وہائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی فوجیں ٹرمپ کے گرین لینڈ کے حصول کے مقصد پر اثر نہیں ڈالیں گی، جبکہ گرین لینڈ کے عوام نے امریکی کوششوں کو مسترد کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 16, 2026, 10:14 PM IST | Washington
وہائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی فوجیں ٹرمپ کے گرین لینڈ کے حصول کے مقصد پر اثر نہیں ڈالیں گی، جبکہ گرین لینڈ کے عوام نے امریکی کوششوں کو مسترد کردیا ہے۔
وہائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گرین لینڈ میں تشکیل پانے والا یورپی فوجی اتحاد صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اس خود مختار، معدنیات سے مالا مال علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے امریکی عزائم سے باز نہیں رکھے گا۔پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے جمعرات کو وہائٹ ہاؤس کے پریس بریفنگ میں کہا،’’میرا خیال نہیں کہ یورپ میں فوجیں صدر کے فیصلہ سازی کے عمل پر اثر انداز ہوںگی، نہ ہی یہ گرین لینڈ کے حصول کے ان کے ہدف پر کوئی اثر ڈالیں گی۔‘‘دریں اثناءڈنمارک، گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی بدھ کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے لیویٹ نے کہا: ’’اس ملاقات میں، دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ گرین لینڈ کے حصول پر تکنیکی بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم کیا جائے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ بات چیت ہر دو سے تین ہفتے بعد ہوگی۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’روس یوکرین تنازع ختم نہ ہونے کیلئے پوتن سے کہیں زیادہ زیلنسکی ذمہ دار‘‘
بعد ازاں وائٹ ہاؤس مذاکرات میں شرکت کے بعد، ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکی راسمسن نے جمعرات کو پوسٹ کیا،’’ہم آرکٹک میں طویل مدتی سیکیورٹی کو بڑھانے پر متفق ہیں۔ لیکن ہم طریقہ کار پر متفق نہیں ہیں۔یہ۲۰۲۶ء ہے - آپ لوگوں کے ساتھ تجارت کر سکتے ہیں، لیکن آپ لوگوں کی تجارت نہیں کر سکتے۔‘‘ جبکہ ٹرمپ کا اصرارہے کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول چاہتے ہیں، لیکن گرین لینڈ کے باشندے کہتے ہیں کہ یہ برائے فروخت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ یہ جزیرہ ڈنمارک کا نیم خود مختار علاقہ ہے، اور اس ملک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ گرین لینڈ پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کے نتیجے میں نیٹو کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ادھر، گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے کہا کہ ’’مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا صحیح راستہ ہے،‘‘ اور اس بات کی تعریف کی کہ بات چیت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی وزیرخارجہ کی اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے فون پر گفتگو
دوسری جانب ۲؍ ڈینش فوجی ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز بدھ کو گرین لینڈ میں اترے۔برطانیہ، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے اور سویڈن نے بھی ڈنمارک کے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ منظم کیے گئے ’’آرکٹک اینڈیورنس‘‘ مشق کے تحت، گرین لینڈ کے دارالحکومت نُوک میں ایک جاسوسی مشن کے حصے کے طور پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔تاہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے اعظم جمعہ اور سنیچرکو کوپن ہیگن میں امریکی کانگریسی وفد سے ملیں گے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے بار بار کہا ہے کہ امریکہ کو بنیادی طور پر قومی سلامتی کی وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ان کی دلیل ہے کہ روس اور چین سے ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے جزیرے کا محل وقوع حکمت عملی کے لحاظ سے نہایت ضروری ہے، اور ان کا دعویٰ ہے کہ اگر امریکہ کنٹرول نہیں کرے گا تو مخالفین کر لیں گے۔ٹرمپ نے زور دیا ہے کہ ڈنمارک کے ساتھ موجودہ امریکی فوجی معاہدے یا لیز ناکافی ہیں، اور اصرار کرتے ہیں کہ اس علاقے کی مناسب طریقے سے دفاع کرنے، میزائل کے خطرات پر نظر رکھنے اور تجویز کردہ ’’گولڈن ڈوم‘‘ میزائل ڈیفنس سسٹم جیسے اقدامات کی حمایت کے لیے مکمل قبضہ ضروری ہے۔مزید برآںسیکورٹی کے علاوہ، ٹرمپ پگھلتی ہوئی آرکٹک برف کے دور میں گرین لینڈ کی جیو پولیٹیکل اہمیت کو بھی ملحوظ رکھے ہوئے ہیں، جو نئے شپنگ راستے کھول دے گی، اس کے علاوہ گرین لینڈ کے وسیع غیر دریافت شدہ وسائل - جیسے نایاب زمینی معدنیات، تیل اور گیس پر بھی ٹرمپ کی نظر ہے۔