ریاستی حکومت کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران جبراً تبدیلیٔ مذہب کی روک تھام کیلئے بنائے گئے ’مہاراشٹر فریڈم آف رلیجن ایکٹ ۲۰۲۶ء‘ بل کی حمایت پر اظہار خیال کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن کونسل پرساد لاڈ نے ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی۔
پرساد لاڈ۔ تصویر:آئی این این
ریاستی حکومت کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران جبراً تبدیلیٔ مذہب کی روک تھام کیلئے بنائے گئے ’مہاراشٹر فریڈم آف رلیجن ایکٹ ۲۰۲۶ء‘ بل کی حمایت پر اظہار خیال کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن کونسل پرساد لاڈ نے ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی۔ انہوں نے کہا کہ’’کچھ اراکین نےبتایا کہ اب کیا انسانوں کے بعد پھل اور سبزی کو بھی تقسیم کر دیاجائے گا اور گاجر اور ٹماٹر ہندو اور سبزی کو مسلم قرار دیاجائے گا اور یہ بھی پوچھا گیاکہ گائے ماتا ہے تو بکرا کون ہے؟ انہیں مَیںکہنا چاہتا ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت( اے آئی) کی مدد سے اب سبزی کو اور بکرے کو بھی بھگوا بنا کر بتا ئیں گے۔‘‘
ایم آئی ایم لیڈروں کا نام لئے بغیرپرساد لاڈ نے اشارتاً کہا کہ’’ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی آبادی بڑھنے کی وجہ سے وہ یہاں کا رنگ بدل دیں گے تو کیسا لگا تو مَیں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ رنگ بدلنے کیلئے ہم نے چوڑیاں نہیں پہنی ہے۔یہ ہندوستان چھتر پتی شیواجی مہاراج اور چھتر پتی سمبھاجی مہاراج کا ہندوستان ہے اور یہ ہندوستان بھگوا ہی رہے گا۔ پھر سبزی کا رنگ ہرا ہوگا تو ہم اسے بھگوا کر کے ہی کھائیں گے ۔ یہ بھاجی بھی بھگوا ہوگی۔‘‘
انہوں نے کہاکہ رکن کونسل امول مٹکرے نے تنقید کی تھی کہ اگر یہ سبزی ہری ہے تو کیا یہ مسلمانوں کی ہوگی تو ہندو کیا گاجر اور ٹماٹر کھائیں گے؟ اس لئے انہیں مَیں یہ کہنا چاہتاہوں کہ ہم منصوعی ذہانت کی مدد سے پالک اور بکرے کو بھگوا کر کے کھائیں گے ۔‘‘ پرساد لاڈ نے ریاست میں غیر قانونی مساجد تعمیر کئے جانے پر بھی سوالات اٹھائے،انہیں روکنے کے اقدام کرنے اور ان کو کی جانے والی فنڈنگ کی جانچ کا بھی مطالبہ کیا ۔‘‘ انہوںنے جبراً مذہب تبدیل کرنے والوں کےخلاف زیادہ سے زیادہ سزا دینے کی سفارش کی۔
قانون ساز کونسل کےرکن ادریس نائیک واڑی نے مذکورہ بل پر کہاکہ’’ دستور ہند کے آرٹیکل ۲۵؍ کے تحت ہرشہری کو اپنے پسندکامذہب اختیار کرنے کی آزادی دی گئی ہے اور حکومت نے جو ’مہاراشٹر فریڈم آف رلیجن ایکٹ ۲۰۲۶ء‘ بل لایا ہے، وہ اس آرٹیکل ۲۵؍ کی خلاف ورزی ہے اورمذہب تبدیل کرنے سے روکتا ہے۔