Updated: January 25, 2026, 5:06 PM IST
| Geneva
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے امریکہ کے ڈبلیو ایچ او سے انخلا کی وجوہات کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے دنیا کم محفوظ ہو جائے گی۔ ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد امریکہ کے باضابطہ انخلا کا عمل شروع ہو چکا ہے، جس پر ڈبلیو ایچ او نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ٹیڈروس ایڈہانوم۔ تصویر: آئی این این
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسز نے امریکہ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت سے علاحدگی کی دی گئی وجوہات کو ’’غیر حقیقی‘‘ قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسز نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کیلئے پیش کی گئی وجوہات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، اس فیصلے سے خود امریکہ اور پوری دنیا ’’کم محفوظ‘‘ ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے۲۰؍ جنوری۲۰۲۵ء کو اپنی دوسری مدت صدارت کے پہلے دن ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کئےجس کے ذریعے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے سے امریکہ کے باضابطہ انخلا کا آغاز کیا گیا، اقوام متحدہ کو دو دن بعد اس حوالے سے باضابطہ نوٹس موصول ہوا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت نوٹس د یئےجانے کے ایک سال بعد انخلا مؤثر ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: منی ایپولس میں ہنگامہ، ٹرمپ کا گورنر اور میئر پر بغاوت اکسانے کا الزام
ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسز نے عالمی ادارہ صحت کے بانی رکن کے طور پر امریکہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ڈبلیو ایچ او سے امریکہ کے انخلا کیلئے جو وجوہات بیان کی گئی ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کو کم محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ مستقبل میں دوبارہ عالمی ادارۂ صحت میں فعال کردار ادا کرے گا۔ دریں اثنا، عالمی ادارۂ صحت نے اپنے ایک بیان میں امریکہ کے انخلا پر افسوس کا اظہار کیا اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا۔ بیان کے مطابق امریکہ کی علاحدگی سے متعلق امور پر عالمی ادارۂ صحت کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں غور کیا جائے گا جو۲؍ فروری سے شروع ہو رہا ہے جبکہ مئی۲۰۲۶ء میں ہونے والے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں بھی اس پر بات کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا اور چین کی قربت پر ٹرمپ چراغ پا، ٹیرف کی دھمکی
ان نتائج سے نمٹنے کے حوالے سے عالمی ادارۂ صحت کے سیکریٹریٹ نے کہا کہ وہ اپنے حکومتی اداروں کی مشاورت اور رہنمائی کے مطابق اقدامات کرے گا۔ ڈبلیو ایچ او کے ایک پریس اہلکار نے بدھ کے روز شنہوا کو ای میل میں یہ بات بتائی۔ اہلکار کے مطابق امریکہ نے تاحال اپنی واجب الادا رکنیت فیس ادا نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ آج کی تاریخ تک امریکہ نے۲۰۲۴ء-۲۰۲۵ءکیلئے مقررہ رکنیت کی مد میں رقم ادا نہیں کی۔ امریکی نشریاتی ادارے نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) کے مطابق بقایا جات کی مجموعی رقم کا تخمینہ ۲۷۸؍ ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔