Updated: July 01, 2026, 7:33 PM IST
| Caracas
وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں سرخ اور نارنجی رنگ کے آسمان نے شہریوں کو حیرت میں ڈال دیا، جبکہ سوشل میڈیا پر اسے مختلف قیاس آرائیوں اور روحانی تعبیرات سے جوڑا جانے لگا۔ تاہم، ماہرین کے مطابق یہ منظر صحارا کی گرد اور ریلے اسکیٹرنگ کے امتزاج سے پیدا ہونے والا ایک قدرتی سائنسی مظہر ہے۔
کراکس میں سرخ اور نارنجی رنگ کے آسمان نے شہریوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ تصویر: آئی این این
وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں منگل (۳۰؍ جون) کی شام آسمان اچانک سرخ اور نارنجی رنگ میں تبدیل ہوگیا، جس نے شہریوں کو حیرت میں ڈال دیا اور سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔ اس منظر کو مزید پراسرار بنانے میں زمین کے قریب منڈلاتے گہرے بادلوں نے اہم کردار ادا کیا۔ کراکس سے سرخ آسمان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں، جس کے بعد صارفین اس غیر معمولی منظر کی مختلف توجیہات پیش کرنے لگے۔ کچھ افراد نے اسے کسی آنے والی آفت کی علامت قرار دیا جبکہ دیگر نے واضح کیا کہ یہ ایک قدرتی سائنسی مظہر ہے۔ ۲۴؍ جون کو وینزویلا میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے شدید تباہی مچائی تھی، جس میں تقریباً دو ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس سانحے کے بعد بہت سے لوگ سرخ آسمان کو مزید کسی ممکنہ تباہی کی پیش گوئی سے جوڑ رہے ہیں۔
ایک صارف نے ایکس پر لکھا، ’’وینزویلا کو خدا سے رجوع کرنا چاہئے۔ مشکل وقت آنے والا ہے، انہیں بدعنوانی، غرور، سانتیریا اور جادوگری پر توبہ کرنی چاہئے۔ ‘‘ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ پورے شہر پر موت کی نشانی ہے۔ اے خدا، اپنے بندوں کی مدد فرما۔ ‘‘ جبکہ ایک اور نے مختصراً لکھا، ’’قیامت ‘‘
کراکس کا آسمان سرخ کیوں نظر آیا؟
ماہرین کے مطابق اس حیرت انگیز منظر کی ایک واضح سائنسی وجہ موجود ہے۔ ریلے اسکیٹرنگ (Rayleigh Scattering)، جسے مقامی طور پر ’’کاندیلازو‘‘ (Candilazo) بھی کہا جاتا ہے، اور صحرائے صحارا سے آنے والی گرد (Saharan Dust) کے امتزاج نے آسمان کو یہ منفرد رنگ عطا کیا۔ عام حالات میں ریلے اسکیٹرنگ کے باعث نیلی روشنی جیسی مختصر طولِ موج والی شعاعیں زیادہ بکھر جاتی ہیں، جس کی وجہ سے دن کے وقت آسمان نیلا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم، اس مرتبہ صحارا کی نہایت باریک گرد نے فضا میں قدرتی فلٹر کا کردار ادا کیا۔ اس نے نیلی اور دیگر مختصر طولِ موج والی شعاعوں کو منتشر کر دیا، جبکہ صرف سرخ اور نارنجی رنگ کی طویل طولِ موج والی شعاعیں ہماری آنکھوں تک پہنچ سکیں، جس کے نتیجے میں پورا آسمان سرخ اور نارنجی دکھائی دینے لگا۔
سرخ آسمان نے لوگوں کو مسحور بھی کیا اور خوفزدہ بھی
اگرچہ یہ ایک قدرتی موسمی مظہر ہے، لیکن اس کا منظر بے حد خوفناک اور پراسرار محسوس ہو رہا تھا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’غروبِ آفتاب کی روشنی پر صحارا کی گرد کے اس طرح اثر انداز ہونے کا یہ ایک معروف سائنسی مظہر ہے، لیکن کراکس میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا واقعی خوف انگیز محسوس ہوتا ہے۔ ‘‘ایک اور صارف نے کہا، ’’خوبصورت بھی ہے اور پراسرار بھی۔ فضا میں روشنی کے یہ قدرتی مظاہر ہمیشہ حیران کر دیتے ہیں، قدرت ایک شاندار منظر پیش کر رہی ہے۔ ‘‘زلزلوں کے بعد وینزویلا پہلے ہی شدید غم اور تباہی سے گزر رہا ہے، اس لئے اگرچہ لوگ جانتے ہیں کہ آسمان کا رنگ تبدیل ہونا ایک موسمی عمل ہے، پھر بھی بہت سے افراد اس منظر کو حالیہ سانحے سے جوڑنے سے خود کو نہیں روک پا رہے۔ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں تباہ شدہ عمارتیں، ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف امدادی کارکن اور پس منظر میں سرخ آسمان ایک انتہائی دل دہلا دینے والا منظر پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین معاملے میں بل گیٹس کا کردار واضح ہونے تک وارن بفیٹ گیٹس فاؤنڈیشن کو عطیہ نہیں دیں گے
ایک صارف نے لکھا، ’’سائنسی طور پر اس کی وضاحت ضرور موجود ہے لیکن روحانی طور پر اس منظر کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ زلزلوں، غم، منہدم عمارتوں اور ہزاروں لاپتا افراد کے بعد خون کی مانند سرخ افق انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ‘‘ماہرین کے مطابق صحارا کی گرد مغرب کی جانب مسلسل سفر کر رہی ہے اور جلد ہی امریکہ کی ریاست فلوریڈا تک بھی پہنچ جائے گی۔ اسی سفر کے دوران یہ وینزویلا پہنچی، جہاں اس نے آسمان پر یہ حیرت انگیز اور دلکش منظر تخلیق کیا۔