورسٹی آف پینسلوانیا سے قانون میں ماسٹرز (LLM) کیا، جبکہ ان کے چھوٹے بیٹے کنال نے ۲۰۱۶ء میں نیویارک یونیورسٹی سے انڈرگریجویٹ ڈگری حاصل کی۔ وزیر صحت جے پی نڈا کے بیٹے ہریش نے ۲۰۱۹ء میں یونیورسٹی آف لندن سے گریجویشن کی، جبکہ وزیر مواصلات جیوتیرادتیہ سندھیا کی بیٹی اننیا نے ۲۰۲۴ء میں روڈ آئی لینڈ اسکول آف ڈیزائن سے گریجویشن کیا اور ان کے بیٹے مہاناریامن نے ۲۰۱۹ء میں ییل یونیورسٹی (Yale University) سے گریجویشن مکمل کیا۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس نے وزیر تعلیم کا استعفیٰ اور این ٹی اے کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا
’انہیں خود اس نظام پر بھروسہ نہیں ہے‘
تعلیمی کارکن نرنجن رادھیا وی پی نے کہا کہ ”یہ رجحان حکومت کی بے حسی کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ حقیقت کہ وزراء اپنے بچوں کو بیرونِ ملک بھیجتے ہیں، اس بے حسی کو ظاہر کرتی ہے جو وہ ملک کے تعلیمی نظام کیلئے رکھتے ہیں۔ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں وہ اپنے بچوں کو بیرونِ ملک بھیج دیں گے، لیکن ہم یہاں کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے کیا کر رہے ہیں؟“
بہار سے تعلق رکھنے والے ایک تعلیمی کارکن انیل کمار رائے نے کہا کہ بار بار پیپر لیک کے واقعات نے عوامی اعتماد کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہر سال پیپر لیک ہوتے ہیں، کوئی کیوں ہندوستانی تعلیمی نظام پر بھروسہ کرے گا؟ لائبریریوں، لیبارٹریوں اور ریسرچ کیلئے فنڈز میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، طلبہ یہاں کیوں پڑھنا چاہیں گے؟“ انہوں نے مزید کہا کہ ”وزراء اپنے بچوں کو بیرونِ ملک صرف اس لئے بھیجتے ہیں کیونکہ انہیں خود اس نظام پر بھروسہ نہیں ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ۸۶؍لاکھ طلبہ نے سرکاری اسکولوں کو خیر باد کہہ دیا! وزارت تعلیم کی رپورٹ
واضح رہے کہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو ۲۰۰۱ء میں ۲۲ لاکھ سے بڑھ کر ۲۰۲۲ء تک ۶۹ لاکھ ہو گئی ہے، جبکہ ہندوستان میں بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں کی شرح جمود کا شکار ہے، اور ۲۰۱۴ء کے بعد سے اس کی سالانہ شرحِ نمو کبھی بھی ۱۰ فیصد سے اوپر نہیں جا سکی۔