وکھرولی قبرستان کمیونٹی اوریووا بھیم سینا کے اشتراک سے دھرنادینے کی کوشش ۔پولیس نے مظاہرین کو تحویل میںلے لیا تو انہوں نے پولیس اسٹیشن کےگیٹ پرنعرے لگائے ۔
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
وکھرولی میں قبرستان کیلئے وکھرولی قبرستان کمیونٹی اور یووابھیم سینا کے ذریعے ٹیگور نگر گروپ نمبر۲، سنیّ بڑی مسجد، بابا مٹن شاپ کے سامنے منگل کی دوپہر ۱۲؍بجے احتجاج کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے احتجاج شروع کرنے سے قبل ہی انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس پر مظاہرین نے پولیس اسٹیشن کے گیٹ پر احتجاج شروع کردیا اور یہ عہد کیا کہ جب تک مسئلہ حل کرنے کیلئے ایس وارڈ کے ڈپٹی میونسپل کمشنر کی جانب سے تحریری یقین دہانی نہیں کرائی جائے گی، وہ یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔
وکھرولی مشرقی مضافات کا وہ علاقہ ہے جہاں مسلمان ۶۰؍ برس سے قبرستان کے لئے پریشان ہیں، مظاہرے کئے، دھرنا دیا ، سیاسی لیڈران سےملاقاتیں کیں ، میمورنڈم دیئے ،بھوک ہڑتال کی اور عدالت سے رجوع کیا مگر آج تک مسئلہ حل نہیں ہوا۔ حالات یہ ہے کہ ا نہیں میت کی تدفین کیلئے ۴؍کلو میٹر دور گھاٹکوپر قبرستان جانا پڑتا ہے۔ بارش میںیہ مسئلہ مزید سنگین ہوجاتا ہے۔
یووابھیم سینا کےصدر ولاس ارجن مانے سے نمائندۂ انقلاب کےاستفسار کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ’’ کافی عرصے سےمسلم سماج کےلوگ قبرستان کے لئے کوشش کررہے ہیںمگران کا یہ مطالبہ پورا نہیں کیا گیا ۔ اسی سبب انہوںنے اپنی تنظیم کےذریعے قبرستان کمیونٹی کےاشتراک سے احتجاج کیا اوریہ طے کیا گیا کہ جب تک مسئلہ حل نہیںکیاجاتا، جد وجہد جاری رکھی جائے گی ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ ہم سب باباصاحب کے ماننے والے ہیں۔ چنانچہ آئین کی حفاظت ، جمہوریت کی بقاء اورکسی بھی طبقے کے ساتھ ظلم و ناانصافی کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی ، اورنگ آباد میںبھی ہم نے اس تعلق سے آواز بلند کی تھی ۔‘‘
ولاس ارجن مانے نے یہ بھی بتایا کہ ’’وکھرولی پولیس اسٹیشن کے گیٹ پراحتجاج کا اثر یہ ہواکہ ایس وارڈ کے ڈپٹی میونسپل کمشنرنے اپنے ۲؍نمائندوں ہیلتھ آفیسر اورمینٹیننس ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں کو پولیس اسٹیشن بھیجا ،یہاں سینئر انسپکٹر کی موجودگی میںمیٹنگ ہوئی اوریہ طے پایا کہ ۸؍جولائی بروز بدھ (آج) موضع کانجور مارگ میں قبرستان کےلئے ریزرو پلاٹ پر بورڈ لگایاجائے گا، اس کے بعد آگے کی کارروائی شروع ہوگی ۔ اس یقین دہانی کےبعد ہم سب پولیس اسٹیشن سے آئے اوردھرنا ختم کیاگیا۔‘‘
یووا بھیم سینا کے تعلقہ صدر راحیل شیخ نے کہا کہ ’’ دھرنے کا مقصد اپنےحق کے لئے آواز بلند کرنا تھا۔ بی ایم سی اورپولیس کی جانب سے مثبت رویہ اپنایا گیا ہے ۔ جس طرح کی یقین دہانی کروائی گئی ہے ،امید ہے کہ اس پرعمل کیاجائے گا ورنہ پھر صدائے احتجاج بلند کی جائے گی۔ اس لئے کہ قبرستان کا مسئلہ آج کا نہیں برسوں پرانا ہےمگرافسوس کہ اس پرتوجہ نہیں دی گئی ۔‘‘
برادر فاؤنڈیشن کے صدر اورمجوزہ وکھرولی قبرستان کمیٹی کے ذمہ داروں میںشامل واجد قریشی نے دیگر دو پلاٹس کے علاوہ موضع کانجور مارگ میں ریزرو پلاٹ کے تعلق سے انتباہ دیا کہ اگر اب بھی کانجور مارگ کی بچی ہوئی جگہ کےلئے وکھرولی کے مسلمانوں نے اتحاد کا مظاہرہ نہ کیا تو آنے والے وقت میں یہ پلاٹ بھی ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ۲۰۱۲ء سے قبرستان کے پلاٹ کے لئے مسلسل جدوجہدکر رہے ہیں۔ اس دوران کئی بار ٹینڈر کو سیاسی دباؤ کے باعث روکا گیا، بالآخر۲۰۲۴ء میںدو تا ڈھائی ایکڑ زمین کو منظوری مل گئی اور اس کے لئے فنڈ بھی پاس ہو چکا ہے۔ اس لئے اب سبھی کومتحد ہوکر کسی نہ کسی طرح اس زمین کو حاصل کرنا ہوگا تاکہ برسوں سے معلّق قبرستان کا مسئلہ حل ہوجائے اور مقامی مسلمانوں کو میت کی تدفین میں آنے والی دشواری سے نجات مل سکے۔‘‘
قبرستان کی زمین کیلئے کوشش کرنے والوں میںشامل وارث علی شیخ نے بتایاکہ’’ ۶۰؍ برس سے زائد وقت سے قبرستان کے لئے کوشش جاری ہےلیکن سیاسی لیڈران کے زبانی جمع خرچ اور جھوٹی تسلّی سے مسلمانوں کو کچھ نہیںملا ۔ اب پھر کوشش جاری ہے اورمثبت امید کی جارہی ہے ۔‘‘