• Thu, 15 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: آئی سی ای اور وفاقی پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے

Updated: January 14, 2026, 9:08 PM IST | Washington

مینیاپولیس میں رینی نیکول گڈ نامی امریکی شہری کے آئی سی ای ایجنٹ کی فائرنگ سے قتل کے بعد امریکہ بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ واشنگٹن ڈی سی، نیویارک، لاس اینجلس، پورٹ لینڈ، اور دیگر شہروں میں شہریوں نے وفاقی حکومت، آئی سی ای اور ڈی ایچ ایس کی سخت پناہ گزین پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر انصاف اور احتساب کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں وفاقی ایجنسیوں کی موجودگی کم کرنے، پناہ گزینوں کے حقوق کے تحفظ اور آئی سی ای کی صفائی جیسے مطالبات سامنے آئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

واشنگٹن ڈی سی میں منگل کو سیکڑوں مظاہرین وفاقی پناہ گزین قوانین ’’آئس‘‘ (آئی سی ای) کی سخت کارروائیوں، اور رینی نیکول گڈ کے ساتھ ہوئے بدترین واقعہ کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے۔ انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’یہ وہ ملک نہیں جس میں ہم رہنا چاہتے ہیں‘‘، ’’آئی سی ای کو باہر نکالو‘‘، اور ’’انصاف چاہئے‘‘ جیسے نعروں کے ساتھ وفاقی پالیسیوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ یہ مظاہرے ہفتے بھر جاری احتجاج کا حصہ ہیں جو مینیاپولیس، واشنگٹن ڈی سی، نیویارک سٹی، لاس اینجلس، آسٹن، فلاڈیلفیا، تمپا بے، سانٹا آنا اور دیگر بڑے شہروں میں ہوئے۔ احتجاجی ریلیوں نے وفاقی اداروں کی طرف سے جاری سخت پناہ گزین کارروائیوں اور آئی سی ای ایجنٹس کے ذریعہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایرانیوں سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی، کہا ’مدد راستے میں ہے‘

یاد رہے کہ ان مظاہروں کی شروعات ۷؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو مینیاپولیس میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد شروع ہوئے، جب آئی سی ای کے ایک ایجنٹ نے ۳۷؍ سالہ رینی نیکول گڈ کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ گڈ تین بچوں کی ماں تھیں اور مقامی میڈیا کے مطابق وہ انہیں اسکول چھوڑنے کے بعد اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف تھیں۔ اس واقعہ نے عوامی غم و غصے کو فوری طور پر بھڑکا دیا۔ مینیاپولیس میں مظاہروں کے دوران چند مظاہرین پرتشدد ہو گئے، پراپرٹی کو نقصان پہنچا اور کم از کم ۲۹؍ افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ کچھ پولیس افسران کو معمولی چوٹیں بھی آئی ہیں۔ علاقائی عہدیداروں بشمول مینیاپولیس کے میئر جیکب فری نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور وفاقی جواب پر سخت تنقید کی، جس میں انہوں نے کہا کہ ڈی ایچ ایس کی تشریح حقائق سے متصادم ہے۔
احتجاجات کا دائرہ بڑھتا گیا اور پورے ملک میں ’’آئی سی ای آؤٹ فار گڈ‘‘ کے نام سے ہزاروں مظاہرے کئے گئے، جن میں لاکھوں شہریوں نے حصہ لیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ آئی سی ای کی وفاقی مداخلت، مشتبہ گرفتاریاں اور سخت پناہ گزین قوانین کو ختم کیا جائے۔ واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین نے وہائٹ ہاؤس کے باہر جمع ہو کر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید احتجاج کیا۔ بعض مقامات پر احتجاج زیادہ سخت صورت اختیار کر گئے۔ متعدد معاملات میں مظاہرین پر حملہ کیا گیا جس نے احتجاج کرنے والے گروپوں میں غم و غصے کو مزید بھڑکا دیا۔

یہ بھی پڑھئے: اگر سپریم کورٹ نے ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا تو امریکہ کی حالت ’غیر‘ ہوجائے گی: ٹرمپ

اسی دوران، کچھ امریکی شہروں کے گورنروں نے آئی سی ای ایجنٹس کی قانونی حیثیت پر کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیویارک کی گورنر کٹی ہوچول نے ریاست کے شہریوں کو وفاقی عدالتوں میں آئی سی ای اہلکاروں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اختیار دینے کے لیے قانون سازی کی حمایت کا اعلان کیا۔ اگر منظور ہو گیا تو یہ اقدام وفاقی ایجنٹس کے خلاف ریاستی سطح پر قانونی چارہ جوئی کو ممکن بنائے گا۔ مزید برآں، بعض وفاقی و ریاستی وکلاء نے احتجاجاً اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا، اس اقدام میں مینیاپولیس کے چند وفاقی پراسیکیوٹرز اور دیگر سینئر وکلا شامل ہیں جو آئی سی ا ی پر مناسب تفتیش نہ کرنے پر برہم ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ تحقیقات میں سیاسی مداخلت کی گئی اور ایف بی آئی نے مقامی حکام کو یکسر نظر انداز کردیا۔

دریں اثناء، کانگریس میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں ترقی پسند ڈیموکریٹس نے ڈی ایچ ایس کے بجٹ کو تب تک روکے رکھنے کا اعلان کیا ہے جب تک پناہ گزین پالیسیوں کی اصلاحات، آئی سی ای ایجنٹس کے ماسک نہ پہننے جیسے مطالبات شامل نہ کیے جائیں۔ ان مطالبات میں گرفتاریاں صرف وارنٹ کے ساتھ کرنا اور نجی حراستی مراکز کو ختم کرنا شامل ہیں۔ یہ مظاہرے اس امریکی عوامی غم و غصے اور بنیادی حقوق، پناہ گزین برادریوں کے تحفظ، اور وفاقی پالیسیوں میں اصلاحات کے مطالبے کا عکاس ہیں، جس نے امریکہ کے مختلف شہروں میں گہری بحث اور سیاسی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK