آج تاخیراور کم دباؤ سے پانی سپلائی ہوگا۔ اچانک پانی نہ ملنے سے لاکھوں افراد پریشان۔ خرید کر بھی پینے کا پانی ملنا دشوار ہوگیا۔ بی ایم سی کمشنر کے ذریعہ ۱۵؍ اپریل سے کھدائی بند کرنے کے حکم کے باوجود گڑھا کھودنے سے پائپ پھٹ گیا۔ ۲۲؍ گھنٹوں تک حالات پر بی ایم سی کی خاموشی سے عوام ناراض۔
بی ایم سی اہلکار ساکی ناکہ میں پانی کی پائپ لائن درست کرتے ہوئے۔
بی ایم سی کمشنر کے ذریعہ ۱۵؍ اپریل کے بعد پورے ممبئی میں تعمیراتی کام کیلئے کھدائی پر پابندی عائد کئے جانے کے باوجود ساکی ناکہ میں تلک نگر گیٹ، ۹۰؍ فٹ روڈ پر میٹرو پروجیکٹ کی کھدائی سے سنیچر کی صبح ایک وسیع پائپ لائن پھٹ گئی جس کی وجہ سے ساکی ناکہ، جری مری، کرلا اور چونا بھٹی میں پانی سپلائی بند ہوگئی ہےجس سے لاکھوں افراد پریشان ہوگئے۔ بی ایم سی نے اتوار کو رات ۱۰؍ بجے کےبعد اطلاع دی کہ مرمت کا کام مکمل نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے آج (پیر کو) تاخیر اور کم دباؤ سے پانی سپلائی ہوگا۔
پانی سے محروم لاکھوں افراد کے ذہن میں یہی سوال تھا کہ پانی کیوں نہیں آیا اور کب سپلائی شروع ہوگی لیکن بی ایم سی نے اس تعلق سے تقریباً ۲۲؍ گھنٹوں تک خاموشی اختیار کررکھی تھی اور اس کے بعد اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر ساکی ناکہ میں ۱۲۰۰؍ ملی میٹر کی پائپ لائن پھٹنے کی اطلاع دی۔
واضح رہے کہ ساکی ناکہ میں میٹرو کے بریج کی تعمیر کیلئے کھدائی کی جارہی تھی جس کے دوران سنیچر کی صبح تقریباً ۱۱؍ بجے ۴۸؍ اِنچ کی پائپ لائن پھٹ گئی۔ اس پائپ لائن کی مرمت انتہائی پیچیدہ عمل ثابت ہوا کیونکہ یہ پائپ سطح زمین سے ۵؍ میٹر گہرائی میں واقع ہے اور اس کے قریب مہاراشٹر گیس لمیٹڈ (ایم جی ایل) کے گیس کی پائپ لائن گزرتی ہے اور اب اسی جگہ بریج کے ستون کی تعمیر کی جارہی ہے اس لئے مرمت کیلئے کافی تنگ جگہ بچی تھی۔ یہ پائپ اتنی گہرائی میں تھا کہ بی ایم سی کے اہلکاروں کو اس تک پہنچنے کیلئے بڑا گڑھا کھود کر نیچے اترنے کیلئے سیڑھی استعمال کرنی پڑی۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: نالوں کی صفائی کا جائزہ لینے کیلئے میئر خود نکل پڑے
بی ایم سی نے اتوار کی دوپہر کو سوشل میڈیا پر بتایا کہ کرلا (جنوب) میں ۱۲۰۰؍ ملی میٹر قطر کی پائپ لائن کی مرمت کا کام جاری ہے، یہ پائپ تقریباً ۵؍ میٹر گہرائی میں واقع ہے۔ مرمت کرنے والی ٹیم کو شدید دشواریاں پیش آرہی ہیں کیونکہ اس پائپ لائن کے کی ایک طرف ۳۰۰؍ ملی میٹر قطر کی ایم جی ایل کی گیس کی پائپ لائن ہے اور دوسری طرف بریج کے ستون کی کھدائی کی گئی ہے۔ ان دشواریوں کے باوجود مرمت کی کارروائی بڑی احتیاط اور منصوبہ بند طریقے سے جنگی پیمانے پر جاری ہے۔
جس وقت بی ایم سی نے یہ پیغام شیئر کیا تھا اس وقت تک پائپ لائن کا پھٹا ہوا حصہ مکمل طور پر نظر آرہا تھا۔ یہاں تقریباً ڈیڑھ میٹر لمبے پائپ کو تبدیل کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی تھی اور رات تک مرمت مکمل کرکے مرحلہ وار پانی سپلائی بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
اس پیغام پر عوام نے بی ایم سی پر شدید تنقیدیں کیں اور کئی سوالات قائم کئے لیکن شہری انتظامیہ نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔ مثلاً کسی نے سوال کیا تھا کہ ’’کیا یہ وہی ایجنسی (بی ایم سی) نہیں ہے جس نے پانی اور گیس کی پائپ لائن بچھانے اور بریج کیلئے کھدائی کی اجازت دی ہوگی اور اب وہ تکنیکی دشواریوں کا رونا رو رہی ہے؟ یہ ایک ہی محکمہ کے مختلف ڈپارٹمنٹ کے درمیان تال میل نہ ہونے کی بہترین مثال ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: بیسٹ کی حالت خستہ، بسوں کی تعداد گھٹ کر۲۴۹؍ رہ گئی
کرلا، جری مری اور چونا بھٹی بڑے بڑے علاقے ہیں جہاں گھنی آبادی ہے مزید یہ کہ چھٹیوں میں بہت سے افراد کے گھر مہمان آکر ٹھہرے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پانی کی قلت بہت تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ حتیٰ کہ کئی دکانوں پر پینے کا پانی فروخت کرنے کیلئے بھی نہیں بچا تھا۔
کرلا کی بدھکالونی میں واقع ریگل بلڈنگ میں رہائش پذیر ساحل شاہ (۴۲) نے بتایا کہ ان کے یہاں وطن سے مہمان آئے ہوئے ہیں جس سے گھر میں تقریباً ۱۱؍ افراد رہ رہے ہیں۔ ایسے میں پانی نہ آنے سے بیت الخلاء میں استعمال کا پانی بھی نہیں بچا تھا بہر حال ان کے حالات کو دیکھتے ہوئے پانی نہ آنے کے باوجود ان کے پڑوسیوں نے چند بالٹی پانی انہیں دے دیا۔
کرلا کے کارپوریٹر اور بی ایم سی میں کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی جائے وقوع پر پہنچے ہوئے تھے اور انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بی ایم سی کے متعلقہ افسران کو سنیچر کو یہ میسیج بھیجا تھا کہ پابندی کے باوجود کھدائی جاری ہونے کی انکوائری کی جائے اور مناسب قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں پانی کے ٹینکر بھی بھجوانے کا انتظام کیا تھا۔