• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی کنارہ: فلسطینیوں کے اغوا میں اضافہ، کسانوں، دیہی آبادیوں کو نشانہ بنانے کا الزام

Updated: October 12, 2026, 9:05 PM IST | West Bank

فلسطینی حکام کے مطابق، اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں گرفتاریوں اور اغوا کے واقعات میں تیزی آئی ہے؛ ۱۰؍ اکتوبر کو ۷؍ فلسطینیوں کو مختلف علاقوں سے اٹھائے جانے کی اطلاع، انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشدد، زمینوں تک رسائی روکنے اور جبری بے دخلی کے خدشات بھی ظاہر کیے۔

Israeli soldiers in the West Bank. File photo.
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی۔ فائل فوٹو

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو زبردستی اٹھانے، غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے اور کسانوں کو ان کی زمینوں تک رسائی سے روکنے کے واقعات میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں خاص طور پر کسانوں، دیہی علاقوں اور بدوی برادریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے متاثرہ افراد ہی نہیں، بلکہ پوری آبادی میں خوف پیدا ہوتا ہے اور لوگوں کے لیے اپنی زمینوں پر رہنا اور روزگار جاری رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ترکی کی خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، سنیچر ۱۰؍ اکتوبر کو ۷؍ فلسطینیوں کو مختلف مقامات سے اٹھائے جانے کی اطلاع ملی۔ ان میں سے ۳؍ کو بیت لحم کے مغرب میں واقع نحالین، ۳؍ کو طولکرم کے شمال میں واقع قفین اور ایک کسان کو نابلس کے قریب بیت امرین سے اٹھایا گیا۔ فلسطینی سرکاری ریڈیو وائس آف فلسطین نے ان واقعات کی اطلاع دی، تاہم رپورٹ شائع ہونے تک ان افراد کی موجودہ حالت اور مقام کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام برائے معاشیات ۲۰۲۶ء کا اعلان، رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ فاتح

مغربی کنارے میں آبادکاری اور دیوار کے خلاف مزاحمت سے متعلق فلسطینی کمیشن کے مرکزی مغربی کنارے کے دفتر کے سربراہ صلاح الخواجہ نے انادولو کو بتایا کہ فلسطینیوں کو عارضی چوکیوں پر روکا جاتا ہے یا کسانوں اور دیہی و بدوی آبادیوں پر حملوں کے دوران اٹھا لیا جاتا ہے۔ کمیشن کے دستاویزی امور کے اہلکار امیر داؤد کے مطابق، بار بار ہونے والے ایسے واقعات کسانوں کو اپنی زمینوں پر جانے کے لیے بھی خوف زدہ کردیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا اثر پورے گاؤں پر پڑتا ہے اور لوگوں کے اپنی زمین سے تعلق کو کمزور کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ بیانات فلسطینی حکام کے ہیں؛ تازہ واقعات کے بارے میں اسرائیلی حکام کا تفصیلی جواب رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔

یہ خدشات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی کا موسم جاری ہے۔ انادولو کے مطابق، فلسطینی کسانوں کو کھیتوں تک رسائی میں رکاوٹوں، فصلوں کی چوری، درختوں کو نقصان پہنچانے اور جسمانی حملوں کا سامنا ہے۔ فلسطینی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء کے پہلے ۶؍ ماہ میں مغربی کنارے میں ۲۶؍ ہزار سے زیادہ زیتون کے درخت کاٹے گئے یا انہیں نقصان پہنچایا گیا۔ زیتون کی فصل بہت سے خاندانوں کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے درختوں اور کھیتوں کو پہنچنے والا نقصان ان کے معاشی مستقبل کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انفرادی واقعات سے آگے بڑھ کر انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ۲۰؍  اگست کی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی آبادکاروں کے حملے فلسطینی آبادیوں کی جبری بے دخلی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق، جنوری ۲۰۲۳ء سے آبادکاروں کے تشدد کے باعث ۱۰۷؍ فلسطینی برادریاں مکمل یا جزوی طور پر بے دخل ہوچکی ہیں، جن میں تقریباً ۵۹۰۰؍ افراد شامل ہیں۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ حملوں میں مارپیٹ، من مانی حراست، املاک کو آگ لگانے، چوری اور زرعی زمینوں تک رسائی روکنے جیسے واقعات شامل ہیں۔ بعض واقعات میں اسرائیلی فوجی بھی موقع پر موجود تھے، لیکن انہوں نے حملوں کو روکنے کے لیے مداخلت نہیں کی۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی: ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کا تازہ حملہ، ہلاکتوں کی تعداد ۱۸؍ ہوگئی

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (OCHA) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ نے بتایا کہ ۲۰۲۶ء کے پہلے ۴؍ ماہ میں آبادکاروں کے حملوں، انہدام اور بے دخلی کے باعث بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد پورے ۲۰۲۵ء کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ تنظیم کے مطابق، ایسے حملوں کی اوسط شرح روزانہ ۶ء۶؍ فیصد واقعات تک پہنچ گئی تھی جن میں جانی نقصان یا املاک کو نقصان ہوا۔ یہ اعداد صرف اغوا کے واقعات نہیں بلکہ آبادکاروں کے تشدد اور اس کے وسیع تر اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے دباؤ کی ایک تازہ مثال ۹؍ اکتوبر کو رائٹرز کی رپورٹ میں سامنے آئی۔ نابلس کے قریب اللبن الشرقیہ گاؤں میں ایک فلسطینی کیفے کے مالک مؤید حسین نے بتایا کہ آبادکاروں نے دکان کے داخلی راستے کے سامنے درجنوں اسرائیلی پرچم نصب کردیے، جس سے سڑک سے دکان نظر آنا مشکل ہوگیا۔ حسین نے اسے خوف زدہ کرنے کی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ ایک آبادکار نے دکان بند کرانے کی دھمکی بھی دی۔ رائٹرز کے مطابق، اسرائیلی فوج نے پرچم نصب کیے جانے کے معاملے پر فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔ یہ واقعہ اغوا کے زمرے میں نہیں آتا، لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی کاروباروں اور روزمرہ زندگی پر دباؤ کی شکایات بھی جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیپال: ندی میں ملبہ سے بھراسیلاب، ۱۰؍ افراد لاپتہ، ۳۵؍ سے زائد مکانات بہہ گئے

مغربی کنارے کا تقریباً ۶۰؍ فیصد علاقہ اوسلو معاہدے کے تحت ایریا سی میں آتا ہے، جہاں شہری اور سیکوریٹی کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے۔ فلسطینی محققین کا الزام ہے کہ اسی علاقے میں آبادکاروں کے حملوں، حراستوں اور زمینوں تک رسائی کی پابندیوں کے ذریعے فلسطینی موجودگی کو کمزور کیا جارہا ہے۔ اسرائیلی حکومت آبادکاروں کے تشدد کے خلاف کارروائی کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن فلسطینیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ذمہ دار افراد کے خلاف احتساب ناکافی ہے۔ ان حالات میں فلسطینی حکام کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ اغوا اور من مانی حراست کے واقعات کی تحقیقات ہوں، متاثرہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور کسانوں کو اپنی زمینوں تک محفوظ رسائی دی جائے۔ تازہ ترین واقعات میں اٹھائے گئے 7 فلسطینیوں کی حالت کے بارے میں معلومات کی عدم دستیابی نے بھی خاندانوں اور مقامی برادریوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK