Updated: October 28, 2026, 10:06 PM IST
| Los Angeles
ہالی ووڈ کی فلم ’’یور مدر، یور مدر، یور مدر‘‘ کو امریکی مذہبی صحافت اور معروف فلمی ناقدین کی جانب سے اس لیے سراہا جارہا ہے کہ اس میں اسلامی تعلیمات، ماں کے مقام، خاندانی ذمہ داری اور ایمان کی پیچیدگیوں کو ایکشن کی کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بوسٹن گلوب نے اسے اپنی مسلم شناخت کا کھل کر اظہار کرنے والی فلم قرار دیا، جبکہ ریلیجن نیوز سروس نے اس بات کو نمایاں کیا کہ نبی کریم ﷺ سے منسوب ماں کے احترام والی حدیث کس طرح فلم کے مرکزی کردار کی زندگی اور اخلاقی کشمکش سے جڑتی ہے۔
ہالی ووڈ میں مسلم کرداروں کی عکاسی پر جاری بحث کے درمیان اداکار مہرشالا علی کی نئی فلم ’’یور مدر، یور مدر، یور مدر‘‘ نے مغربی ذرائع ابلاغ میں ایک مختلف نوعیت کی بحث چھیڑ دی ہے۔ فلم میں ایک ایسے مذہبی رجحان رکھنے والے مسلمان کی زندگی دکھائی گئی ہے جو پیشے سے قاتل ہے، لیکن بیوی کی موت کے بعد تین بچوں کی پرورش کرتے ہوئے اپنے ایمان، اعمال اور اخلاقی ذمہ داریوں کے درمیان موجود تضاد کا سامنا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی سینیٹر نے ۹؍امریکی مسلمانوں کے قتل پر اسرائیل کی جوابدہی کا مطالبہ کیا
دی بوسٹن گلوب کا تجزیہ: اسلامی اصولوں کا احترام کرنے والی فلم
امریکی اخبار دی بوسٹن گلوب کے فلمی جائزے میں اس فلم کو واضح طور پر اپنی مسلم شناخت کا اظہار کرنے والی اور اسلامی رسومات و اصولوں کا احترام کرنے والی فلم قرار دیا گیا ہے۔ اخبار کے ناقد اوڈی ہینڈرسن نے اس جانب توجہ دلائی کہ انہوں نے مسیحی اور یہودی کرداروں کو اپنے مذہبی عقائد کے بارے میں سوالات سے گزرتے ہوئے متعدد فلموں میں دیکھا ہے، لیکن کسی مسلم کردار کی نفسیات میں اس گہرائی سے اترنے والی فلم ان کے لیے ایک غیر معمولی تجربہ ہے۔ فلم کی پذیرائی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں اسلام کو صرف کردار کی ظاہری شناخت تک محدود نہیں رکھا گیا۔ نماز، مسجد، نماز جنازہ، اولاد کی تربیت اور ماں کے مقام سے متعلق حدیث کہانی کے بنیادی عناصر ہیں۔
ریلیجن نیوز سروس کا تجزیہ: ماں کے مقام والی حدیث نے امریکہ کی توجہ کھینچی
امریکی ادارے ریلیجن نیوز سروس نے اپنے جائزے میں فلم کی بنیاد بننے والی حدیث کو خصوصی اہمیت دی۔ مضمون نگار دلشاد علی کے مطابق، ماں کے احترام سے متعلق یہ حدیث محض فلم کے عنوان میں شامل نہیں، بلکہ باپ کے غم، اپنے ایمان سے اس کی کشمکش اور بچوں کے ساتھ اس کے تعلق کو سمجھنے کی کلید ہے۔ ریلیجن نیوز سروس کے جائزے میں اس بات کو بھی اہم قرار دیا گیا کہ فلم کی کہانی میں ایمان صرف اطمینان یا سکون کا ذریعہ نہیں، بلکہ غم اور آزمائش کے دوران انسان کے سامنے اٹھنے والے مشکل سوالات کا حصہ بھی بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نائیجیریا: اسلامی مبلغ یحییٰ مسوسوکا کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا
کے کیو ا ی ڈی کا تبصرہ: مسلم خاندان اور مذہبی زندگی کی عکاسی
امریکی نشریاتی و ثقافتی ادارے کے کیو ای ڈی کی ناقد نجلا مؤمن نے فلم میں مسلم خاندان کے غم، محبت اور خصوصاً سیاہ فام مسلم برادری کے تجربات کی عکاسی کو نمایاں کیا ہے۔ ان کے مطابق، فلم ان جذباتی تجربات کو سامنے لاتی ہے جو عام طور پر پردۂ سیمیں پر کم دکھائی دیتے ہیں۔ فلم میں مسجد، وضو، نماز، جنازے کی نماز اور مسلم برادری کے باہمی تعلقات کو کہانی کے قدرتی حصے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح مذہبی زندگی کو کسی الگ یا غیر معمولی سرگرمی کے بجائے کرداروں کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا دکھایا گیا ہے۔ کے کیو ای ڈی کے جائزے میں فلم کی ایک اور اہم جہت پر توجہ دی گئی ہے: اس میں مسلم کرداروں کو صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر نہیں سمجھا جاسکتا، بلکہ ان کے غم، خاندانی تعلقات، کمزوریوں اور اخلاقی سوالات کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے بھی مہرشالا علی کی اداکاری اور فلم کے منفرد انداز کو سراہا
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز نے فلمی ناقد الیسا ولکنسن کے قلم سے شائع ہونے والے جائزے میں ’’یور مدر، یور مدر، یور مدر‘‘ کی فنی خوبیوں اور اس کے مرکزی کردار کی اخلاقی کشمکش کو نمایاں کیا۔ اس جائزے کا مرکزی اخلاقی سوال بھی قابلِ توجہ ہے: کیا کوئی شخص، جو بہتر انسان بننے کی کوشش کررہا ہو، اپنے بدترین اعمال کے باوجود معافی کا مستحق ہوسکتا ہے؟ یہی سوال فلم کو عام ایکشن کہانی سے آگے لے جاتا ہے۔ لطیف اپنے اعمال کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اپنے بچوں کی پرورش اور مذہبی زندگی کے تقاضے اسے بار بار اپنے فیصلوں پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔