Updated: January 11, 2026, 7:02 PM IST
| Srinagar
ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں خامیوں پر این ایم سی کی جانب سے ایم بی بی ایس کی اجازت منسوخ کردی گئی ، جس کےبعد کالج بند کردیا گیا،تاہم طلبہ اور اساتذہ ، کالج انتظامیہ سے وضاحت طلب کررہے ہیں کہ معیاری سہولت والا یہ ادارہ این ایم سی معائنے میں کیوں ناکام رہا؟
ویشنو دیوی میڈیکل کالج۔ تصویر: آئی این این
ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں خامیوں پر این ایم سی کی جانب سے ایم بی بی ایس کی اجازت منسوخ کردی گئی ، جس کےبعد کالج بند کردیا گیا،تاہم طلبہ اور اساتذہ ، کالج انتظامیہ سے وضاحت طلب کررہے ہیں کہ معیاری سہولت والا یہ ادارہ این ایم سی معائنے میں کیوں ناکام رہا؟واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے، این ایم سی نے کالج کو۵۰؍ طلباء کے لیے ایم بی بی ایس کورس چلانے کی دی گئی اجازت نامے کا خط واپس لے لیا، جس کے باعث مختصر مدت میں ادارہ بند ہو گیا ہے۔دریں اثناء جموں میں طلباء کے ایک گروپ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ این ایم سی کے فیصلے سے حیران ہیں۔مایوس طلبہ میں سے ایک عائشہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کسی بھی کالج میں ایسی سہولیات ملنے کا امکان نہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس کالج کی بہت اچھی یادیں ہیں۔‘‘ایک اور طالب علم نے کہا کہ کالج میں چار لاشیں (کیڈاورز) تھیں اور ہر طالب علم کو تشریح (ڈسکشن) کا موقع ملا۔ ‘‘ لائبریری میں کتابوں کا اچھا ذخیرہ تھا، اور ماحول بہت اچھا تھا۔ سامان کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اساتذہ ہمدرد تھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بی ایس ایف نے ۱۴؍ بنگالی مسلمانوں کو جبراً ادیشہ سے بنگلہ دیش بھیج دیا: اہل خانہ کا الزام
بعد ازاں ایک سینئر فیکلٹی ممبر نے دی ٹیلی گراف کو بتایا کہ این ایم سی ٹیم آسانی سے خامیوں کو نظر انداز کر سکتی تھی۔ کیونکہ یہ عارضی خامیاں تھیں۔ مثال کے طور پر، چھ ماہ میں بستر کی تعداد بڑھانے کے لیے ایک عمارت زیر تعمیر تھی۔ معائنہ اس وقت کیا گیا جب نصف اساتذہ چھٹی پر تھے۔ انہیں اس کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔فیکلٹی ممبر نے بتایا کہ اجازت نامے کا خط فروری میں دیا گیا تھا، اور انہیں خامیاں دور کرنے کا وقت نہیں دیا گیا۔ جبکہ کسی بھی کالج میں۱۰۰؍ فیصد سہولیات نہیں ہوتیں۔ انہوں نے براہ راست اجازت نامہ واپس لے لیا۔ وہ وضاحت طلب کر سکتے تھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: دہلی :مسجد فیض الٰہی اور بڑی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی
یہ یاد رہے کہ ۴۶۷؍بستر والے اس سپر اسپیشلٹی اسپتال کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے ۲۰۱۶ء میں بہت دھوم دھام سے کیا تھا۔ دسمبر میں جموں و کشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس امتحانات کی جانب سے اپنے ایم بی بی ایس پروگرام کی پہلی داخلہ لسٹ جاری ہونے کے بعد ادارے میں احتجاج ہوا تھا۔ اس احتجاج کی وجہ یہ تھی کہ ادارے کے پہلے ایم بی بی ایس بیچ کے لیے منتخب ہونے والے۵۰؍ امیدواروں میں سے ۴۴؍ کشمیری مسلمان اور جموں سے وابستہ ۶؍ ہندو تھے۔ بعد ازاں چھ ہندو امیدواروں میں سے، صرف تین نے کورس میں شمولیت اختیار کی تھی۔احتجاج شری ماتا ویشنو دیوی سنگرش سمیتی کی قیادت میں ہوا تھا، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی، اس کی سربراہ تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، اس کی الحاقی تنظیم بجرنگ دل اور شیو سینا کے ارکان شامل تھے۔ دیگر ہندتوا گروپ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا تھا۔احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ تھا کہ پہلی داخلہ لسٹ منسوخ کی جائے اور ہندو طلبہ کو ترجیح دی جائے، کیونکہ ادارہ ویشنو دیوی مندر کو دیے گئے چندے کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔