Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہاٹس ایپ، میسنجر پر فراڈ روکنے کے نئے فیچرز، میٹا نے انتباہی نظام متعارف کیا

Updated: March 13, 2026, 2:34 PM IST | Mumbai

میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ وہاٹس ایپ، فیس بک اور میسنجر پر نئے اینٹی اسکیم فیچرز متعارف کرا رہا ہے تاکہ صارفین کو آن لائن دھوکہ دہی سے بچایا جا سکے۔ نئے نظام میں مشکوک ڈیوائس لنکنگ، جعلی دوست درخواستوں اور فراڈ پیغامات کی شناخت کے لیے خودکار وارننگز شامل کی گئی ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

میٹا نے اپنے مختلف سوشل میڈیا ایپس وہاٹس ایپ، فیس بک اور میسنجر پر آن لائن دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے نئے حفاظتی فیچرز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صارفین کو مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں بروقت خبردار کرنا اور فراڈ کی کوششوں کو ابتدائی مرحلے میں ہی روکنا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ نئے فیچرز خاص طور پر ان عام ہتھکنڈوں کو نشانہ بناتے ہیں جن کے ذریعے دھوکہ باز صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے کہ غیر مجاز ڈیوائس لنکنگ، جعلی دوست درخواستیں اور فوری مالی مدد کے نام پر پیغامات۔ میٹا کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں متعارف کرائے گئے ہیں جب دنیا بھر میں آن لائن فراڈ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ہندوستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں اس طرح کے گھوٹالے بڑی تعداد میں رپورٹ ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پرھئے: مسافروں کی فوری مدد اور شکایات کے ازالے کیلئے ہیلپ ڈیسک کو مزید فعال بنانے کی پہل

کمپنی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اس نے عالمی سطح پر دھوکہ دہی سے متعلق ۱۵۹؍ ملین اشتہارات کو ہٹا دیا تھا، جن میں سے تقریباً ۹۲؍  فیصد ایسے تھے جنہیں صارفین کی رپورٹ سے پہلے ہی خودکار نظام کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔ میٹا کے مطابق صرف ۲۰۲۵ء کے دوران ہندوستان میں ہی دھوکہ دہی پر مبنی اشتہاری مواد کے ۱ء۱۲؍ ملین سے زیادہ نمونے ہٹائے گئے، جن میں سے ۹۳؍ فیصد سے زیادہ کو صارفین یا حکام کی شکایت سے پہلے ہی بلاک کر دیا گیا تھا۔
وہاٹس ایپ پر ایک اہم نئی خصوصیت ڈیوائس لنکنگ کے حوالے سے متعارف کرائی گئی ہے۔ اس فیچر کے تحت اگر کوئی مشکوک سرگرمی محسوس ہوتی ہے تو صارف کو فوری وارننگ دی جائے گی۔ دھوکہ باز اکثر لوگوں کو مختلف بہانوں سے کیو آر کوڈ اسکین کرنے یا تصدیقی کوڈ شیئر کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، جس کے بعد وہ صارف کے اکاؤنٹ کو اپنے آلے سے لنک کر لیتے ہیں۔ نئے سسٹم کے تحت اگر کسی درخواست میں خطرے کے آثار نظر آئیں تو وہاٹس ایپ ایک انتباہی پیغام دکھائے گا جس میں بتایا جائے گا کہ یہ ممکنہ طور پر دھوکہ دہی ہو سکتی ہے۔ اس طرح صارف کو فیصلہ کرنے سے پہلے سوچنے کا موقع ملے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی ودھان بھون کو بم سے اُڑانے کی دھمکی، سیکوریٹی ہائی الرٹ

فیس بک پر بھی ایک نیا وارننگ سسٹم آزمایا جا رہا ہے جو اس وقت فعال ہوگا جب کسی مشکوک اکاؤنٹ سے دوستی کی درخواست موصول ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی اکاؤنٹ کے مشترکہ دوست بہت کم ہوں یا اس کا رویہ غیر معمولی ہو تو صارف کو خبردار کیا جائے گا۔ اسی طرح میسنجر میں بھی جدید اسکیم ڈیٹیکشن نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اگر کسی گفتگو میں جعلی ملازمت کی پیشکش، سرمایہ کاری کے دھوکے یا فوری رقم مانگنے جیسے پیغامات سامنے آئیں تو صارف کو چیٹ کے اندر ہی وارننگ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ صارفین کو یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ وہ مشتبہ پیغامات کو مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کے ذریعے جانچ کے لیے بھیج سکیں۔ اگر پیغام دھوکہ دہی پر مبنی ثابت ہو تو پلیٹ فارم صارف کو متعلقہ اکاؤنٹ کو بلاک یا رپورٹ کرنے کی ہدایت دے گا۔
میٹا نے کہا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سائبر سیکوریٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہندوستان میں کمپنی نے حال ہی میں انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر اور سیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کے ساتھ مل کر ’’اسکیم سے بچو‘‘ Scam Se Bacho نامی مہم کا تیسرا مرحلہ بھی شروع کیا ہے، جس کا مقصد عوام کو آن لائن دھوکہ دہی سے آگاہ کرنا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK