Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوتکیاجویک، الاسکا: ۸۴؍ دن تک سورج غروب نہیں ہوگا

Updated: May 11, 2026, 9:58 PM IST | Utqiagvik

یوتکیاجویکUtqiagvik میں سورج ۱۰؍ مئی کو آخری مرتبہ افق سے نیچے گیا، جس کے بعد اب اگست کے آغاز تک یہاں مسلسل دن کی روشنی رہے گی۔ امریکہ کے شمالی ترین قصبے میں واقع یہ منفرد قدرتی مظہر ’’مڈ نائٹ سن‘‘ کہلاتا ہے، جہاں گرمیوں میں سورج تقریباً دو ماہ تک غروب نہیں ہوتا۔ آرکٹک اوقیانوس کے کنارے آباد اس قصبے میں سردیوں میں اس کے برعکس کئی ہفتوں تک سورج طلوع نہیں ہوتا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

یوتکیاجویک، جو پہلے بیرو کے نام سے جانا جاتا تھا، ایک بار پھر اپنے منفرد قدرتی مظہر کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اتوار ۱۰؍  مئی کو مقامی وقت کے مطابق صبح ایک بجکر ۴۸؍ منٹ پر سورج غروب ہوا اور صرف ایک گھنٹے بعد ۲؍ بجکر ۵۷؍ پر دوبارہ طلوع ہو گیا۔ یہ اس سال کا آخری غروبِ آفتاب تھا، کیونکہ اب اس قصبے میں اگست کے آغاز تک سورج افق سے نیچے نہیں جائے گا۔ امریکہ کے شمالی ترین قصبے کے طور پر معروف یوتکیاجویک آرکٹک اوقیانوس کے کنارے واقع ہے، جہاں سال بھر دن اور رات کے دورانیے میں انتہائی غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی جاتی ہیں۔

گرمیوں کے موسم میں یہاں ’’مڈ نائٹ سن‘‘ یا آدھی رات کے سورج کا مظہر دیکھنے کو ملتا ہے، جبکہ سردیوں میں کئی ہفتوں تک سورج طلوع ہی نہیں ہوتا۔ رپورٹس کے مطابق اس سال ۲۴؍ گھنٹے مسلسل دن کی روشنی ۲؍  اگست تک جاری رہے گی۔ اس کے بعد سورج پہلی مرتبہ دوبارہ افق سے نیچے جائے گا، تاہم مکمل اندھیرا فوری طور پر واپس نہیں آئے گا کیونکہ سورج کئی ہفتوں تک افق کے قریب رہے گا، جس سے گودھولی جیسی روشنی برقرار رہے گی۔ حقیقی رات کا اندھیرا ۲۱؍ ستمبر کے آس پاس واپس آئے گا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ، یوم مادر: بھوک، سوگ اور لاپتہ بچے، فلسطینی ماؤں کا دن بے یقینی کے سائے میں

تقریباً پانچ ہزار آبادی والے اس قصبے کے رہائشی ان موسمی انتہاؤں کے عادی ہیں۔ اگرچہ مسلسل سورج کی روشنی سننے میں گرمیوں جیسا احساس دیتی ہے، لیکن حقیقت میں یہاں موسم اب بھی انتہائی سرد رہتا ہے۔ جولائی، جو یہاں کا نسبتاً گرم ترین مہینہ سمجھا جاتا ہے، میں بھی اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً ۴۹؍ فارن ہائیٹ رہتا ہے۔ تاہم بعض اوقات مختصر گرم لہروں کے دوران درجہ حرارت ۷۰؍  فارن ہائیٹ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شدید شمالی محل وقوع کی وجہ سے موسم گرما میں بھی برف باری ناممکن نہیں۔ گزشتہ سال جون کے مہینے میں یہاں سات دن تک برف گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ماہرین کے مطابق یہ قدرتی مظہر زمین کے محور کے تقریباً ۵ء۲۳؍ درجے جھکاؤ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب شمالی نصف کرہ سورج کی طرف جھکا ہوتا ہے تو آرکٹک سرکل کے اندر واقع علاقوں میں سورج مکمل طور پر غروب نہیں ہوتا۔ اسی طرح سردیوں میں یہی علاقے مسلسل اندھیرے کا سامنا کرتے ہیں کیونکہ سورج افق کے اوپر نہیں آ پاتا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل پر مکمل کنٹرول پرغور

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آرکٹک خطے میں موسمیاتی تبدیلیاں بھی تیزی سے اثر انداز ہو رہی ہیں، جس کے باعث درجہ حرارت، برفانی حجم اور موسمی پیٹرنز میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود، یوتکیاجویک اب بھی دنیا کے ان منفرد مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرتی روشنی اور تاریکی کے انتہائی مظاہر انسانی زندگی کا مستقل حصہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK