• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۷۶؍ سال میں ایک بھی ’’ممتاز ماہرِ قانون‘‘ سپریم کورٹ جج کیوں نہیں بنا؟

Updated: September 04, 2026, 9:03 AM IST | Mumbai

آئین کے آرٹیکل ۱۲۴ (۳) کے تحت کسی ’’ممتاز ماہرِ قانون‘‘ کو بھی سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا جاسکتا ہے، مگر آئین نافذ ہونے کے ۷۶؍  سال سے زیادہ عرصے میں اس راستے سے ایک بھی تقرری نہیں ہوئی۔ سپریم کورٹ کے جسٹس اجّل بھویان نے ۳۰؍ اگست کو نیشنل لا یونیورسٹی دہلی میں اس غیر استعمال شدہ آئینی شق پر توجہ دلائی اور کہا کہ اس سے عدالتی بنچ میں تنوع آئے گا اور قانونی تعلیم و تحقیق سے وابستہ ماہرین اعلیٰ سطحی عدالتی فیصلوں میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

Supreme Court of India. Picture: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ کے جسٹس اجّل بھویان نے آئین کی ایک ایسی شق پر سوال اٹھایا ہے جس کے تحت ممتاز ماہرِ قانون کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا جاسکتا ہے، لیکن گزشتہ ۷۶؍ سال سے زیادہ عرصے میں اس کا ایک مرتبہ بھی استعمال نہیں ہوا۔جسٹس بھویان نے ۳۰؍ اگست کو نیشنل لا یونیورسٹی دہلی کے ایل ایل ایم پروگرام کی ۱۳؍ ویں تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے آرٹیکل ۱۲۴ (۳) کو آئین کا ’’غیر استعمال شدہ اختیار‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس پر ’’سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے‘‘۔ آئین کے آرٹیکل ۱۲۴ (۳) کے مطابق ہندوستانی شہری سپریم کورٹ کا جج بننے کا اہل ہے اگر وہ کم از کم ۵؍  سال کسی ہائی کورٹ کا جج رہا ہو، یا کم از کم ۱۰؍ سال ہائی کورٹ میں وکیل کی حیثیت سے کام کرچکا ہو، یا صدر کی رائے میں ’’ممتاز ماہرِ قانون‘‘ ہو۔ پہلے ۲؍  راستے استعمال ہوتے رہے ہیں، لیکن تیسری شق آج تک استعمال نہیں ہوئی۔ 

یہ بھی پڑھئے:بار کونسل کے صدر منن مشرا کو سپریم کورٹ سے پھر جھٹکا

جسٹس بھویان کے مطابق ممتاز ماہرِ قانون کی تقرری سے سپریم کورٹ کے بنچ میں تنوع آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ماہرین ’’تنگ فنی قانونی نکات‘‘ تک محدود نہیں رہیں گے اور عوامی قانون سے متعلق معاملات سے نمٹنے میں زیادہ وسیع نقطۂ نظر فراہم کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق قانونی تعلیم اور تحقیق سے وابستہ ماہرین کی شرکت سپریم کورٹ کے فیصلہ سازی کے عمل پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ شق آئین ساز اسمبلی کی بحث کے دوران ۲۴؍ مئی ۱۹۴۹ء کو شامل کی گئی تھی۔ ایچ وی کامتھ نے دلیل دی تھی کہ سپریم کورٹ کے لیے امیدواروں کا دائرہ صرف ججوں اور وکیلوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے افراد کو بھی موقع ملنا چاہیے جن کے پاس غیر معمولی قانونی اور فقہی علم ہو، چاہے انہوں نے عدالت میں وکالت نہ کی ہو۔
اس تجویز کی حمایت ایم اننتھ سایانم ایّنگر نے بھی کی۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ عملی وکالت کرنے والے وکیل کو بعض آئینی مسائل کا اتنا وسیع تجربہ نہیں ملتا جتنا سپریم کورٹ کو روزانہ درپیش ہوتا ہے۔ انہوں نے امریکہ میں ہارورڈ کے ایک قانون کے پروفیسر کو سپریم کورٹ میں مقرر کیے جانے کی مثال بھی پیش کی تھی۔ آئین کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے اس خیال کی مخالفت نہیں کی، البتہ ’’Distinguished‘‘ کی اصطلاح پر غور کرنے کی بات کی تھی۔ بالآخر یہ شق آئین کا حصہ بن گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر رَد مگر طلبہ کی یونینیں اب بھی پوری طرح مطمئن نہیں

سوال یہ ہے کہ پھر آج تک اس کا استعمال کیوں نہیں ہوا۔ جسٹس بھویان نے ۲؍ ممکنہ وجوہات بیان کیں۔ ان کے مطابق ایک امکان یہ ہے کہ پہلے مرکزی حکومت اور بعد میں عدالتی کولیجیئم نے ہندوستانی قانونی تعلیمی اداروں میں کسی ایسے ماہر کو نہیں پایا جسے سپریم کورٹ کے جج کے لیے موزوں سمجھا جائے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ اس شق کو کبھی سنجیدگی سے تلاش اور استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ موجودہ تقرری کے نظام میں بھی ایک عملی رکاوٹ موجود ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے نام پہلے کولیجیئم کی سفارش کے ذریعے آگے بڑھتا ہے، جس کے بعد حکومت اور صدر کا آئینی عمل شروع ہوتا ہے۔ اس لیے آرٹیکل ۱۲۴ (۳) میں ’’ممتاز ماہرِ قانون‘‘ کا راستہ موجود ہونا خود بخود کسی شخص کی تقرری کا عمل شروع نہیں کرتا۔ 
قابلِ ذکر ہے کہ ہائی کورٹ کے لیے بھی ایک وقت ’’ممتاز ماہرِ قانون‘‘ کی تقرری کی گنجائش شامل کی گئی تھی۔ ۴۲؍ ویں آئینی ترمیم کے ذریعے یہ شق شامل ہوئی، لیکن بعد میں ۴۴؍ ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اسے ختم کردیا گیا۔ قانونی ماہر اپیندر بیکسی نے ۲۰۱۵ء میں ایک انٹرویو میں اپنے ایک پرانے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہیں کبھی یہ اشارہ ملا تھا کہ انہیں جج مقرر کیا جاسکتا ہے، مگر یہ تقرری نہیں ہوئی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ ہندوستان کے صدور ’’دوربین لے کر دیکھتے رہے اور انہیں مقرر کرنے کے قابل کوئی ماہرِ قانون نہیں ملا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK