Inquilab Logo Happiest Places to Work

پائیدھونی میں۴؍ اموات کے بعد تربوز کاکاروبا رمتاثر

Updated: April 30, 2026, 11:06 AM IST | Saadat Khan,Saeed Ahmed Khan And Iqbal Ansari | Mumbai

اس تعلق سےسوشل میڈیاپر منفی پوسٹ سے خوفزدہ ہوکر عام لوگ تربوز کھانے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ پولیس کی پوچھ تاچھ کے ڈر سے نل بازار میںاس پھل کی دکانیں بند۔

Watermelon Sellers Wait For Customers At A Market In Mumbra. Photo: INN
ممبر ا کے ایک بازار میں تربوز فروخت کرنے والے گاہکوں کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ تصویر:آئی این این
پائیدھونی کے ایک ہی خاندان کے ۴؍افراد کی تربوز کھانے سے موت ہونے کی افواہ کے دوران جہاں ایک طرف عام لوگ تربوز کھانے سے اجتناب کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ممبئی، مالونی اور ممبرا وغیرہ کے علاقوں میں تربوز کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ پولیس اور عوام کے خوف سے نل بازار میں تربوز کی تقریباً ۱۲؍ دکانیں بند ہیں۔ بدھ کو بھی جے جے پولیس مارگ کے آفیسران نے تربوز کا کاروبار کرنے والے دکانداروں سے پوچھ تاچھ کی جبکہ دیگر علاقوں میں افواہ کا اثر کم ہوا ہے ۔
واضح رہے کہ تربوز کی خریداری سے متعلق کئی باتیں گشت کر رہی ہیں ۔ایک تو یہ کہا جا رہاہےکہ متوفی خاندان نے تربوز آن لائن خریدا تھا ، دوسرے نل بازار سے تربوز خریدنے کی بات بھی سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے پولیس نل بازا ر کے تربوز فروشوں سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے ۔ نل بازار فروٹ اسوسی ایشن کے صدر علی نبی قریشی نے انقلاب کو بتایا کہ’’ تربوز کھانے سے ۴؍افراد کی موت ہونےکی افواہ سے پولیس یہاں کے دکانداروں سے گزشتہ۳ ؍ دنوں سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے ۔ بدھ کو بھی پولیس نے نل بازار میں واقع مسجد کے قریب کےتربوز فروش سے تفتیش کی۔‘‘نل بازار میں گزشتہ ۱۵؍ سال سے تربوز کا کاروبار کرنے والے عمران قریشی نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ’’ اتوار اور پیر کی نصف شب پولیس نے ۴؍ متوفیوں کی تصاویر دکھا کر مجھ سےدریافت کیا تھاکہ ان لوگوں نے تم سے تربوز خریدا تھا؟میرے منع کرنے پر پولیس نے پیر کو جے جے مارگ پولیس اسٹیشن پر ۱۰؍ گھنٹے بٹھاکر میرا بیان درج کیا ہے ۔‘‘
نل بازار کے ۱۲؍ دکانداروں کا کاروبار بند
انقلاب کے ایک سوال کے جواب میں عمران قریشی نے بتایا کہ ’’ پولیس اور عوام کے خوف سے نل بازار کے تقریباً ۱۲؍ دکانداروں نےتربوز کا  کاروبار بند کر دیاہے ۔ میرے پاس بھی ۴۰۰؍کلو تربوز تھا جومیں نے تھوک بیوپاری جہاں سے میں تربوز خریدتا ہوں ، اسے لوٹا دیا ہے ۔‘‘
ان کا کہنا تھاکہ’’ اس واقعہ کی وجہ سے نل بازار، بھنڈی بازار ،چور بازار، محمد علی روڈ اور کرافورڈ مارکیٹ وغیرہ کے علاقوں میں تربوز کاکاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں اس افواہ کا اثر کم ہو رہا ہے۔‘‘
بیلاسس روڈ پر واقع ضیاء اپارٹمنٹ کے محمدرضوان خان عرف گڈو کے مطابق ’’ میں نے اتوار کو مہاراشٹر کالج کے قریب ایک پھیری والے سے ۲۰۰؍روپے کا تربوز خریدا تھا ،اسی دوران سوشل میڈیا پر مذکورہ واقعہ کے با رے میں متعدد   پیغامات دیکھ کر ہونے والے خوف سے ابھی تک وہ تربوز کاٹا نہیں گیا ہے ۔ گھر کے سبھی لوگ تربوز کھانے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ ‘‘ 
 
 
مالونی کے پھل فروشوں نے کیا کہا؟
اسی طرح گیٹ نمبرایک سہارا ہوٹل کے قریب (مالونی)پھل فروش نعیم احمدسے استفسار کرنےپر ان کا کہنا تھا کہ ’’تربوزکھانے سےموت کا معاملہ اس قدر عام ہوا ہے کہ لوگوںنے تربوز خریدنا چھوڑ دیا ہے۔‘‘ 
انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’ اسے اس طرح سمجھئے کہ میںیومیہ ۲۰۰؍ سے ۳۰۰؍ کلو تک تربوز فروخت کرلیا کرتا تھا مگر منگل کو۳۰؍ روپے کلو کے حساب سے محض ۷؍ کلو تربوز فروخت ہوا۔ اس وجہ سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ جب تک حالات معمول پر نہیںآجاتے اور لوگوں کے ذہن صاف نہیںہوجاتے کہ تربوز میںنقصان دہ اور موت کا سبب بننے والے اجزاء نہیں ہیں اس وقت تک مارکیٹ سے تربوز ہی نہ لائیں، دیگر پھل فروخت کریں۔‘‘نعیم احمد کے ٹھیلے کے کچھ فاصلے پر محمد اکرم بھی تربوزفروخت کررہے تھے، پوچھنے پر ان کا کہنا تھا کہ’’ فروخت پر زیادہ فرق نہیں پڑا ہے، وہ سب محض افواہ ہے۔ ‘‘حالانکہ نمائندے نے دیکھا کہ ان کی گاڑی پر کافی تربوز تھا اور وہاںبمشکل گاہک دکھائی دیئے۔
 
 
ممبرا میں بھی تربوز کی فروخت میں کمی
ممبرا بازار میں تربوزفروش شاداب راعین نے بھی ممبئی کے دردناک واقعہ کے بعد تربوز کی فروخت میں تیزی سے کمی آنے کی تصدیق کی ہے۔ انہوںنے بتایاکہ’’ اس حادثہ کے بعد سے لوگ تربوز خریدنے سے ڈر رہے ہیں۔ حادثہ کےقبل تک مَیں یومیہ ۱۰؍ ہزار کا تربوز فروخت کر دیتا تھا لیکن اب بمشکل ۲؍ ہزار روپے تک کا تربوز فروخت ہو رہا ہے۔ ۶۰؍ اور ۶۵؍ روپے کا تربوز ۵۰؍ روپے میں فروخت کرنے کے باوجود شہری نہیں خرید رہے ہیں ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’۲؍ روز قبل ہی مَیںنے ایک گاڑی بھر کر تربوز منگوایاتھا لیکن اس کے فروخت نہ ہونے سے بھاری نقصان ہو رہا ہے۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK