امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی اور امیگریشن حکام کے اقدامات کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے پالیسی کو غیر انسانی قرار دیا۔
EPAPER
Updated: January 21, 2026, 7:03 PM IST | Washington
امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی اور امیگریشن حکام کے اقدامات کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے پالیسی کو غیر انسانی قرار دیا۔
امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہوئے جن میں ہزاروں کارکنوں، طلبہ، اساتذہ، مزدور یونینز اور انسانی حقوق کے حامیوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت کی جانب سے غیر دستاویزی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریوں اور ملک بدری کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ خیال رہے کہ یہ مظاہرے ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے ایک سال مکمل ہونے پر کیے گئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو مزید سخت کر دیا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی، نیویارک، کلیولینڈ، سانتا فی اور دیگر شہروں میں مظاہرین نے ریلیاں نکالیں اور وفاقی امیگریشن ایجنسی آئی سی ای کے کردار پر سوال اٹھائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ موجودہ پالیسیاں خوف، عدم تحفظ اور نسلی امتیاز کو فروغ دے رہی ہیں۔
The National #AbolishICE protest (#IceOutForGood) brought hundreds of thousands of Americans to the streets today, protesting Trump, JD Vance, Kristi Noem and all Republicans who support the most recent ICE murder of #ReneeGood.#TrumpisaNationalDisgrace pic.twitter.com/IZ1mVtQmP6
— BigBlueWaveUSA2026® 🇺🇸🌊🇺🇦 (@BigBlueWaveUSA) January 11, 2026
احتجاج کا ایک اہم سبب منیاپولیس میں پیش آنے والا وہ واقعہ بھی بتایا جا رہا ہے جس میں ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد امیگریشن اہلکاروں کے طرزِ عمل پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ مظاہرین کے مطابق ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امیگریشن پالیسی پر عمل درآمد کے دوران طاقت کا غیر ضروری استعمال ہو رہا ہے۔ یونیورسٹی کیمپسز میں بھی طلبہ نے کلاسیز کا بائیکاٹ کیا اور ’’اسٹاپ آئی سی ای‘‘ کے عنوان سے ریلیاں نکالیں۔ طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ امیگریشن حراستی مراکز میں حالات تشویشناک ہیں اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حراستی مراکز بند کیے جائیں اور تارکینِ وطن کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر غور، امریکی فوجی تیاری تیز
مظاہروں کی قیادت کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت عوامی مینڈیٹ کے نام پر سخت فیصلے کر رہی ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ بڑی تعداد میں امریکی شہری ان پالیسیوں سے متفق نہیں۔ ان کے مطابق امیگریشن ایک انسانی مسئلہ ہے، جسے صرف قانون نافذ کرنے کے زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ سخت امیگریشن اقدامات قومی سلامتی اور قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق غیر قانونی امیگریشن روکنا اور قوانین پر سختی سے عمل کرانا عوامی مفاد میں ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں امریکہ کی روایتی اقدار اور مہاجر دوست تشخص سے متصادم ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج آنے والے مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں اور امیگریشن کا معاملہ امریکی سیاست کا ایک مرکزی موضوع بن کر ابھر سکتا ہے، جس کے اثرات انتخابات اور پالیسی سازی دونوں پر پڑنے کا امکان ہے۔