ایک پول کے مطابقنصف سے زائد کنیڈین امریکی مصنوعات خریدنے سے گریز کر رہے ہیں ، ساتھ ہی تقریباً۱۰؍ میں سے۹؍ شہری دکانوں پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ مصنوعات پر واضح لیبل آویزاں کریں۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 9:51 AM IST | Ottawa
ایک پول کے مطابقنصف سے زائد کنیڈین امریکی مصنوعات خریدنے سے گریز کر رہے ہیں ، ساتھ ہی تقریباً۱۰؍ میں سے۹؍ شہری دکانوں پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ مصنوعات پر واضح لیبل آویزاں کریں۔
Abacus Data کے نئے قومی سروے کے مطابق، کنیڈا اور امریکہ کے مابین جاری تجارتی تنازعات اور درآمدی پابندیوں کےسبب آدھے سے زیادہ کنیڈین فعال طور پر امریکی مصنوعات سے گریز کر رہے ہیں۔ستمبر کے پول میں پایا گیا کہ۵۱؍ فیصد کنیڈین خریدار جب بھی ممکن ہو امریکی اشیا سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ تعداد فروری۲۰۲۵ء میں درج کیے گئے ۳۸؍ فیصد سے زیادہ ہے، جب امریکی ٹیرف کے ابتدائی خطرات پہلی بار سامنے آئے تھے۔Abacus Data کی وسیع ٹریکنگ سے پتہ چلتا ہے کہ۷۷؍ فیصدکنیڈین اس وقت کم سے کم امریکی مصنوعات خریدنے یا ان سے مکمل طور پر بچنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو کہ صارفین کی مزاحمت کی ایک سطح ہے جو پچھلے۱۹؍ مہینوں سے مستحکم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: ۱۰؍ اکتوبر کو ۶۰؍ ممالک میں احتجاج، ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں متحرک
واضح رہے کہ کنیڈین صارفین کا یہ ردعمل امریکہ اورکنیڈا کے درمیان گہرے تجارتی تنازعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں تقریباًایک بلین ڈالر کی کنیڈین اشیا پر درآمدی پابندی عائد کی ہے، بشمول ڈیری اشیا، موٹر سائیکلیں اور الکحل مشروبات۔ یہ اقدام صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اس موسم گرما کے شروع میں عائد کردہ۵۰؍ فیصد ٹیرف کے جواب میں سامنے آیا، جس کے بعد کنیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے جوابی ٹیرف لگا کر جواب دیا۔کارنی نے کہا، ’’امریکی مارکیٹ تک رسائی کے لیے اب قیمت ادا کرنی پڑے گی،انہوں نے یورپی یونین، ہندوستان اور چین کے ساتھ گہرے تجارتی روابط کی تلاش کے ساتھ دس سال کے اندر غیر امریکی تجارت کو دوگنا کرنے کے وسیع ہدف کا خاکہ پیش کیا۔
بعد ازاں تجارتی اقدامات امریکی صارفین کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کا آئندہ قاعدہ جس میں۸۰۰؍ ڈالر کی ڈیوٹی فری ڈی منیمس چھوٹ کو معطل کیا گیا ہے، اس سے اندازاً ۲۳؍لاکھ امریکیوں کےکنیڈین فارمیسیوں کے ذریعے کم قیمت والی نسخے کی دوائیں خریدنے کے میں خلل پڑنے کا خطرہ ہے۔ناقدین اور مریضوں نے خبردار کیا ہے کہ اضافی فیس، بانڈ کی ضروریات اور موجودہ ٹیرف اہم ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: اس ماہ کے ابتدائی۱۵؍ دن، ۳۷؍ ممالک میں ۲۶۲؍ فلسطین حامی پروگرام
علاوہ ازیںکنیڈین گروسری خوردہ فروشوں کے لیے، ملکی صارفین کی مانگ میں اضافہ آپریشنل مطالبات کو بڑھا رہی ہے۔ سروے کے۱۰؍ میں سے۷؍ جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اسٹورز امریکی اشیا کو اپنی شیلف سے مکمل طور پر ہٹا دیں۔ اس کے برعکس،۸۹؍ فیصد مقامی اشیا پر واضح لیبلنگ چاہتے ہیں، اور۸۷؍ فیصد چاہتے ہیں کہ گروسری اسٹورکنیڈین اور غیر امریکی متبادلات کے اپنے اسٹاک کو بڑھائیں۔تاہم، قیمت اور برانڈ کی پہچان ملکی خریداروں کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ Abacus Data کے مطابق،۶۱؍ فیصد کنیڈین اب بھی سمجھتے ہیں کہ ملکی متبادل امریکی اشیا سے زیادہ مہنگے ہیں، اور نصف سے بھی کم قابل اعتماد طریقے سے شناخت کر سکتے ہیں کہ سپر مارکیٹ کی شیلف پر مخصوص برانڈز کنیڈا کی ملکیت ہیں یا نہیں۔
تاہم صارفین کے رویے میں یہ تبدیلی صرف کینیڈا تک محدود نہیں ہے۔بلومبرگ اور مارننگ کنسلٹ کے ایک علاحدہ بین الاقوامی مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ۱۳؍ یورپی اور ایشیائی ممالک کے صارفین پانچ سال پہلے کے مقابلے میں امریکی برانڈز پر کم خرچ کر رہے ہیں۔ جبکہ ملائیشیا میں سب سے زیادہ کمی درج کی گئی، جہاں۵۵؍ فیصد صارفین نے امریکی اشیا پر اپنے اخراجات کم کیے، اس کے بعد فرانس۴۷؍ فیصد، چین۴۶؍ فیصد، جنوبی کوریا۴۳؍ فیصد اور سنگاپور۴۲؍ فیصد پر ہے۔
مزید برآں امریکی فاسٹ فوڈ اور کافی چین نے عالمی اخراجات میں سب سے زیادہ کمی کا تجربہ کیا ہے۔برطانیہ، چین اور انڈونیشیا میں۶۰؍ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ انہوں نے ان شعبوں میں اخراجات میں کمی کی ہے، اسی طرح کی کمی جرمنی میں ۵۹؍ فیصد اور فرانس میں۵۷؍ فیصد درج کی گئی ہے۔
بلومبرگ اور مارننگ کنسلٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی سیاسی قیادت یا اسٹریٹجک سمت میں تبدیلی کا ان عادات کو تبدیل کرنے میں سب سے زیادہ اثر جرمنی میں ہوگا، جہاں۵۶؍ فیصد صارفین نے کہا کہ سیاسی تبدیلی انہیں امریکی برانڈز خریدنا دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دے گی، اس کے بعد برطانیہ میں۴۷؍ فیصد۔