مغربی کنارے کے گھروں، عمارتوں اور گاڑیوں میں لگنے والی آگ کے ۸۹؍ فیصد واقعات کے ذمہ دار قابض اسرائیلی ہیں،جبکہ بقیہ واقعات اسرائیلی فوج کے ذریعے انجام دئے گئے۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 7:06 PM IST | Jerusalem
مغربی کنارے کے گھروں، عمارتوں اور گاڑیوں میں لگنے والی آگ کے ۸۹؍ فیصد واقعات کے ذمہ دار قابض اسرائیلی ہیں،جبکہ بقیہ واقعات اسرائیلی فوج کے ذریعے انجام دئے گئے۔
فلسطینی کمیشن برائے نوآبادیات اور مزاحمت نے جمعہ کو کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی مکانات، عمارتوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے والی آگ کے تقریباً ۸۹؍ فیصد واقعات کے ذمہ دار قابض اسرائیلی ہیں۔کمیشن نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ اس نے جنوری ۲۰۲۳ء سے ۱۰؍ جولائی ۲۰۲۶ء کے درمیان فلسطینی جائیداد کو نشانہ بنانے والی ۹۰۰ ؍آگ کے واقعات درج کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان آگ میں سے ۷۹۹؍ کے ذمہ دار قابضین تھے، جبکہ باقی ۱۰۱ واقعات اسرائیلی فوج سے منسوب کیے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’نیتن یاہو ترکی کو اسرائیل کا نیا دشمن قرار دے کرسیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں‘‘
واضح رہے کہ دستاویز شدہ آگ کے واقعات ۲۰۲۳ ءمیں ۲۱۷؍ سے بڑھ کر ۲۰۲۴ء میں ۲۶۴؍ ہو گئے۔ جبکہ ۲۰۲۵ء میں ۳۰۷؍ واقعات رونما ہوئے،اور ۲۰۲۶ء کے آغاز سے ۱۰ ؍جولائی تک کمیشن نے ۱۱۲ ؍آگ کے واقعات درج کیے۔نابلس، اور رام اللہ اور البیرہ گورنریٹ سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جن میں بالترتیب ۲۸۱ ؍اور ۲۷۱؍ آگ لگی۔ دونوں علاقوں میں مجموعی طور پر ۵۵۲ ؍واقعات رونما ہوئے، جو کمیشن کے دستاویز کردہ کل واقعات کا ۶۱؍ اعشاریہ ۳؍فیصد بنتے ہیں۔
بعد ازاں رپورٹ میں کہا گیا کہ اسی عرصے میں ۱۲۱؍ فلسطینی برادریاں مکمل یا جزوی طور پر بے گھر ہوئیں، جن میں ۴۶؍ برادریاں مکمل طور پر خالی کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں ۶۲۰۰؍ سے زائد فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے، جن میں ۳۰۰۰؍سے زیادہ بچے شامل ہیں۔کمیشن نے ان حملوں کو ’’حکومتی سرپرستی کے ماحول‘‘ سے منسوب کیا جو قابضین کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور استثنیٰ میں معاون ہے۔رپورٹ کے مطابق، غیر قانونی یہودی بستیاں تیزی سے حملوں کے لیے لانچنگ پوائنٹ بن گئی ہیں، جن میں آتش زنی، سڑکیں بند کرنا، اور فلسطینیوں کی اپنی زمین اور پانی کے ذرائع تک رسائی پر پابندیاں شامل ہیں۔