ٹیکے مہاراشٹر پہنچ گئے، سنیچر سے ٹیکہ کاری مہم کا باقاعدہ آغاز

Updated: January 14, 2021, 9:48 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

پہلے مرحلے میں طبی شعبے کے کارکنوںکو ٹیکہ دیا جائےگا، وزیروں اور عوامی نمائندوں کو سب سے آخر میں ٹیکہ لینے کا مشورہ

Rajesh Tope - Pic : INN
راجیش ٹوپے ۔ تصویر : آئی این این

ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح  مہاراشٹر بھی کورونا کی ٹیکہ کاری مہم کیلئے پوری طرح تیار ہوگیاہے۔ وزیر صحت راجیش ٹوپے نے بتایا ہے کہ ریاست کو ۹؍ لاکھ ۸۳؍ ہزار ’کووی شیلڈ ‘  اور ’کوویکسین ‘ٹیکے موصول ہوگئے ہیں۔ انہیں  ریاست کے ۸؍ مراکز  کو خصوصی ڈبوں میں رکھ کر وین کے ذریعے بھیجا جارہا ہے۔ ۳۵۸ ؍مراکز سے ٹیکہ کاری کی جائے گی۔
 ریاست کو پہلے مرحلے میں ۱۷؍ لاکھ ٹیکے درکار
 ٹیکہ دینے کی یہ مہم ۱۶؍ جنوری کو وزیر اعظم کے ذریعے آن لائن  افتتاح کے بعدشروع کی جائے گی۔ مرکزی کی گائیڈ لائن کے مطابق پہلے مرحلے میں صرف ہیلتھ ورکرز کو ہی یہ ٹیکے دیئے جائیں گے ۔ ٹیکہ کاری کیلئے اب تک تقریباً ۸؍ لاکھ ہیلتھ ورکرز کارجسٹریشن  ہوا ہے۔
  راجیش ٹوپے نے بتایا کہ’’ یہ اطمینان   کی بات ہے کہ مہاراشٹر میں سیرم  انسٹی ٹیوٹ کے ۹؍ لاکھ۶۳ ؍ ہزار ٹیکے اور بھارت بایو ٹیک کے ۲۰؍ ہزار ٹیکے آئے ہیں۔  پہلے مرحلے میں ۷؍ لاکھ ۸۰؍ ہزار  ہیلتھ ورکروں نے اپنا اندراج کیا ہے۔ ہر شہری کو ۲؍ ڈوس دیئے جائیں گے۔اس طرح اگر ٹیکہ کاری کے دوران  ۱۰؍فیصدٹیکے ضائع بھی ہوتے ہیں تو بھی  تقریباً ۱۷؍ لاکھ ٹیکے درکار ہوں گے ۔ان میں سے ۹؍ لاکھ ۶۳؍ہزار ٹیکے موصول ہوئے ہیں۔یعنی ۵۵؍ فیصد ٹیکے ملے ہیں۔ مرکز کی ہدایت ہے کہ ہر شہری کو ایک ایک ٹیکہ دینے کی بجائےجنہیں ٹیکے دیئے جارہے ہیں انہیں ۲؍ ٹیکے دیئے جائیں ۔ ان ۲؍ ٹیکوں کے درمیان ۴؍ تا ۶؍ ہفتوں کا وقفہ ہوگا۔‘‘
ریاست میں ۳۵۰؍مراکز ہوں گے
 وزیر صحت راجیش ٹوپے کے مطابق  ٹیکہ کاری کیلئے ریاست میں ۵۱۱؍ مراکز قائم کرنے کی تجویز تھی لیکن بدنظمی سے بچنے کیلئے ان مراکز کو کم کر کے فی الحال ۳۵۰؍ کیاگیا ہے۔ ہر مرکز پر ۱۰۰؍ لوگوں کو ٹیکہ دیا جائے گا۔  

  اس طرح پہلے ہی دن ۳۵؍ ہزار افراد کوٹیکہ  دینا کا ہمارا ہدف  ہے۔مرکز نے رہنمائی کی ہےکہ ٹیکہ کاری میں جلد بازی نہ کی جائے اور معمول کے کاموں کے ساتھ ٹیکہ کاری کو انجام دیاجائے اسی اعتبار سے  ہم نے منصوبہ بنایا ہے کہ ۳۰؍ یا اس سے چند روز زیادہ دنوں میں پہلے مرحلے کی ٹیکہ کاری مکمل کر لی جائےگی۔ٹیکہ دینے سے شہری کو کوئی پریشانی تو نہیں ہوتی ا س کی جانچ کیلئے ٹیکہ دینے کے بعد ۳؍ الگ الگ ہال میں شہریوں کو ۱۵؍ منٹ تا آدھے گھنٹہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا جائے گا۔‘‘
کس کس کو ٹیکے دیئے جائیں گے 
  ریاستی وزیر صحت کے مطابق’’ ٹیکہ کاری کے پہلے مرحلے  میں صرف ہیلتھ ورکرز کو  ٹیکے لگائے جائیں گے ۔ ان کے بعد فرنٹ لائنر (جن میں پولیس  اہلکار،لازمی اشیاء کی خدمات دینے والے میونسپل کارپوریشن اور نگر پالیکا کے ملازمین شامل ہیں) اور ان کے بعد مختلف بیماریوں میںمبتلا مریضوں کو ٹیکے دیئے جائیں گے ، ان کے بعد عام شہریوں کو ٹیکے دینے کی مہم شروع کی جائے گی۔ہم مرکزی حکومت کے محکمہ صحت سے درخواست کریں گے کہ انتہائی نازک حالت  کے مریضوں کو ٹیکہ دینے کی اجازت دی جائے۔‘‘ انہوںنے کہا کہ’’ہم نے مرکزی حکومت سے درخواست کی ہےکہ ٹیکے بروقت مہیا کرائیں اور اس کا مکمل خرچ بھی برداشت کریں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت صد فیصد شہریوں کو ٹیکہ دینے کا نظم کرے۔اس ٹیکہ کاری میں ریاستی حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ اس مطالبے پر مرکز نے یہی جواب دیا کہ جب ۶۰؍ فیصد ٹیکہ کاری مکمل کر لی جائے گی ۔اس کے بعد آگے کی حکمت عملی ظاہر کی جائے گی۔ اس طرح کوئی یقینی بات کرنے سے ٹال مٹول کیاہے۔‘‘
۳؍ طرح کے شہریوں کو ٹیکہ نہ دینے کی گائیڈ لائن 
 ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت نے کہا کہ’’ مرکز کی گائیڈ میں ۳؍ طرح کے شہریوں کو ٹیکہ نہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان میں ۱۸؍ سال سے کم شہری، حاملہ  اور وہ شہری جنہیں سنگین الرجی  ہے  انہیں ٹیکہ نہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘
وزرا ءاور عوامی نمائندے  آخر میں ٹیکہ لیں
 وزراء اور عوامی نمائندوں کو ٹیکہ دینے سے متعلق سوال پرراجیش ٹوپے نے کہا کہ ’’ یہ صحیح ہےکہ عوامی نمائندے جو ۳؍ تا ۴؍ لاکھ شہریوں کی نمائندگی کرتے ہیں وہ اہم شخصیت ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ چونکہ ہم عوام کے نمائندے ہیں اس لئے ہمیں پیچھے رہ کر پہلے ہیلتھ ورکر، فرنٹ لائنر، کووڈ یودھا  ، متعدد بیماریوں میں مبتلا مریض اور عوام کو ٹیکہ دینا چاہئے اور ان کے بعد عوامی نمائندوں کو ٹیکہ لینا چاہئے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK