• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستانیوں کی خوراک میں کمی، لوگ سستی اور کم غذائیت والی اشیاء کھا رہے ہیں

Updated: September 02, 2026, 10:18 AM IST | Islamabad

پاکستانیوں کی خوراک میں تبدیلی، ملک بھر میں غذائی عدم تحفظ کے گہرے ہوتے بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق، ”معتدل سے شدید غذائی عدم تحفظ“ کے شکار گھرانوں کا تناسب ۲۰۱۹ء میں ۹۲ء۱۵ فیصد تھا جو ۲۰۲۵ء میں بڑھ کر ۳۵ء۲۴ فیصد ہوگیا ہے۔ اسی عرصے کے دوران شدید غذائی عدم تحفظ ۳۷ء۲ فیصد سے بڑھ کر ۰۴ء۵ فیصد گھرانوں تک پہنچ گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب تقریباً ایک چوتھائی پاکستانی گھرانے معتدل سے شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستانی مجموعی طور پر کم خوراک استعمال کر رہے ہیں اور تیزی سے سستے اور کم غذائیت والے متبادلات پر انحصار کر رہے ہیں۔ گزشتہ چھ برسوں کے دوران، ملک کے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں خوراک کے استعمال میں کمی آئی ہے۔ چاول، روٹی، گوشت، دودھ اور چائے سمیت تقریباً ہر بڑی غذائی کیٹیگری کے اوسط استعمال میں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ اس سے واحد استثنیٰ بناسپتی گھی ہے، جس کا استعمال ۸۱ فیصد اضافے کے ساتھ ۶۹۰ گرام سے بڑھ کر ۲۵ء۱ کلوگرام فی مہینہ ہوگیا ہے۔

پاکستانیوں کی خوراک میں تبدیلی، ملک بھر میں غذائی عدم تحفظ کے گہرے ہوتے بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق، ”معتدل سے شدید غذائی عدم تحفظ“ کے شکار گھرانوں کا تناسب ۲۰۱۹ء میں ۹۲ء۱۵ فیصد تھا جو بڑھ کر ۲۰۲۵ء میں ۳۵ء۲۴ فیصد ہوگیا ہے۔ اسی عرصے کے دوران شدید غذائی عدم تحفظ ۳۷ء۲ فیصد سے بڑھ کر ۰۴ء۵ فیصد گھرانوں تک پہنچ گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب تقریباً ایک چوتھائی پاکستانی گھرانے معتدل سے شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ: سعودی وزیر دفاع، پاکستانی آرمی چیف کا دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال

یہ رجحان، ایک خود کفیل زرعی معیشت کے طور پر پاکستان کے دیرینہ تصور کے بالکل برعکس ہے، جسے دہائیوں سے اسکول کی درسی کتب اور حکومتی پیغامات کے ذریعے تقویت دی جاتی رہی ہے۔ پاکستان ۲۰۲۱ء سے خوراک کا خالص درآمد کنندہ (نیٹ امپورٹر) رہا ہے، ملک میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مسلسل اس بات کا تعین کر رہی ہیں کہ لوگ کیا خریدنے کی سکت رکھتے ہیں۔ کھانے کو مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے، لوگ اشیاء کا سستا متبادل تلاش کر رہے ہیں، خوراک کی مقدار کم کر رہے ہیں اور اکثر غذائی افادیت کی قیمت پر سستی ترین دستیاب کیلوریز کو ترجیح دے رہے ہیں۔

بناسپتی گھی کے استعمال میں تیز رفتار اضافہ اس تبدیلی کو واضح کرتا ہے۔ گھرانوں کے غذائی انتخاب میں غذائیت کے پہلو پر سستی قیمت کا عنصر حاوی ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں: دودھ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی کم مقدار پانے والے بچوں میں نشوونما رک جانے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ ناقص خوراک استعمال کرنے والے بالغ افراد کم توانائی اور بیماریوں کے خلاف زیادہ کمزوری کا شکار ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: عمران خان کو یاد کرکے جاوید میانداد رو پڑے، کہا ’وہ بے ایمان نہیں ہیں‘

تجزیہ کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ غذائی عدم تحفظ کے خود کو دہرانے والے ایک مستقل بحران میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے، کیونکہ ناقص غذائیت صحت اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، جس سے گھرانوں کی آمدنی محدود ہوجاتی ہے اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی مزید کم ہو جاتی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو پاکستان کو ایک ایسی مستقبل کی نسل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ غریب، کم صحت مند اور غذائیت سے محروم ہوگی، جس سے موجودہ سماجی اور معاشی دباؤ مزید گہرا ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK