مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن بل۲۰۲۶ء آئینی حقوق اور اقلیتی خدشات پر سمینار کا انعقاد۔ بامبے ہائیکورٹ کے سبکدوش جسٹس ابھے تھپسے سمیت دیگر مقررین نے اس بل کے نقائص اور اس کی آڑ میں اقلیتوں پر شکنجہ کسنے کی حکومت کی سازش پر روشنی ڈالی۔ بل کی کئی شقوں کو انتہائی خطرناک بتایا۔
اندھیری کے میئر ہال میں منعقدہ پروگرام کے اہم شرکاء دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن بل۲۰۲۶ء کے تعلق سے اندھیری کے میئر ہال میں ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ مقررین نے اس بل کی شقوں کا جائزہ لیتے ہوئے اسکی روشنی میں اظہار خیال کیا۔ اس مذاکرے کا اہتمام یونائٹیڈ اگینسٹ ان جسٹس اینڈ ڈسکریمنیشن اور اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے اشتراک سے منگل کی شب میں کیا گیا تھا۔
’’ حکومت ظاہر کچھ کرتی ہے عمل کچھ اور‘‘
اس تعلق سے بامبے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ابھے تھپسے نے اپنے صدارتی خطاب میں قانون کی روشنی میں بتایا کہ ’’آئینِ ہند ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا مکمل حق دیتا ہے، لیکن حکومت کی یہ روایت بن چکی ہے کہ وہ ظاہر کچھ اور کرتی ہے اور عملا کرتی کچھ اور ہے۔ اس تعلق سے انہوں نے مذکورہ بل کے تناظر میں کہا کہ مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن بل۲۰۲۶ء کا نام تو بظاہر مذہبی آزادی رکھا گیا ہے، لیکن اس کا اصل مقصد مذہب پر سخت پابندیاں عائد کرنا اور اقلیتوں کو دبانا ہے۔ جسٹس ابھے تھپسے کے مطابق جب قانون کی زبان مبہم ہو جائے تو وہ تحفظ کے بجائے تشویش کا سبب بن جاتی ہے اور یہی ابہام سماجی تانے بانے اور باہمی رواداری کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قرض معامی اسکیم کیخلاف کسانوں کا احتجاج، ایس ٹی میں آگ لگائی
’’ یہ بل انتہائی عجلت میں محض۷۲؍ گھنٹے میں لایا ‘‘
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معروف قانون داں ایڈوکیٹ لارا جیسانی نے بل کی دفعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ آج ملک میں ہیٹ کرائم کو منظم طریقے سے فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس بل کی شقیں اتنی مبہم ہیں کہ ترغیب کی آڑ لے کر تعلیم، شادی، چیریٹی، روزگار اور بالخصوص اقلیتی اسکولوں کی امدادی سرگرمیوں کو بھی جرم کے زمرے میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قانون کے تحت شادی کے نام پر یا لالچ دے کر تبدیلیِ مذہب پر۱۰؍ سال تک کی سزا اور۵؍ لاکھ روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔ مزید برآں، کوئی بھی تیسرا شخص یا پولیس خود اپنی مرضی سے ایف آئی آر درج کرا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بیٹے کو کانگریس کی حمایت، باپ مہایوتی میں شامل، پارٹی میں ناراضگی
ایڈوکیٹ لارا جسانی کے مطابق سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس بل میں بے گناہی کا ثبوت دینے کی ذمہ داری ملزم پر ڈال دی گئی ہے جو شہریوں کو سالوں تک بغیر جرم ثابت ہوئے جیلوں میں رکھنے کی ایک سنگین آئینی سازش معلوم ہوتی ہے۔’پولیس ریفارمز واچ‘ اور بامبے کیتھولک سبھا کے ترجمان ڈولفی ڈیسوزا نے یہ حیران کن انکشاف کیا کہ اس حساس بل کا مسودہ محض۷۲؍ گھنٹوں کے اندر بغیر کسی عوامی مشاورت کے خفیہ طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اس لئے اکثریت اور اقلیت سب کو مل کر اس ’ڈیوائڈ اینڈ رول‘ (تقسیم کرو اور حکومت کرو) کی سیاست کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس بل کے خلاف پہلے بھی صدائے احتجاج بلند کی گئی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ اس بل کی درحقیقت کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔جماعت اسلامی ہند کے مرکزی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ ایمان اور آستھا دل کا معاملہ ہے جسے قوانین کے ذریعے بدلا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے مولانا عمر گوتم اور مولانا کلیم صدیقی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی عوام دشمن اور غیر جمہوری پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور اسے سیاسی ناکامی کا مظہر قرار دیا۔ شاکر شیخ نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ملکی صورتحال، بلڈوزر کارروائیوں، ماب لنچنگ اور یو سی سی جیسے تلخ تجربات کا حوالہ دیا اور کہا کہ بلاشبہ یہ بل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
عرفان انجینئر نے متنبہ کیا کہ یہ قانون صرف مسلم یا کرشچن مخالف نہیں بلکہ پسماندہ طبقات کو دبانے والا ایک’اینٹی ہندو قانون‘ بھی ہے جو دراصل سیکولرزم کے خاتمے کے لئے لایا گیا ہے۔ مذاکرے کے اختتام پر سید شریف یونس نے کلمات تشکر کہے۔