اکھلیش یادو کا سوال ، سماجوادی پارٹی کے سربراہ نےکہا کہ اسمبلی کی لسٹ میں ۲ ؍کروڑ ۸۸ ؍لاکھ ووٹروںکے نام کٹے تو پنچایت کی لسٹ میں چالیس لاکھ ووٹروں کو شامل کیسے کیا گیا؟
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 11:41 AM IST | Lucknow
اکھلیش یادو کا سوال ، سماجوادی پارٹی کے سربراہ نےکہا کہ اسمبلی کی لسٹ میں ۲ ؍کروڑ ۸۸ ؍لاکھ ووٹروںکے نام کٹے تو پنچایت کی لسٹ میں چالیس لاکھ ووٹروں کو شامل کیسے کیا گیا؟
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادونے ایس آئی آر کے معاملے میں مرکزی الیکشن کمیشن پر ایک بار پھر سوال اٹھائےہیں ۔ انھوںنے کہاکہ اسمبلی ا ور پنچایت الیکشن کی ڈرافٹ لسٹ تیار کرنے والے بی ایل او جب ایک ہی ہیں، تودونوں کے ووٹروں کو تعداد میں اتنا فرق کیوں ہے۔
ایس آئی آر میں ۲ ؍کروڑ ۸۸؍ لاکھ ووٹروں کے نام کٹے ہیں جبکہ ریاستی الیکشن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ پنچایت کی ووٹر لسٹ میں۴۰؍لاکھ ووٹروں کو شامل کیا گیا ہے۔انھوںنے پوچھا کہ کون سی ووٹر لسٹ کو درست کہا جائے۔ انہوں نے ساز ش کے تحت پی ڈی اے سماج کے ووٹ کاٹنے کابی جے پی پر الزام عائد کیا ۔ اس موقع پر انھوںنے ووٹرکو آدھار کارڈسے لنک کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: بدلاپور جنسی زیادتی کے ملزم کوبی جے پی نےکونسلر بنا دیا
ایس آئی آر کے بعد اتر پردیش میں ۲ ؍کروڑ ۸۸ ؍لاکھ ووٹروںکے نام ہٹائے جانے اور پنچایت الیکشن کے پیش نظر ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے ۸۰؍ لاکھ نئے ووٹرسکے نام شامل کرنے کے بیان پر سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے پارٹی کے ریاستی دفتر میں پریس کانفرنس کی ، جس میں انھوںنے الیکشن کمیشن کوجم کر تنقید کا نشانہ بنایا۔انھوںنے کہاکہ حکومت نے سبھی بوتھوں پر ۲؍ سو ووٹ بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایس آئی آرکے ذریعہ پچھلے دروازے سے این آر سی کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جب کہ یہ کام وزارت داخلہ کاہے ۔ انھوںنے اتر پردیش میں پی ڈی اے سماج کے ۳؍سے ۴؍ کروڑ ووٹ کاٹنے کو ایک سازش بتایا ۔ پی ڈی اے پرہری اور پارٹی کے بی ایل اے کو مستعد رہنے کی تلقین کرتے ہوئے اکھلیش یادو نےکہاکہ جہاں کہیں بھی ان کو گڑبڑی نظر آئے وہ ایف آئی آر درج کرائیں۔
اس دوران انھوںنے تمام ووٹروںکو آدھار کارڈسے منسلک کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ انھوںنے کہاکہ ایس آئی آر کے دوران ہی اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے چار کروڑ ووٹروںکے نام ہٹائے جانے کی بات اپنےخطاب میں کہی تھی۔ انھوں نے کہاکہ کسی کو کیا معلوم کہ ایس آئی آر کے ذریعہ کتنے ووٹ کٹیںگے ، ان کا یہ بیان ریکارڈ میں ہے، جب پہلے سے ہی ووٹروں کی تعداد طے کر دی جائےتو ایس آئی آر میں شفافیت کہاں رہ گئی ۔
پریس کانفرنس کے دوران اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوال بھی اٹھائے ۔ انھوںنے کہاکہ جب ایک ہی بی ایل او سے پنچایت اور اسمبلی ووٹر لسٹ کی ایس آئی آر کرائی گئی تو دونوں کی ووٹر لسٹ میں تضاد کیوں ہے۔ سماجوادی سربراہ نے کہاکہ اسمبلی کی ووٹر لسٹ میں ۲ ؍کروڑ ۸۸؍ لاکھ ووٹروںکے نام کٹے جب کہ پنچایت الیکشن میں انھیں بی ایل او نے ۴۰؍لاکھ ووٹرس کے نام شامل کیسے کردیئے؟ کیا اسی کوچھپانے کے لئے پنچایت الیکشن کی فائنل لسٹ کی اشاعت ۵۰؍روز کے بعد کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کشمیر میں شدید ٹھنڈ، شوپیان میں درجہ حرارت منفی ۸؍ ڈگری
اکھلیش یادو نے سوال کیا کہ دونوں میں سے کون سی ایس آئی آر درست ہے۔ انھوںنے کہاکہ کبھی الیکٹرولر بانڈ کے ذریعہ جس کمپنی نے بی جے پی کو چندہ دیا ، اسی کمپنی نے الیکشن کمیشن کا ایپ تیار کیا ہے تو کمیشن ایماندار کیسے ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ انھوںنے کہاکہ جہا ں الیکشن ہونے والے ہوتے ہیں ،ای ڈی وہاں سرگرم ہو جاتی ہے۔ انھوںنے کہا کہ اتر پردیش میں ۸۰۰؍ کروڑ روپے کے کف سیرپ معاملے میںای ڈی کیوں سرگرم نہیں ہوئی ۔اتر پردیش میں بیٹیاں غیر محفوط ہیں اور خواتین کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔