Inquilab Logo Happiest Places to Work

عام شہریوں کاڈیٹا دہلی پولیس کوکس نے دیا؟

Updated: August 20, 2026, 10:06 AM IST | Agency | New Delhi

جنتر منتر پر ’فیشیل ریکگنیشن‘ کے استعمال پر اہم سوال،مجرمانہ ریکارڈ کے حامل افراد کے ساتھ ہی عام مظاہرین کی شناخت میں   بھی دہلی پولیس کی کامیابی پر ٹی ایم سی لیڈر نے سوال اٹھایا، کہا : کیا الیکشن کمیشن،آدھار، انکم ٹیکس یا ٹرانسپورٹ محکمہ نے ڈیٹا بیس پولیس کو فراہم کیا۔

Police used facial recognition technology at Jantar Mantar—a move that has faced criticism from day one. Picture: INN
جنتر منتر پر پولیس نے فیشیل ریکگنیشن تکنالوجی کا استعمال کیا جس پر روز اول سے تنقید ہورہی ہے۔ تصویر: آئی این این

 جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی(فیشیل ریکگنیشن) کے استعمال  کے تعلق سے  دہلی پولیس کےاعتراف کے بعد ٹی ایم سی لیڈر اور راجیہ سبھا کے سابق رکن ساکیت گوکھلے نے ملک کے عام شہریوں  کے ڈیٹا بیس اور ان کی پروائیویسی کے حوالے سے سنگین سوال کیا ہے۔  اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کسی کا چہرہ ریکارڈ کرلینے کے بعد اس کی شناخت کیلئے ضروری ہے کہ وہ چہرہ ڈیٹا بیس میں موجود ہو۔  یہ مانتے ہوئے کہ جرائم پیشہ افراد کا ڈیٹا پولیس کے پاس ہوتا ہے، گوکھلے نے حیرت کااظہار کیا ہے کہ پولیس عام شہریوں کی شناخت کرنے میں بھی کامیاب   رہی۔ انہوں  نے سوال کیا کہ یہ کیسے ممکن ہوا اور کیا ملک کے وہ ادارے جن کے پاس شہریوں کا ڈیٹابیس ہے، انہوں نے پولیس کو یہ ڈیٹابیس فراہم کیا ؟

یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا نے ہندوستانی باسمتی چاول کی کھیپ مسترد کی، ذمہ دار کون؟

گوکھلے نے کہا کہ کسی شخص کے چہرے کی شناخت کیلئے اس کی تصویر اور دیگر معلومات پر مشتمل ڈیٹا بیس ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ دہلی پولیس کو احتجاج میں شامل افراد کی تصاویر اور معلومات کا یہ ڈیٹا کہاں سے ملا۔انہوں نے الیکشن کمیشن  اور آدھار،  محکمہ انکم ٹیکس، ٹرانسپورٹ محکمہ اور دیگر محکموں  سے سوال کیا ہے کہ کیا انہوں نے گزشتہ ماہ جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران چہرے کی شناخت کیلئے پولیس کو اپنا ڈیٹا بیس فراہم کیا ہے۔ گوکھلے نے بتایا کہ ۲۰۲۰ء میں ان کی جانب سے دائر کی گئی آر ٹی آئی کے جواب میں الیکشن کمیشن نے اعتراف کیا تھا کہ دہلی فسادات کی تحقیقات کے دوران اس نے تصاویر سمیت مکمل ووٹر فہرست دہلی پولیس کے ساتھ شیئر کی تھی۔انہوں  نے نشاندہی کی کہ   الیکشن کمیشن کے اپنے ضوابط کسی بھی ادارہ کے ساتھ تصاویر والی انتخابی فہرستیں شیئر کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے ۲۰۲۰ء میں اپنے ہی ضوابط کی خلاف ورزی کی اور یہ ڈیٹا دہلی پولیس کو فراہم کیا۔

انہوں نے سوال کیاکہ’’ کیا الیکشن کمیشن نے جنتر منتر کے احتجاج کے دوران چہرے کی شناخت کے ڈیٹا بیس کیلئے(ملک بھر کی) تصاویر والی ووٹر فہرستیں دہلی پولیس کو فراہم کیں؟ دیگر کون سے اداروں نے  چہرے کی شناخت کیلئے استعمال ہونے والا اپنا ڈیٹا بیس دہلی پولیس کے ساتھ شیئر کیا ہے؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK