• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف ملک گیر احتجاج

Updated: January 21, 2026, 7:03 PM IST | Washington

امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی اور امیگریشن حکام کے اقدامات کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے پالیسی کو غیر انسانی قرار دیا۔

A scene from nationwide protests against Trump`s immigration policy. Photo: X
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہوئے جن میں ہزاروں کارکنوں، طلبہ، اساتذہ، مزدور یونینز اور انسانی حقوق کے حامیوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت کی جانب سے غیر دستاویزی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریوں اور ملک بدری کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ خیال رہے کہ یہ مظاہرے ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے ایک سال مکمل ہونے پر کیے گئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو مزید سخت کر دیا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی، نیویارک، کلیولینڈ، سانتا فی اور دیگر شہروں میں مظاہرین نے ریلیاں نکالیں اور وفاقی امیگریشن ایجنسی آئی سی ای کے کردار پر سوال اٹھائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ موجودہ پالیسیاں خوف، عدم تحفظ اور نسلی امتیاز کو فروغ دے رہی ہیں۔

احتجاج کا ایک اہم سبب منیاپولیس میں پیش آنے والا وہ واقعہ بھی بتایا جا رہا ہے جس میں ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد امیگریشن اہلکاروں کے طرزِ عمل پر شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ مظاہرین کے مطابق ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امیگریشن پالیسی پر عمل درآمد کے دوران طاقت کا غیر ضروری استعمال ہو رہا ہے۔ یونیورسٹی کیمپسز میں بھی طلبہ نے کلاسیز کا بائیکاٹ کیا اور ’’اسٹاپ آئی سی ای‘‘ کے عنوان سے ریلیاں نکالیں۔ طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ امیگریشن حراستی مراکز میں حالات تشویشناک ہیں اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حراستی مراکز بند کیے جائیں اور تارکینِ وطن کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر غور، امریکی فوجی تیاری تیز

مظاہروں کی قیادت کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت عوامی مینڈیٹ کے نام پر سخت فیصلے کر رہی ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ بڑی تعداد میں امریکی شہری ان پالیسیوں سے متفق نہیں۔ ان کے مطابق امیگریشن ایک انسانی مسئلہ ہے، جسے صرف قانون نافذ کرنے کے زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ سخت امیگریشن اقدامات قومی سلامتی اور قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق غیر قانونی امیگریشن روکنا اور قوانین پر سختی سے عمل کرانا عوامی مفاد میں ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں امریکہ کی روایتی اقدار اور مہاجر دوست تشخص سے متصادم ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج آنے والے مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں اور امیگریشن کا معاملہ امریکی سیاست کا ایک مرکزی موضوع بن کر ابھر سکتا ہے، جس کے اثرات انتخابات اور پالیسی سازی دونوں پر پڑنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK