Updated: July 10, 2026, 10:05 PM IST
| New Delhi
جب اشیائے خوردونوش کی لاگت بڑھتی ہے تو گھرانے اکثر سبزیوں یا پروٹین کی مقدار کم کرکے، سستے اور کم غذائیت والے کھانوں کو اپنی غذا میں شامل کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کیلوریز کا استعمال اور غذائی تنوع بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ یہ رجحان براہِ راست ان جیو پولیٹیکل تناؤ کا نتیجہ ہے جو پہلے توانائی کی قیمتوں کو بڑھاتے ہیں اور پھر سپلائی چین کے ذریعے خوراک کی لاگت میں اضافہ کر دیتے ہیں۔
مغربی ایشیاء میں جاری تنازع خاموشی سے کروڑوں ہندوستانی گھرانوں کے روزمرہ کے کھانوں کو مہنگا بنا رہا ہے۔ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق، جون میں عام گھریلو تھالی کی قیمت پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ خوردنی تیل کی بڑھتی قیمتیں، مہنگی رسوئی گیس اور ٹماٹر کی قیمتوں میں اچھال ہے۔ یہ تمام وجوہات، عالمی سطح پر سپلائی چین کے خلل اور مقامی موسمی حالات سے منسلک ہیں۔
کریسل (Crisil) کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں ویج تھالی کی قیمت اب ۴ء۲۸ روپے ہوگئی ہے، مئی میں اس کی قیمت ۴ء۲۷ روپے تھی، یعنی ویج تھالی کی قیمت میں ماہانہ بنیادوں پر ۴ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ چکن پر مشتمل نان ویج تھالی کی قیمت مئی میں ۵ء۵۶ روپے تھی جو جون میں ۴ فیصد بڑھ کر ۲ء۵۸ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ بظاہر یہ اعدادوشمار معمولی لگ سکتے ہیں، لیکن ان کروڑوں گھرانوں میں جہاں خوراک پر روزمرہ کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ خرچ کیا جاتا ہے، یہ براہِ راست، پلٹ میں شامل کھانوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۹۵ فیصد کمپنیاں صارفین کو دھوکہ دینے کیلئے’ڈارک پیٹرنز‘ استعمال کرتی ہیں؛ سیبی سے کارروائی کا مطالبہ
تیل کی منڈیوں سے کھانے کی میز تک کی زنجیر
کھانے کی لاگت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ صرف مقامی موسم نہیں ہے بلکہ عالمی توانائی کے نظام میں آنے والا خلل بھی ہے۔ خوردنی تیل اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً ۱۰ فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی جزوی وجہ مغربی ایشیا کے تنازع کے چلتے سپلائی کے جھٹکے ہیں۔ خام تیل کی اونچی قیمتیں پورے غذائی نظام پر اثر انداز ہوتی ہیں، نتیجتاً ٹرانسپورٹ، پیکیجنگ اور کھانا پکانے کے ایندھن کی بھی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
شدید گرمی کی وجہ سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ٹماٹر کی قیمتوں میں ایک سال پہلے کے مقابلے ۳۰ فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھنے ملا ہے، جس کی وجہ سے ویج تھالی پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ نان ویج کو ترجیح دینے والے گھرانوں کیلئے، چکن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پروٹین کو بھی مہنگا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تیل کمپنیوں کو پیٹرول اور ڈیزل پر ۱۱؍ روپے تک منافع
غذائیت پر پوشیدہ اثرات
جب اشیائے خوردونوش کی لاگت بڑھتی ہے تو گھرانے اکثر سبزیوں یا پروٹین کی مقدار کم کرکے، سستے اور کم غذائیت والے کھانوں کو اپنی غذا میں شامل کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کیلوریز کا استعمال اور غذائی تنوع بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ یہ رجحان براہِ راست ان جیو پولیٹیکل تناؤ کا نتیجہ ہے جو پہلے توانائی کی قیمتوں کو بڑھاتے ہیں اور پھر سپلائی چین کے ذریعے خوراک کی لاگت میں اضافہ کر دیتے ہیں۔۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو جب تیل کی منڈیوں میں قیمتیں اوپر جاتی ہیں، تو ملک میں روزمرہ کے کھانے مہنگے اور مقدار میں کم ہو جاتے ہیں۔