Inquilab Logo Happiest Places to Work

پونے: نوجوانوں کی گرفتاریوں کا خدشہ، مقامی باشندوں میں بے چینی

Updated: June 14, 2026, 10:55 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

کدال واڑی اور چکھلی میں مساجد کی شہادت کے دوران پیش آئے پتھرائو کے معاملے میں پولیس کی مہم جاری۔

A collapsed place of worship. Photo: INN
ایک منہدم عبادتگاہ۔ تصویر: آئی این این

پونے کے کڈال واڑی اور چکھلی علاقوں میں مساجد کی شہادت کے دوران ہوئی پتھر بازی کے الزام میںاب تک ۳۶؍ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ محض  ۳۶؍ نوجوانوں کی گرفتاری پر ہی یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے، ۳۰۰؍ نوجوانوں کو گرفتار کیا جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ پولیس اہلکار اور اسپیشل برانچ کے افسران مسلسل گشت کررہے ہیں، اس کی وجہ سے مقامی لوگ خوفزدہ ہیںاورکچھ اپنےگھروں سے چلے گئے ہیں۔ یادرہےکہ چشتیہ مسجد ، ابوہریرہ مسجد، مسجد نعیم ، مسجد علی اورخدیجہ مسجد کوہ نو رکالونی کدال واڑی کو شہید کرنے کےدوران نوجوان بھڑک گئے تھے۔

مقامی لوگوں میں گرفتاری کا خوف  

مقامی لوگوںکا کہنا تھا کہ پولیس کی کارروائی سے مقامی مسلمانوں میں زبردست خوف وہراس ہے۔پولیس رات کے وقت دروازوں پر دستک دیتی ہے۔اس کی وجہ سے   لوگ بہت زیادہ خائف ہیں۔اس تعلق سےڈاکٹر سعیداحسن قادری نےانقلاب کو بتایا کہ ’’ یہ بالکل درست ہے کہ لوگ بہت زیادہ خوف زدہ ہیں،انہیں یہ اندیشہ رہتا ہے کہ پولیس کسی بھی وقت آکر ان کویا ان کےبچوں کو گرفتار کرلے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ علاقے جہاں چوراہوں اورنکڑوں پر رات میں دیر تک لوگ موجود رہتے تھے، اب سناٹا چھایا رہتا ہے،حتیٰ کہ چائے خانوں پر بھی اکا دکا لوگ نظرآتے ہیں۔‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایا کہ ’’ پولیس کمشنر کے ہمراہ میٹنگ ٹلنے کا سبب بھی یہی ہے ۔ قیاس ہے کہ مزید گرفتاریوں کیلئے ہی یہ میٹنگ پیر تک ٹالی گئی ہے ۔ اگر افسران کو واقعی غیرقانونی عبادت گاہوں کے خلاف کارروائی کرنی تھی جیسا کہ دعویٰ کیا جا رہا تھا تو اس کیلئے رات کا وقت کیوں منتخب کیا گیا ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کارروائی کے تئیں کارپوریشن کو خود پس وپیش تھا اور افسران کو یہ یقین نہیںتھا کہ ان کی کارروائی درست ہے ؟‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ہمیں مزاحمتی راہ اختیار کرنی ہوگی کیوں کہ الیکشن آزاد و منصفانہ نہیں ہوں گے‘‘

شہاب الدین شیخ  (مسلم جماعت پمپری ) نے بتایا کہ ’’ یہ حقیقت ہے کہ لوگوں میں بہت زیادہ خوف وہراس ہے کیونکہ  ۳۰۰؍ سے زائدنوجوانوں کی گرفتاری کا اندیشہ ہے۔پولیس نے یہ میڈیا کےسامنے بھی کہا ہے ۔  اس تعلق سے ہم نےخود چکھلی کے سینئر انسپکٹر وٹھل سالونکھے سے بات چیت کی ۔ ‘‘ 

شہاب الدین شیخ نے مزید بتایا کہ ’’ سنیچر کو پولیس کمشنر کے ہمراہ ہونے والی میٹنگ ان کی مصروفیت کے سبب ملتوی کردی گئی، اب پیر کی دوپہر کو میٹنگ ہوگی۔حالانکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ میٹنگ ٹالنے کا سبب مزیدگرفتاری کرنا بھی ہوسکتا ہے لیکن اس کی وضاحت نہیں کی جارہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ابھیشیک بنرجی کے مکان پر چھاپہ

چکھلی تھانے کےسینئرانسپکٹر سالونکھے نے کیا کہا

چکھلی تھانہ ،جس کی حدود میں مذکورہ علاقے ہیں اور نوجوانوں کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں ، سینئر انسپکٹر وٹھل سالونکھے نے انقلاب کے استفسار پر بتایا کہ ’’ یہ درست ہے کہ ۳۰۰؍ نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آسکتی ہے، یہ تعداد کم بھی ہوسکتی ہے اور زیادہ بھی۔اس کے لئے تفتیش کی جارہی ہے۔‘‘ انہوں نےبتایاکہ’’ ڈرون کیمروں ،سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کے ذریعے لی گئی تصاویر میں جو لوگ نظرآرہے ہیںان کی شناخت کی جارہی ہے ۔ ان کی شناخت کے دوطریقے ہیں۔ اول یہ دیکھاجارہا ہے کہ کون لوگ ملوث ہیں اور دوسرے یہ کہ جرم کرنے والوں کےساتھ کون کون شامل تھے، ان کوپوچھ تاچھ کیلئے لایاجائےگا اورجو بھی ملوث ہوں گے ان کی گرفتاری ہوگی مگر کسی بے قصور کو نہیںپکڑا جائے گا۔‘‘ سینئرانسپکٹرنے اس کی تردید کی کہ پولیس رات میں دروازوں پردستک دیتی ہے اور کسی بھی وقت پہنچ جاتی ہے مگریہ ضرور کہاکہ جو لوگ ملوث تھے، سرگرمی سے ان کی تلاش جاری ہے، ان کے خلاف کارروائی بہرحال کی جائے گی۔‘‘  یاد رہے کہ کارپوریشن کی انہدامی کارروائیوں پر عدالت نے فی الحال اسٹے دیدیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK