واشنگٹن ڈی سی کی انتخابی مہم میں اپنی ذات ’’دیونگا‘‘ استعمال کرنے پر میئر امیدوار رینی سمپت تنقیدوں کی زد پر ہیں، متعدد افراد نے امریکی انتخابی مہم میں ذات کا ذکر کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھائے۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 3:00 PM IST | Washington
واشنگٹن ڈی سی کی انتخابی مہم میں اپنی ذات ’’دیونگا‘‘ استعمال کرنے پر میئر امیدوار رینی سمپت تنقیدوں کی زد پر ہیں، متعدد افراد نے امریکی انتخابی مہم میں ذات کا ذکر کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھائے۔
واشنگٹن ڈی سی میں میئر کی امیدوار رینی سمپت انتخابی مہم کے ایک پوسٹر میں اپنی ذات ظاہر کرنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کا نشانہ بنی ہیں۔ اس پوسٹر میں انہیں ’’دیونگا برادری کا فخر‘‘ قرار دیا گیا اور ڈی سی میں رہنے والے ہندوستانیوں اور ’’دیونگا‘‘ برادری سے ان کی حمایت کی اپیل کی گئی۔ پوسٹر پر ایک ذات پر مبنی انجمن کی تائید بھی درج تھی،بعد ازاں یہ پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس نے امریکی سیاست میں ذات کی شناخت کے استعمال پر بحث کو ہوا دی۔ متعدد صارفین نے امریکی انتخابی مہم میں ذات کا ذکر کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھائے۔ واضح رہے کہ امیدوار کو امریکن ہندو کولیشن (اے ایچ سی) کی حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شاہ چارلس سے کہوں گا کہ کوہ نور واپس کریں: ظہران ممدانی کا رپورٹر کو جواب
مزید برآں اے ایچ سی نے پیر کو آئی ایس کے سی او این آف ڈی سی مندر میں ایک اجلاس منعقد کیا تاکہ سمپت کی امیدواری کے لیے حمایت اکٹھی کی جا سکے۔ اے ایچ سی میری لینڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انکور مشرا نے مہم کی حکمت عملی کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ’ہم اب صرف تماشائی نہیں رہے؛ ہم ایک منظم، متحدہ محاذ ہیں جو اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہماری اقدار اور ہمارے خاندان مقامی حکومت کے اعلیٰ ترین سطحوں پر نمائندگی حاصل کریں۔ رینی کی امیدواری ایک تاریخی پہلی مثال ہے، لیکن ہمارا اتحاد ہی اسے ایک پائیدار تحریک بنائے گا۔‘‘تاہم ایک سوشل میڈیا صارف کے ذریعے انہیں ’’ ہندوستان واپس جاؤ‘‘ کہنے کے بعد سمپت نے ایکس پر اپنے تاریکن وطن ہونے پر فخر کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ ۳۱؍ سالہ سمپت تامل ناڈو کے ضلع تھینی میں پیدا ہوئیں اور بچپن میں ریاستہائے متحدہ امریکہ منتقل ہو گئیں۔ وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے واشنگٹن ڈی سی میں رہائش پذیر ہیں اور ایک سائبرسیکیوریٹی ماہر اور سرکاری ٹھیکیدار کے طور پر کام کرتی ہیں۔ وہ۱۶؍ جون کو ہونے والے ڈیموکریٹک پرائمری میں حصہ لے رہی ہیں۔انہوں نے روزمرہ کے شہری مسائل پر توجہ مرکوز کی ہے۔ وہ سستی رہائش ، کرایوں میں کمی ، اور سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی مرمت کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے ایمرجنسی رسپانس ٹائم کو بہتر بنانے کا بھی وعدہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ، اسرائیل کو سخت انتباہ: معاوضہ نہ ملا تو ’’باہمی کارروائی‘‘ ممکن
اس کے علاوہ امیگریشن پر، انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف واضح موقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میئر کی حیثیت سے، میں ڈی سی ایجنسیوں یا ایم پی ڈی کی امیگریشن کریک ڈاؤن کے ساتھ رضاکارانہ تعاون کی حمایت نہیں کروں گی جو ہمارے سماج کو کم محفوظ اور کم مستحکم بناتے ہیں۔‘‘ علاوہ ازیںانہوں نے مقامی پولیس اور وفاقی امیگریشن حکام کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کی بھی مخالفت کی۔ یاد رہے کہ واشنگٹن ڈی سی ڈیموکریٹک پارٹی کا مضبوط گڑھ بنا ہوا ہے۔ دی ہل رپورٹ کے مطابق، شہر نے۱۹۷۵ء کے بعد سے کوئی ریپبلکن میئر منتخب نہیں کیا ہے۔