مہاراشٹر کے مختلف مقامات سے ہزاروں لیٹر ضبط کیا گیا ہے جسے کیمیکل کی مدد سے تیار کیا گیا تھا اور گائے یا بھینس کے نام سے بیچا جا رہاتھا، طبیلوں میں بھی یہی ہو رہا تھا۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 10:47 AM IST | Mumbai
مہاراشٹر کے مختلف مقامات سے ہزاروں لیٹر ضبط کیا گیا ہے جسے کیمیکل کی مدد سے تیار کیا گیا تھا اور گائے یا بھینس کے نام سے بیچا جا رہاتھا، طبیلوں میں بھی یہی ہو رہا تھا۔
حال ہی میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ٹیم نے ستارا کے پلٹن علاقے میں ایک طبیلے پر چھاپہ مارا تھا جہاں سے لوگ بظاہر گائے کا دودھ خریدا کرتے تھے لیکن جب ایف ڈی اے کی ٹیم وہاں پہنچی تو معلوم ہوا کہ طبیلے میں نہ گائے نام کی کوئی چیز ہے نہ ہی کوئی بھینس ہے لیکن ہزاروں لیٹر دودھ موجود ہے اور اس دودھ کو تیار کرنے کیلئے کیمیکل اور دیگر لوازمات وہاں پڑے ہوئے ہیں۔ عام طور پر لوگ ’خالص‘ دودھ کی خاطر اپنے محلے کی دکان کو چھوڑ کر طبیلے میںجا کر قطار لگاتے ہیں لیکن پلٹن میں طبیلے ہی میں جعلی دودھ تیار کیا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ممبرا میں عوام کیلئے ریزرو پلاٹ بلڈروں کے سپر د کئے جا رہے ہیں‘‘
مگر یہ صرف پلٹن میں ہونے والا معمولی جرم نہیں ہے بلکہ ریاست کے مختلف اضلاع میں اس طرح کا ملاوٹی اور زہریلا کاروبار بلا روک ٹوک جاری ہے۔ یہ تو بھلا ہو اپنے تبادلوں کیلئے مشہور آئی اے ایس افسر تکارام منڈے کا جنہیں کچھ عرصہ پہلے ایف ڈی اے کا کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے آتے ہی ریاست بھر میں کھانے پینے کی اشیاء اور اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورس کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا ہے۔ ایف ڈی اے کے چھاپوں ہی سے معلوم ہوا کہ ریاست میں کس قدر بڑے پیمانے پر زہریلا دودھ تیار کرنے اور فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عوام اس سے بے خبر ہیں اور انتظامیہ لاپروا۔ ستارا سے قبل اورنگ آباد کے پھولمبری میں ایف ڈی اے نے ساڑھے ۳؍ ہزار لیٹر مشتبہ دودھ اور دودھ کا پاؤڈر ضبط کیا تھا جس کی قیمت ایک لاکھ ۳۲؍ ہزار روپے تھی۔دودھ کے اس ذخیرے کو تلف کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پربھنی ضلع کے پورنا شہر میں بھی دودھ میں ملاوٹ کا ایک حیران کن معاملہ سامنے آ چکا ہے۔ یہاں ایف ڈی اےکوشکایت ملی تھی کہ دکان سے دودھ خرید کر لانے کے بعد جب اسے چولہے پر گرم کیا گیا تو یہ ربڑ کی طرح سخت ہو گیا۔ایف ڈی اے نے اس دکان پر چھاپہ مارا جہاں سے اسے خریدا گیا تھا تو معلوم ہوا کہ یہ دودھ نقلی تھا۔ اسی طرح ایف ڈی اے نے لاتور کے کلاری تعلقے میں ایک جگہ چھاپہ مار کر ملاوٹی دودھ اور دودھ کا پاؤڈر ضبط یہاں سے کل ۷؍ ہزار ۵۰۰؍ لیٹر ملاوٹی دودھ بر آمد ہوا تھا جو سیکڑوں لوگوں کو زہر فراہم کرنے کا باعث ہو سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر پر طلبہ پر لاٹھی چارج کی مذمت، این سی پی (شرد ) کا ریاست گیر احتجاج
دریں اثنا، شرڈی کے ساولی وہیر نامی گاؤں میں، ایف ڈی اے نے ایک دودھ سینٹر ( جہاں کسان دودھ لاکر فروخت کیلئے جمع کرتے ہیں) پر چھاپہ مارا اور جانچ کے بعداس سینٹر کا لائسنس منسوخ کر دیا۔وجہ یہ تھی کہ اس سینٹر کے پاس دودھ کے ۲۲؍ ایسے ٹینکر تھے جنہیں (معیار کی جانچ کے بعد) مسترد کر دیا گیا تھا لیکن سینٹر نے ان کے مسترد کئے جانے کا اندراج نہیں کیا تھا۔ یعنی نقصاندہ ہونے کے باوجود ان ٹینکروں کے دودھ کے فروخت ہونے کا اندیشہ تھا۔ یہ چند واقعات ہی بتادیتے ہیں کہ ریاست میں ملاوٹی اور نقصاندہ دودھ کی فروخت عام بات ہے۔ آئے دن ایف ڈی اے کےچھاپوں اور دودھ کے ضبط ہونے کی خبروں نے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ گزشتہ دنوں قانون ساز اسمبلی میں بھی دودھ میں ملاوٹ کا معاملہ زیر بحث آیا۔ وزیر برائے غذا و ادویات نرہری زروال نے واضح کیا کہ عام آدمی کی صحت سے کھلواڑ کرنے والے ملاوٹ مافیا کو بخشا نہیں جائے گا۔ یاد رہے کہ کھانے میں ملاوٹ ثابت ہونے پر ایک لاکھ روپے سے لے کر سزائے موت تک کی سزا کا التزام ہے ۔ نرہری زروال نے کہا کہ اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ٹینڈر کے پیسوں پر تکبر دکھانے والوں کو برداشت نہیں کریں گے‘‘
یاد رہے کہ دودھ چھوٹے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک سب کی غذا کا ایک اہم حصہ ہے۔ شروع میں دودھ میں پانی ملانے کو جرم سمجھا جاتا تھا جو دھیرے دھیرے عام بات ہو گئی۔ اب منافع کی لالچ میں لوگ اس میں کیمیکل ملا رہے ہیں ۔ حیران کن طریقے سے یہ کاروبار بھی اب عام ہوتا جا رہا ہے۔ ایف ڈی اے کی لگاتار کارروائیوں سے اس کا پردہ فاش تو ضرور ہوا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایف ڈی اے اسے انجام تک پہنچا پاتا ہے یا ایک اور ’تبادلے‘ کے بعد یہ سلسلہ پھر رک جائے گا۔