• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا بھر میں پابندی شدہ مشمولات امریکہ کی ایک نئی ویب سائٹ پر نظر آئیں گے

Updated: February 22, 2026, 2:02 PM IST | Washington

دنیا بھر میں پابندی شدہ مشمولات امریکہ کی ایک نئی ویب سائٹ پر نظر آئیں گے ، امریکی محکمہ خارجہ ’’ فریڈم گو‘‘ (reedom.gov) نامی ایک پورٹل تیار کر رہا ہے جو دنیا بھر کے مقامی قوانین کو نظرانداز کر سکتا ہے جبکہ یہ اقدام ممکنہ طور پر یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ کر سکتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکہ ایک آن لائن پورٹل تیار کر رہا ہے جس میں یورپ اور دیگر ممالک کی حکومتوں کی جانب سے ممنوعہ قرار دیا گیا مواد شامل ہوگا۔ رائٹرز کے مطابق، نامعلوم ذرائع نے بتایا کہ یہ پورٹل ’’freedom.gov‘‘ پر شائع کیا جائے گا۔ معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق، اس پورٹل میں وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) فنکشن بھی شامل ہوگا جس سے ویب سائٹ ٹریفک کا ذریعہ خود امریکہ ظاہر ہوگا۔ ایک ذریعے کا دعویٰ ہے کہ پورٹل صارفین کی سرگرمیوں کو ٹریک نہیں کرے گا۔دریں اثناء امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا، ’’ڈیجیٹل آزادی محکمہ خارجہ کی ترجیح ہے، اور اس میں وی پی این جیسی پرائیویسی اور سنسرشپ کو نظرانداز کرنے والی ٹیکنالوجی کی شمولیت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوئس صدر، تمام ممالک کیلئے اے آئی کو جمہوری بنانے کے ہندوستانی منصوبے کی حمایت

تاہم یہ پورٹل ابھی لانچ نہیں ہوا ہے۔واضح رہے کہ اس منصوبے کی سربراہی امریکی محکمہ خارجہ کی انڈر سیکرٹری سارہ راجرز کر رہی ہیں۔ اطلاع ہے کہ اس کا اعلان میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں کیا جا سکتا تھا، لیکن بعد ازاں اس میں تاخیر ہوئی۔ جبکہ یہ واضح نہیں کہ یہ تاخیر محکمہ خارجہ کے اہلکاروں اور وکلاء کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کی وجہ سے ہوئی یا نہیں۔
بعد ازاں یہ پورٹل امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے، جو تجارتی تنازعات، روس یوکرین تنازعہ سے نمٹنے پر اختلاف اور گرین لینڈ پر کنٹرول کے حوالے سے ٹرمپ کی  خواہش کے بعد تاریخی طور پر نچلی سطح پر ہیں۔ اس ویب سائٹ کے ذریعے امریکہ ممکنہ طور پر لوگوں کو مقامی حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی ترغیب دے گا، جس سے روایتی امریکی اتحادی مزید مشتعل ہو سکتے ہیں۔
پورٹل’’ فریڈم گو‘‘ ۱۲؍جنوری کو رجسٹر کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی مواد نہیں ہے، صرف نیشنل ڈیزائن اسٹوڈیو کا لوگو، ’’فلائی، ایگل، فلائی‘‘ کے الفاظ اور ایک لاگ ان فارم دکھائی دیتا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پورٹل کسی تجارتی وی پی این سے کیسے مختلف ہوگا۔حالانکہ یورپی یونین آزادی اظہار کا دفاع کرتی ہے، اور صرف اس مواد کو خارج کرتی ہے جو ’’نفرت انگیز تقریر‘‘ یا انتہائی قدامت پسند پروپیگنڈے کو فروغ دیتا ہے جس نے نازیت کو ہوا دی، جس میں یہودیوں، غیر ملکیوں اور اقلیتوں کی توہین شامل ہے، یہ یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسیز ایکٹ اور برطانیہ کے آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت ہے۔ یہ یورپی یونین اور مسک، زکربرگ اور تھیل جیسی امریکی سلیکون ویلی کمپنیوں کے درمیان تنازع کی ایک وجہ رہا ہے۔اس سے قبل امریکہ نے کہاتھا کہ یورپی یونین اپنی امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے ’’تہذیبی اختتام ‘‘کا سامنا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی مشمولات انسانوں کے ذہنوں میں غلط یادیں بنارہے ہیں: ماہرین کا انتباہ

یاد رہے کہ اس وقت تین قسم کے ڈیجیٹل ماڈل ہیں، امریکی مارکیٹ فرسٹ ماڈل، یورپی یونین کا انسانی مرکوز ریگولیٹری ماڈل اور روس چین کا آمرانہ ڈیجیٹل خودمختاری ماڈل۔ موجودہ محاذ آرائی یورپی یونین کے ریگولیٹرز اور امریکی ٹیک کمپنیوں کے درمیان تصادم کی طرح لگتی ہے۔ یورپی یونین ایک متحد ڈیجیٹل آئی ڈی فریم ورک کے لیے مہم چلا رہی ہے، جسے شہری آزادیوں کے گروپوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ جہاں حکام اسے انسانی مرکوز قرار دے رہے ہیں، وہیں شہری آزادی کے گروپ اسے ’’بیورو مرکوز‘‘قرار دے کر مذمت کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK