Updated: January 03, 2026, 7:01 PM IST
| Washington
امریکہ کے بڑے فوجی حملے کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری نے ملک کو شدید آئینی، سیاسی اور سلامتی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اقتدار کی منتقلی، نائب صدر اور وزیرِ دفاع کے کردار، اور روس و ایران کی سخت مذمت کے ساتھ عالمی سطح پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
امریکی کارروائی اور گرفتاری
۳؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو وینزویلا میں ہونے والے ایک غیر معمولی فوجی آپریشن میں امریکہ نے بڑے پیمانے پر حملے کئے، جن کے بعد صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو دارالحکومت کراکس سے گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک ’’شاندار اور مکمل طور پر منصوبہ بند آپریشن‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی امریکی مسلح افواج کے مختلف ونگز، انٹیلی جنس اداروں اور واشنگٹن کے سیکوریٹی نیٹ ورک کے درمیان قریبی ہم آہنگی کا نتیجہ تھی۔ نیویارک ٹائمز کو دیے گئے مختصر انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’’یہ ایک شاندار آپریشن تھا، جس میں عظیم فوجیوں اور بہترین منصوبہ بندی نے کلیدی کردار ادا کیا۔‘‘
مادورو کی طویل تلاش اور الزامات
امریکی حکومت برسوں سے مادورو کی گرفتاری کی کوشش کر رہی تھی۔ مارچ ۲۰۲۰ء میں ایک امریکی عدالت نے ان پر منشیات کی دہشت گردی سمیت سنگین الزامات عائد کئےتھے جس کے بعد انہیں امریکی انعامی فہرست میں شامل کیا گیا۔ ۲۰۲۵ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو کی گرفتاری سے متعلق معلومات پر انعام بڑھا کر ۵۰؍ ملین ڈالر کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ مادورو کو دنیا کے سب سے زیادہ محفوظ لیڈروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کے تحفظ کیلئے صدارتی اعزازی گارڈ، بولیورین نیشنل انٹیلی جنس سروس، نیشنل گارڈ اور مسلح افواج کی متعدد پرتیں تعینات تھیں۔ اس کے باوجود امریکی ایلیٹ یونٹ ڈیلٹا فورس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ کی گرفتاری کی تصدیق کی
وینزویلا میں اقتدار کا سوال
مادورو کی گرفتاری کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وینزویلا میں اقتدار کون سنبھالے گا؟
نائب صدر کا دعویٰ
دستور کے مطابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگز اقتدار سنبھالنے کی پہلی حقدار ہیں۔ وہ ۲۰۱۸ء سے اس عہدے پر فائز ہیں، تاہم ان کی قانونی حیثیت اور عالمی قبولیت کو ماضی میں بھی چیلنج کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے سرکاری ٹی وی پر خطاب میں مادورو اور ان کی اہلیہ کے زندہ ہونے کا ثبوت مانگا ہے۔
فوجی کردار
دوسری جانب وزیرِ دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز ایک طاقتور امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ وہ مسلح افواج کے سربراہ بھی ہیں اور پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وینزویلا کسی غیر ملکی فوجی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔ مبصرین کے مطابق اگر سیاسی خلا برقرار رہا تو فوج کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔
ملک کے اندر صورتحال
امریکی حملوں کے دوران وینزویلا کے کم از کم ۱۰؍ مقامات پر دھماکوں کی اطلاع ملی، جن میں پارلیمنٹ کی عمارت، وسطی کراکس، ال اٹیلو ایئرپورٹ، ایک فوجی کیمپ اور ہیلی کاپٹر بیس شامل ہیں۔ جنوبی کراکس میں بجلی کی بندش کے بعد حکومت نے ہنگامی حالت نافذ کر دی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: اقتصادی مطالبات منصفانہ لیکن فسادیوں کو بخشا نہیں جائے گا: سپریم لیڈر
عالمی ردِعمل
روس اور ایران نے امریکی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ روس کی وزارت خارجہ نے اسے ’’امریکی مسلح جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی حمایت کی۔ ایران نے اسے وینزویلا کی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی کہا اور فوری عالمی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
آگے کیا؟
امریکی حکام کے مطابق مادورو پر اب امریکہ میں فوجداری مقدمہ چلایا جائے گا۔ سینیٹر مائیک لی کے مطابق سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے یقین دلایا ہے کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں مزید فوجی کارروائی متوقع نہیں۔ خیال رہے کہ وینزویلا اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف اقتدار کا آئینی سوال، دوسری طرف فوجی دباؤ اور عالمی طاقتوں کی مداخلت—یہ بحران نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے لاطینی امریکہ کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔