Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’جہاں پی این جی کی سہولت ہے، وہاں ۳۰؍ جون سے ایل پی جی سپلائی بندکی جائیگی‘‘

Updated: April 07, 2026, 10:04 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور شہری رسد و خوراک کے کنٹرولر کا پریس کانفرنس میں اعلان ۔تیل کمپنی کے نمائندے نے دعویٰ کیا کہ دیگر علاقوں میں ایل پی جی سلنڈر ۳؍ دن میں سپلائی کیاجارہا ہے۔

In A Press Conference Held In The Press Room Of The Ministry, Additional Chief Secretary Of Civil Supplies And Food Anil Degekar And Other Officers Said.Photo:INN
منترالیہ کے پریس روم میں منعقدہ پریس کانفرنس میں شہری رسدوخوراک کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری انل ڈیگیکر اوردیگر افسران - تصویر:آئی این این
جن علاقوں میں پائپڈ نیچرل گیس (  پی  این جی) کی لائن ہےاور کنکشن لینے کی سہولت ہے،  اس کے باوجود وہاں کے صارفین ایل پی جی سلنڈر کا استعمال کر رہے ہیں تو ایسے صارفین کو ۳۰؍ جون ۲۰۲۶ء کے بعد ایل پی جی سلنڈر سپلائی نہیں کیا جائے گا۔یہ اعلان پیر کو منترالیہ میں واقع پریس روم میںمنعقدہ پریس کانفرنس میں رسدو خوراک کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری انل ڈیگیکر نے کیا۔  پریس کانفرنس میں راشننگ کنٹرولر چندرکانت ڈانگے، پرنسپل سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل برجیش سنگھ، پی آئی بی کی ڈائریکٹر جنرل سمیتا وتشرما، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن، زراعت کے ڈائریکٹر سنیل بورکر اور دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔یہ پریس کانفرنس ریاست میں تیل اور ایل پی جی سلنڈروں کی موجودہ صورتحال سے عوام کو آگاہ کرانے کیلئےمنعقد کی گئی تھی۔
’’صارفین میں گھبراہٹ کے سبب ایسا ہواتھا‘‘
پریس کانفرنس میں   افسران نے  دعویٰ کیا کہ ایل پی جی اور ڈیزل /پیٹرول کی ریاست میں کوئی کمی نہیں ہے۔  یہ بھی کہا کہ رسوئی گیس ری فلنگ کی درخواست موصول ہونے کے ۳ ؍دن میں سلنڈر سپلائی کیا جارہا ہے اور ۲۵ ؍دن کے بعد دوسرا سلنڈر  بک کیا جا سکتا ہے۔ جب ان افسران سے سلنڈر کے حصول کیلئے لمبی لمبی قطار لگنے اور ۱۰؍ دن بعد بھی گیس سلنڈر سپلائی نہ کرنے کی بارے میں پوچھا گیا تو انہوںنے بتایا کہ صارفین میں گھبراہٹ کے سبب ایسا ہوا تھا لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔
پریس کانفرنس میں شہری رسدوخوراک کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری انل ڈگیکرنے کہا کہ ’’ریاست میں پی این جی کنکشن کی تعداد ۲۵؍  لاکھ ۳۶؍ ہزار تک پہنچ گئی ہے اور ایک ماہ میں ۷۳؍ ہزار نئے کنکشن دیئے گئے ہیں۔ سٹی گیس ڈسٹری بیوٹر (سی جی ڈی )پائپ لائن کیلئے ’ ڈیمڈ پرمشن‘ دینے کا فیصلہ نیٹ ورک کی توسیع کو تقویت دے گا۔ جہاں این پی جی نیٹ ورک پہنچ چکا ہے، وہاں کے صارفین کو پی این جی کیلئے رجسٹر کرنے کی ضرورت ہے ۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری ا نل ڈگیکر نے بتایا کہ  ان علاقوں میں ایل پی جی کی سپلائی جاری رہے گی جہاں پی این جی   لائن بچھانا ممکن نہیں ہے اورریاست میں ایل پی جی، پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی آسانی سے جاری ہے۔
پی این جی اور سی جی ڈی نیٹ ورک کو فروغ دینا
ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈگیکر نے کہا کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین پر کچھ رخنہ ڈالا ہے لیکن ریاست میں اس کی سپلائی ہموار ہے۔انہوںنے مزید کہا کہ جہاں بھی ممکن ہوا، پی این جی کے استعمال میں اضافہ کیا جائے گا۔ جہاں پائپ لائن گیس کی سپلائی ممکن ہے ، ان جگہوں پر۳۰؍ جون تک پی این جی لازمی ہے اور جن علاقوں میں پی این جی پائپ لائن بچھانا ممکن نہیں ، وہاں ایل پی جی کی سپلائی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ ان علاقوں میں اس کا استعمال بڑھایا جائے  گا جہاں پی این جی کنکشن دستیاب ہے اور صارفین کے نقطہ نظر سے پی این جی ۲۰؍ تا ۲۲؍ فیصد سستی ہے اور اس کی ملکی پیداوار زیادہ ہے۔ ا نل ڈگیکر کے بقول ’’ جہاں بھی پی این جی نیٹ ورک پہنچ گیا ہے ، وہاں صارفین کو رجسٹر کرنا چاہئے۔
 
 
’’ایندھن کی کوئی کمی نہیں‘‘
ریاست میں تقریباً ۲۴؍آئل ڈپو کے ذریعے تقریباً۸؍ ہزار ۱۰۰؍پیٹرول پمپ کی خدمات حاصل  ہیں اور روزانہ تقریباً۱۸؍ ہزار ۵۰۰؍ کلولیٹر پیٹرول اور۴۰؍ ہزارکلولیٹر ڈیزل تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے کیونکہ یکم اور ۴؍ اپریل کے درمیان فروخت بھی پچھلے مہینوں کی اوسط کے مطابق ہے۔
 
 
ایل پی جی کی سپلائی کنٹرول میں ہونے کا دعویٰ 
راشننگ کنٹرولر چندرکانت ڈانگے نے کہا کہ ریاست میں۲۳؍بوٹلنگ پلانٹس کے ذریعے تقریباً  ۲؍ ہزار ۲۰۰؍ ڈسٹری بیوٹرس اور۳؍ کروڑ ۵۰؍ لاکھ صارفین کو خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کا کافی ذخیرہ ہے اور روزانہ اوسطاً۵؍ لاکھ ۸۲؍ ہزار تقسیم کئے جا رہے ہیں۔تقسیم کاری کو شفاف بنانے کیلئے ڈی اے سی (ڈیلیوری آتھنٹی فکیشن کوڈ) کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK