گزشتہ سال عارضۂ قلب کے بعد سلسلہ رک گیا مگر حفاظ کی تربیت اور قرآن فہمی پر خصوصی توجہ ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں تراویح میںپڑھائے گئے پاروں کی تلخیص پر ’مستفاداتِ قرآن‘ کی دو جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 1:39 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
گزشتہ سال عارضۂ قلب کے بعد سلسلہ رک گیا مگر حفاظ کی تربیت اور قرآن فہمی پر خصوصی توجہ ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں تراویح میںپڑھائے گئے پاروں کی تلخیص پر ’مستفاداتِ قرآن‘ کی دو جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔
۶۳؍سالہ حافظ مولانا رزین اشرف ندوی (پونے) نے ۴۵؍سال تک تراویح پڑھائی۔ حفظ کرنے کے بعد ۱۹۸۰ءمیں پہلی تراویح اپنے گاؤں مادھوپور سلطان پور (سیتامڑھی، بہار) میںپڑھائی تھی۔ اس کے بعد راجستھان میں فتح پور شیخاوٹی کی مسجد شیش گراں میں، یہ مسجد شیشے کی خوبصورت نقاشی سے انوکھے انداز میں سجائی گئی تھی، اس کے بعد بنگلور کے مختلف علاقوں کی مساجد میں، اس کے بعد دو سال مچھلی پٹنم کے گاؤں میں اور ۲؍سال مسقط میں فوج کی مسجد میں پڑھائی۔
مسقط میں ان کے بڑے بھائی مولانا امین اشرف قاسمی فوج میں مذہبیات کے استاد تھے۔ انہوں نے حافظ رزین اشرف اور چھوٹے بھائی ڈاکٹر یمین اشرف کو بلوایا اور دونوں نے مل کر قرآن سنایا۔ اس کے بعد سے وہاں تراویح کا اہتمام ہونے لگا۔فوج کی اس مسجد میںتراویح کے اہتمام میںمولانا کے بڑے بھائی کی کوششوں کا خاص دخل تھا۔
ندوۃ العلماء سے فارغ ہونے کے بعدپھر گاؤں کی مسجد میں۱۹۹۱ء سے ۹۴ء تک پڑھائی۔ اس کے بعد پونے آئے اور۲۰۰۴ء سے ۲۰۲۴ءتک پونے کی مختلف مساجد میں پڑھائی۔ ۲۰۲۵ءمیں ۴؍ رمضان المبارک کو عارضہ قلب پیش آگیا اس کے بعد سے تراویح پڑھانے کا سلسلہ رک گیامگر سماعت اور حفاظ کی تربیت کا اہتمام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ لاڈلی بہن اسکیم دیگر محکموں کیساتھ نا انصافی کرتی ہے ‘‘
اسی اثناء میں مولانارزین اشرف نے کوثر باغ کی ایشا لوریل سوسائٹی کے بیسمنٹ کی کشادہ جگہ میں تراویح کی ایک بڑی جماعت کا اہتمام کرایا۔ تراویح کی اس جماعت کی انفرادیت یہ ہےکہ یہاں ۵۰۰؍ سے زائد خواتین بھی تراویح میں شریک ہوتی ہیں، ان کے لئے پرد ے کا معقول نظم کیا گیا ہے۔یہ سلسلہ ۲۰۱۹ء سے جاری ہے۔
حافظ مولانا رزین اشرف نے تراویح پڑھانے کے دوران اس کا بھی اہتما م رکھا کہ پڑھے جانے والے پاروں کی تلخیص مصلیان کے سامنے آجائے۔ چنانچہ انہوں نے محض تلخیص بیان ہی نہیںکی بلکہ دو جلدوں میں اسے شائع بھی کیا۔’’مستفاداتِ قرآن‘‘ کےنام سے اس کی تیسری جلد پر کام جاری ہے۔ اس میںہر سورہ کی مخصوص آیات کی تفسیر کی گئی ہے جبکہ مجموعی ۱۱۴؍ سورتوں کو اس طرح پیش نظررکھاگیا ہے کہ پہلی جلد میں ۳۰؍ سورتوں کے مضامین کی مناسبت سے ۳۰؍ تقاریر ہیں، دوسرے میں بھی یہی ترتیب ہے، تیسری میں بھی تیس سورتیں ہوں گی اور آخری جلد میں ۲۴؍سورتوں کی تفسیر آئے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۵؍ ہزار کروڑ کے گھوٹالے میں اجیت پوار، سونیترا پوار کو کلین چٹ
حافظ رزین اشرف نے حفظ ہتھورا (باندہ) میں حافظ مولوی پیر علی صاحب کے پاس شروع کیا، اس کے بعد رڑکی مدرسہ رحمانیہ میں حفظ مکمل کیا اور وہاں دستار بندی قاری محمد طیبؒ کے ہاتھوں ہوئی۔ دَور مدرسہ بحرالعلوم میرٹھ میں کیا، یہاں مولانا کے بڑے بھائی صدر مدرس تھے۔ عالمیت ۱۹۹۰ء میں ندوہ سے کیا۔
حافظ مولانارزین اشرف نے پونے میں جامعہ نظامیہ صوفیہ میں۲۶؍ سال تک تدریسی خدمات انجام دیں اور ۱۹؍سال تک یہاں شیخ الحدیث رہے۔
نئے حفاظ کے تعلق سےمولانا کا کہنا ہےکہ ان میں پرانے حفاظ جیسی استقامت، محنت اور یکسوئی کم نظر آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن مساجد میںحفاظ بھیجے جاتے ہیں ان میں سے کئی مساجد کے ٹرسٹیان شاکی نظر آتے ہیں۔ اس لئے حفظ باقی رہے،اس پرتوجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان المبارک میں ہاکرس کیخلاف کارروائی پر اعتراض
مولانا علمی اور روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد حاجی محمد ابراہیم نقشبندیؒ مولانا احمد حسینؒ منوروا کے خلیفہ ومجاز تھےاور مولانا احمد حسین منوروا معروف بزرگ مولانا بشارت کریم ؒکے خلیفہ تھے۔
مولانا رزین اشرف کے ۸؍ بھائی ہیں، ان میں سے ۳؍ قاسمی اور۴؍ ندوی ہیں۔ کئی بھتیجے بھی عالم،حافظ اور انجینئر ہیں۔