Inquilab Logo Happiest Places to Work

وارانسی: گوشت اور مچھلی کی دکانیں شہر سے باہر منتقل کرنے کی تجویز منظور

Updated: June 08, 2026, 7:06 PM IST | Varanasi

اتر پردیش کے شہر وارانسی میں میونسپل کارپوریشن نے گوشت اور مچھلی کی دکانوں کو شہر کے مرکزی علاقوں سے منتقل کرکے مضافاتی مقامات پر منتقل کرنے کی تجویز منظور کر لی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صفائی کے نظام کو بہتر بنانا اور ان بازاروں کے انتظام کو منظم بنانا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہزاروں افراد کے روزگار اور بنیادی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اتر پردیش کے مذہبی اور ثقافتی اہمیت کے حامل شہر وارانسی میں میونسپل کارپوریشن نے گوشت اور مچھلی کی دکانوں کو شہر کے مختلف مرکزی علاقوں سے منتقل کرکے مضافاتی علاقوں میں منتقل کرنے کی تجویز منظور کر لی ہے۔ اس فیصلے کے بعد شہر میں چلنے والی سیکڑوں دکانوں کے مستقبل اور متعلقہ کاروبار سے وابستہ افراد کے روزگار کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وارانسی میونسپل کارپوریشن کے پبلک ریلیشن آفیسر سندیپ سریواستونے بتایا کہ شہر میں گوشت اور مچھلی کی تقریباً ۳۵۰؍ سے ۴۰۰؍ دکانیں سرگرم ہیں۔ سنیچر کو منعقد ہونے والی کارپوریشن کی گورننگ باڈی میٹنگ میں میونسپل کمشنر ہمانشو ناگ پال نے دکانوں کو پانچ مخصوص مقامات پر منتقل کرنے کی تجویز پیش کی، جسے منظور کر لیا گیا۔ منصوبے کے تحت دکانوں کو رام نگر، سج آباد، گنیش پور، اولیش پور اور شیو پور منتقل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ’ایس ایف آئی‘ اور ’ایس آئی او‘کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدلنے کی مخالفت

حکام کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد صفائی کی صورتحال کو بہتر بنانا، گوشت اور مچھلی کی منڈیوں کے انتظام کو منظم بنانا اور شہری علاقوں میں حفظانِ صحت کے معیار کو بہتر کرنا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی جگہوں کے انتخاب میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ صارفین کو گوشت اور مچھلی کی خریداری میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تاہم اس فیصلے کو سیاسی مخالفت کا سامنا ہے۔ کانگریس کے قومی سیکریٹری شاہنواز عالم نے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس طرح کا فیصلہ روزی روٹی کے حق کے خلاف ہے، جو عزت کے ساتھ معاش کمانے کے بنیادی حق کا حصہ ہے، اور یہ ایک بڑی آبادی کو اس کے ذریعۂ معاش سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: شیف وشنو منوہر نے۳؍ ہزارکلو تری پوہا تیار کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا

شاہنواز عالم نے مزید کہا کیا کہ یہ اقدام ’’ہندو سماج پر یکسانیت مسلط کرنے کے ایک وسیع تر منصوبے‘‘ کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں بقرعید سے قبل وارانسی میونسپل کارپوریشن نے شہر کی کئی دہائیوں پرانی بکری منڈی کو بھی بند کر دیا تھا۔ حکام نے اس اقدام کی وجہ منڈی میں زیادہ بھیڑ اور صفائی کے ناقص انتظامات کو قرار دیا تھا۔ وارانسی کا فیصلہ ملک کے دیگر شہروں میں سامنے آنے والی اسی نوعیت کی پالیسیوں کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ رواں سال اپریل میں ہریدوار میونسپل کارپوریشن نے بھی اردھ کمبھ میلے سے قبل شہر کی حدود میں کچے گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کی تجویز منظور کی تھی۔ ۴۵؍ روزہ اردھ کمبھ میلہ ۱۴؍ جنوری ۲۰۲۷ء کو مکر سنکرانتی کے موقع پر شروع ہونے والا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK