• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اویسی کا ’’باحجاب وزیرِ اعظم‘‘ کا خواب؛ سیاسی حلقوں میں لفظی جنگ چھڑ گئی، بی جے پی حملہ آور

Updated: January 10, 2026, 8:04 PM IST | Mumbai

بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پونہ والا نے اویسی کو چیلنج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ پہلے کسی ’پسماندہ‘ مسلم یا حجاب پہننے والی خاتون کو اے آئی ایم آئی ایم کا صدر مقرر کریں۔

Asaduddin Owaisi. Photo: INN
اسدالدین اویسی۔ تصویر: آئی این این

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اور حیدرآباد سے رکنِِ پارلیمنٹ، اسدالدین اویسی نے مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے دوران ایک ریلی میں متنازع بیان دے کر سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے۔ جمعہ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ وہ ایک باحجاب خاتون کو ہندوستان کے وزیرِ اعظم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس بیان پر  بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

مہاراشٹر کے سولاپور میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کا پاکستان سے موازنہ کیا۔  انہوں نے معمار آئینِ ہند ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی جامع وراثت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی آئین اپنی اعلیٰ قیادت کو ایک مذہب تک محدود رکھتا ہے جبکہ ہندوستانی آئین ہر شہری کو اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچنے کی اجازت دیتا ہے۔ اویسی نے مجمع سے کہا کہ ’’میرا خواب ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب اس ملک کی ایک باحجاب بیٹی وزیرِ اعظم بنے گی۔‘‘ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی موجودہ ’’نفرت کی سیاست‘‘ کا آخرکار خاتمہ ہو جائے گا اور اس کی جگہ محبت کا جذبہ جنم لے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ایم آئی ایم کی جیت ہوئی تو عبدالمالک یونس مالیگائوں کے میئر ہوں گے

’’اسلام آباد یا کراچی چلے جاؤ‘‘: نتیش رانے

اویسی کے اس بیان پر مہاراشٹر کے وزیر اور بی جے پی لیڈر نتیش رانے نے فوری اور جارحانہ ردِعمل دیا۔ سنیچرکو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانے نے اویسی کے اس تصور کو ’’ہندو راشٹر‘‘ میں ایک ’’اشتعال انگیزی‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ رانے نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی ۹۰؍ فیصد آبادی ہندو ہے، اور مزید کہا کہ ’’حجاب یا برقع پہننے والی کوئی بھی خاتون ملک کی وزیرِ اعظم یا ممبئی میں میئر نہیں بن سکتی۔ جو لوگ اس کی خواہش رکھتے ہیں وہ اسلام آباد یا کراچی جا سکتے ہیں، ان کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘

’’ممدانی کا مقامی ورژن بننے کی کوشش نہ کریں‘‘: شہزاد پونہ والا

بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پونہ والا نے اویسی کو چیلنج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ پہلے کسی ’پسماندہ‘ مسلم یا حجاب پہننے والی خاتون کو اپنی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کا صدر مقرر کریں۔ پونہ والا نے امریکی شہر نیویارک کے پہلے مسلم میئر بننے والے ظہرانی ممدانی کی جیت کا حوالہ دیتے ہوئے اویسی کو خبردار کیا کہ ’’وہ یہاں (ظہران) ممدانی کا ورژن بننے کی کوشش نہ کریں۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مہاراشٹر اور خاص طور پر برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی قیادت ’’ہندو-مراٹھی‘‘ شناخت کے ساتھ وابستہ رہے گی۔

یہ بھی پڑھئے: ظہران ممدانی کو اپنی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے: عمر خالد پر تبصرے پر ہندوستان کا ردعمل

مرکزی وزیر برائے ٹیکسٹائل گری راج سنگھ نے بھی اسی جذبے کا اظہار کرتے ہوئےاویسی کو خبردار کیا کہ ماضی کی ’’خوشامد کی غلطیاں‘‘ دہرائی نہیں جائیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’یہاں کوئی دوسرا پاکستان نہیں بنے گا۔‘‘ سنگھ نے زور دیا کہ قانون کی حکمرانی ’’غزوہ ہند‘‘ کی ذہنیت پر غالب رہے گی۔

’’وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے کوئی جگہ خالی نہیں ہے‘‘: شائینہ این سی

شیوسینا (شندے گروپ) کی لیڈر شائینہ این سی نے زیادہ سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مستقل مقبولیت کے پیشِ نظر اس اعلیٰ عہدے کے لیے فی الحال کوئی ’’جگہ خالی نہیں‘‘ ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ قیادت، ذات پات یا کمیونٹی پر مبنی شناخت کی سیاست کے بجائے ’’عوامی مینڈیٹ اور کارکردگی‘‘ کے ذریعے حاصل کی جانی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی: مسلم خاندانوں کو ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر گاؤں چھوڑنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد خوف و ہراس کا ماحول

’’ہندوستان کا وزیرِ اعظم ہمیشہ ایک ہندو ہوگا‘‘: ہیمنت بسوا شرما

اس معاملہ میں آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ شرما نے اس بحث کو تہذیبی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کا آئین اس بات پر کوئی قانونی پابندی نہیں لگاتا کہ کون وزیر اعظم عہدے پر فائز ہو سکتا ہے، لیکن مزید یہ بھی کہا کہ چونکہ ہندوستان ایک ’’ہندو قوم‘‘ ہے، اس لیے اس کا وزیرِ اعظم ہمیشہ ایک ہندو ہی ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK