Updated: May 30, 2026, 4:05 PM IST
| Washington
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ واشنگٹن میں اسحاق ڈار سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال، پاک-امریکہ تعلقات اور ایران سے متعلق پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔
مارکوروبیو اور اسحاق ڈار ملاقات کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی امیدوں کا خیرمقدم کیا۔ واشنگٹن میں امریکی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کے بعد روبیو نے کہا کہ انہوں نے ’’مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کے مسلسل کردار‘‘ پر اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے آفیشیل ایکس اکاؤنٹ پر لکھا:’’ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کی سلامتی اور خوشحالی کیلئے ایک بامعنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کیلئے مل کر کام کرنا ضروری ہے۔‘‘
اسحاق ڈار کی روبیو سے ملاقات سے کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آج وہائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے بتایا کہ ممکنہ معاہدے کیلئے ایران کو جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضامند ہونا ہوگا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہوگا، سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹانا ہوگا، ایران پر امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے گی اور امریکہ ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کو ہٹا کر تباہ کرے گا۔ ٹرمپ نے کہا:’’مزید اطلاع تک کوئی رقم کا تبادلہ نہیں ہوگا۔ دیگر کم اہم امور پر اتفاق ہو چکا ہے۔ میں اب سیچویشن روم جا رہا ہوں تاکہ حتمی فیصلہ کر سکوں۔ ‘‘
واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ روبیو کے ساتھ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں پاکستان کے سفیر اور دفتر خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے قیام میں کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دی۔ اسحاق ڈار کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی جنگ بندی پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جبکہ حالیہ جنگ بندی بھی اسلام آباد کی سفارتی کاوشوں سے ممکن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر ایک نئی شناخت حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس کی نئی امیگریشن ویب سائٹ، غیر ملکیوں کو ’’ایلین‘‘ کہنے پر تنازع
اسحاق ڈار کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قبل دفتر خارجہ (ایف او) نے کہا تھا کہ اسحاق ڈار اور مارکو روبیو نے پاک-امریکہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق ملاقات میں دونوں لیڈروں نے بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ بیان میں کہا گیا:’’سیکریٹری روبیو نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کیلئے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔ ‘‘دفتر خارجہ کے مطابق دونوں لیڈروں نے تجارت و سرمایہ کاری، سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل اور علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے ذریعے پاک-امریکہ شراکت داری کو آگے بڑھانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔