وِمل الائچی بنانے والی کمپنی پی بی ایگرو نے اپنے برانڈ ایمبیسیڈرزشاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 8:06 PM IST | Mumbai
وِمل الائچی بنانے والی کمپنی پی بی ایگرو نے اپنے برانڈ ایمبیسیڈرزشاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔
وِمل الائچی بنانے والی کمپنی پی بی ایگرو نے اپنے برانڈ ایمبیسیڈرزشاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے ) کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ ایف ڈی اے نے تینوں اداکاروں کو وِمل الائچی کے اشتہار میں کام کرنے پر نوٹس جاری کیے تھے اور الزام لگایا تھا کہ یہ اشتہار ممنوعہ پان مسالہ کی بالواسطہ یا ’’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘‘ کے زمرے میں آسکتا ہے۔
پی بی ایگرو نے اپنی درخواست میں دہلی ہائی کورٹ سے مہاراشٹر ایف ڈی اے کے نوٹس منسوخ کرنے کی استدعا کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ معروف اداکاروں کی خدمات وِمل برانڈ کے تحت فروخت ہونے والی الائچی کی تشہیر کے لیے حاصل کرتی ہے اور اداکاروں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے تحت چلائی جانے والی تشہیری مہم قابلِ اطلاق قوانین کے مطابق ہے۔ کمپنی نے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ایف ڈی اے نے نوٹس براہِ راست اداکاروں کو جاری کیے، جبکہ کمپنی خود اس معاملے سے براہِ راست متاثر ہونے والی فریق ہے۔ پی بی ایگرو کے مطابق اگر اشتہار کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر کمپنی پر پڑے گا، اس لیے اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع ملنا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’دِرِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ کا ٹریلر جاری،آخری مقابلے میں راز کھلنے کا خطرہ
مہاراشٹر ایف ڈی اے نے اگست میں شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وِمل الائچی کا اشتہار بادی النظر میں ایسے برانڈ کی تشہیر کرتا دکھائی دیتا ہے جو وِمل پان مسالہ سے بھی وابستہ ہے۔ ریگولیٹر کے مطابق اس طرح کا اشتہار ممنوعہ پان مسالہ کی بالواسطہ تشہیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ایف ڈی اے نے اداکاروں سے یہ بھی وضاحت طلب کی تھی کہ وِمل الائچی ایک الگ اور آزاد پروڈکٹ ہے یا اس تشہیر کے ذریعے کسی ممنوعہ پان مسالہ یا تمباکو سے متعلق پروڈکٹ کی بالواسطہ تشہیر کی جارہی ہے۔ نوٹس میں متعلقہ دستاویزات اور اشتہاری مہم سے متعلق معلومات بھی طلب کی گئی تھیں۔
مہاراشٹر میں تمباکو یا نکوٹین پر مشتمل گٹکا اور پان مسالہ کی تیاری، ذخیرہ، نقل و حمل، تقسیم اور فروخت پر پابندی عائد ہے۔ موجودہ پابندی ۱۳؍ جولائی ۲۰۲۶ء سے نافذ ہوئی ہے۔ ایف ڈی اے نے اسی قانونی پس منظر میں وِمل الائچی کے اشتہار کو بھی جانچ کے دائرے میں لیا ہے۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ اشتہار میں وِمل برانڈ، اس کے انداز اور مارکیٹ میں موجود اس برانڈ کی شناخت کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا الائچی کے اشتہار کے ذریعے کسی ممنوعہ پروڈکٹ کی تشہیر تو نہیں کی جارہی۔
یہ بھی پڑھئے:بین شیلٹن نے بڑا اپ سیٹ کرتے ہوئے الکاراز کو یو ایس اوپن سے باہر کردیا
کیس کی سماعت جسٹس سورنا کانتا شرما کی سنگل جج بنچ کے سامنے ہوئی۔ عدالت نے فی الحال اس سوال پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے کہ آیا دہلی ہائی کورٹ کو اس معاملے کی سماعت کا علاقائی دائرۂ اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ یعنی عدالت نے ابھی کیس کے بنیادی الزامات پر حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ اس معاملے میں اب عدالت کے دائرۂ اختیار سے متعلق فیصلے کا انتظار ہے۔ اگر عدالت درخواست پر سماعت کا اختیار تسلیم کرتی ہے تو وِمل الائچی کے میکرز کی جانب سے ایف ڈی اے کے نوٹس کو چیلنج کرنے والی درخواست پر مزید کارروائی ہوسکتی ہے۔ یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مہاراشٹر ایف ڈی اے نے ممنوعہ گٹکا، پان مسالہ اور تمباکو یا نکوٹین پر مشتمل مصنوعات کے خلاف اپنی کارروائی تیز کر رکھی ہے۔