Updated: October 24, 2026, 10:11 PM IST
| London
برطانوی حکومت نے ملک بھر کے گھرانوں سے کہا ہے کہ وہ بجلی بند ہونے، پانی کی فراہمی متاثر ہونے، سائبر حملوں، شدید موسم اور دیگر ہنگامی حالات کے لیے کم از کم ۷۲؍ گھنٹے کی ضروریات گھر میں محفوظ رکھیں۔ نئی ’’بی ریڈی‘‘ مہم میں ہر فرد کے لیے روزانہ کم از کم ۳؍ لیٹر پینے کا پانی، بغیر پکائے کھایا جاسکنے والا محفوظ کھانا، ابتدائی طبی امداد کا سامان، ٹارچ، اضافی بیٹریاں، موبائل پاور بینک، نقد رقم اور ضروری ادویات رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
برطانوی حکومت نے ’’بی ریڈی‘‘ (Be Ready) کے نام سے تین سالہ قومی مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد گھرانوں کو ایسے حالات کے لیے تیار کرنا ہے جب بجلی، پانی، فون، انٹرنیٹ یا روزمرہ اشیا کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوجائے۔ یہ مہم ۲۲؍ اکتوبر کو جاری کی گئی تازہ رہنمائی کا حصہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شہریوں کی ابتدائی تیاری سے ہنگامی خدمات پر دباؤ کم ہوگا اور امدادی ادارے ان افراد تک پہلے پہنچ سکیں گے جنہیں فوری مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ برطانوی وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ نے سائبر حملوں، مخالف ریاستوں کی کارروائیوں اور اہم بنیادی ڈھانچے میں خلل کے خطرات کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ان کے مطابق، اگر کسی بڑے سائبر حملے سے سپر مارکیٹوں کے ادائیگی کے نظام، بینکنگ یا ترسیل کے نیٹ ورک متاثر ہوجائیں تو لوگوں کے لیے روزمرہ ضروریات حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ ایسے حالات میں نقد رقم کی دستیابی، گھر میں پانی اور کھانے کا ذخیرہ، اور تازہ اطلاعات حاصل کرنے کا متبادل ذریعہ اہم ہوجاتا ہے۔ حکومت نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ خطرات سے آگاہ رہیں، لیکن غیر ضروری خوف کا شکار نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت اگلے۲۰؍ برسوں میں معاشی و سماجی اتھل پتھل پیدا کر سکتی ہے: بل گیٹس
حکومت کی سرکاری فہرست کے مطابق، ہر گھر کو کم از کم ۳؍ دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ اس میں ہر فرد کے لیے روزانہ ۳؍ لیٹر پینے کا پانی، یعنی ۳؍ دن کے لیے ۹؍ لیٹر پانی شامل ہے۔ کھانے کے لیے ایسی اشیا رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے جنہیں فریج میں رکھنے یا پکانے کی ضرورت نہ ہو، مثلاً ڈبہ بند گوشت، مچھلی، پھل اور سبزیاں، خشک میوہ جات اور دیگر دیرپا غذائیں۔ اگر گھر میں پالتو جانور ہیں تو ان کے کھانے اور پانی کا انتظام بھی فہرست میں شامل ہے۔ فہرست میں ٹارچ اور اضافی بیٹریاں، کمبل، سلیپنگ بیگ اور گرم کپڑے رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ بجلی بند ہونے کی صورت میں موبائل فون چارج کرنے کے لیے پاور بینک اور خبریں سننے کے لیے بیٹری یا چابی سے چلنے والا ریڈیو رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ پانی کی فراہمی متاثر ہونے پر ہاتھ صاف رکھنے کے لیے سینیٹائزر اور گیلے وائپس مفید ہوسکتے ہیں، جبکہ ابتدائی طبی امداد کے سامان میں پٹیاں، جراثیم کش محلول، تھرمامیٹر اور دیگر بنیادی اشیا شامل ہونی چاہئیں۔
حکومت نے نقد رقم اور اہم دستاویزات کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ اگر بینکوں کے نظام، اے ٹی ایم یا کارڈ سے ادائیگی کی سہولت بند ہوجائے تو نقد رقم سے ضروری اشیا خریدنے میں مدد مل سکتی ہے۔ گھرانوں کو شناختی دستاویزات کی نقول، اہم فون نمبر اور باقاعدگی سے استعمال ہونے والی ادویات کی فہرست کاغذ پر محفوظ رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ جن افراد کو مستقل ادویات درکار ہوتی ہیں، انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ نسخے کی دوبارہ فراہمی کے لیے بروقت درخواست دیں، تاکہ ہنگامی حالات میں دواؤں کی کمی نہ ہو۔ طبی آلات پر انحصار کرنے والے افراد کو ان کے استعمال کی ہدایات کی چھپی ہوئی نقول اور دستیاب اضافی بیٹریاں بھی تیار رکھنی چاہئیں۔ بچوں والے گھرانوں کے لیے ڈائپر، وائپس اور بچے کے دودھ کا انتظام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت نے تیار شدہ، فوری استعمال کے قابل فارمولا دودھ کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ بجلی یا پانی کی بندش کے دوران پانی ابالنے یا بوتلوں کو جراثیم سے پاک کرنے میں مشکل پیش آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ گھرانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پڑوسیوں سے رابطہ رکھیں، خاص طور پر ان بزرگوں یا ایسے افراد کے بارے میں معلوم کریں جنہیں بجلی یا پانی کی بندش کے دوران اضافی مدد کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین: زیتون کی کٹائی کے موسم میں یہودی آباد کاروں کے حملے بڑھ گئے
حکومت کی یہ مہم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ کو کئی طرح کے خطرات کا سامنا ہے۔ رواں موسمِ گرما میں شدید گرمی، خشک سالی اور جنگلاتی آگ کے واقعات نے زراعت اور خوراک کی فراہمی کے بارے میں تشویش بڑھائی ہے۔ زرعی شعبے کے نمائندوں نے بھی خشک موسم کے اثرات پر خبردار کیا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فصلوں کو نقصان پہنچنے سے خوراک کی فراہمی متاثر اور بیرونی درآمدات پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، ممکنہ غذائی قلت سے متعلق یہ خدشات ہیں، نہ کہ اس بات کا ثبوت کہ ملک میں فوری طور پر خوراک ختم ہونے والی ہے۔ سائبر حملوں کے خدشات بھی اس مہم کے اہم پس منظر میں شامل ہیں۔ ۲۲؍ اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس اور بعض سرکاری خدمات میں سائبر سیکوریٹی کے ایک مسئلے کے بعد خلل پڑا تھا۔ حکام اور کمپنیوں نے اپنے نظام محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ظاہر کیا کہ ڈجیٹل خدمات پر بڑھتے انحصار کے باعث کسی بڑے تکنیکی مسئلے کے اثرات ادائیگی، رابطے اور ضروری سامان کی فراہمی تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، برطانوی حکومت کی ’’بی ریڈی‘‘ مہم صرف سائبر حملوں کے لیے نہیں؛ اس میں شدید موسم، سیلاب، بجلی کی بندش اور دیگر ہنگامی حالات بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اب انٹرنیٹ پر خوشبو بھیجنا بھی ممکن، سائنسدانوں کی نئی اور انوکھی ٹیکنالوجی
سرکاری رہنمائی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام سامان ایک ہی وقت میں خریدنا ضروری نہیں۔ گھرانوں کو پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے پاس پہلے سے کیا موجود ہے، پھر معمول کی خریداری کے دوران ایک یا دو اضافی اشیا جمع کرکے آہستہ آہستہ تیاری مکمل کریں۔ ہر ۶؍ ماہ بعد سامان کی میعاد اور گھر کے افراد کی ضروریات کا جائزہ لینے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ہر گھر کی مالی حالت اور ضروریات مختلف ہوتی ہیں؛ اس لیے بنیادی ضروریات پوری کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی استطاعت کے مطابق تیاری کرنا اس مہم کا اہم اصول ہے۔