بی ایم سی نے ایک جامع تجویزنیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ا تھاریٹی کو پیش کی ہے۔
مانسون کے دوران ممبئی ومضافات میں ایسے مناظر عام ہوتے ہیں۔ تصویر:آئی این این
عروس البلاد میںمانسون کے دوران پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال پرقابو پانے کیلئےبی ایم سی نے ۱۰؍ ہزار کروڑ روپےکی ایک جامع تجویزنیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ا تھاریٹی (این ڈی ایم اے) کو پیش کی ہے۔ اس کا مقصدممبئی کےفرسودہ ہوتے ہوئے انفراسٹرکچر کومضبوطی فراہم کرنا ہے ۔ یہ پلان این ڈی ایم اے کےاربن فلڈ رِسک مینجمنٹ پروگرام (یو ایف آر ایم پی) کاحصہ ہے ۔اس منصوبےکیلئے نئی دہلی اور احمد آباد کو بھی منتخب کیا گیا ہےتاکہ ان شہروں میں بھی مانسون کے دوران سیلابی صورتحال کے مستقل مسئلہ سے نمٹنے کے اقدامات کئے جا سکیں ۔ اس تجویز میںممبئی کے ۴۹۸؍ ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہےجہاںپانی بھرنے کا مستقل مسئلہ ہے اوران کےجدید اورقدرتی طریقے سےحل کے منصوبے پیش کئےگئے ہیں۔ اس میںکلیدی اقدامات میںسیلاب کے پانی کی نکاسی کا نظم، ماہول اور موگرا میںنئے پمپنگ اسٹیشنوں کا قیام اور پانی کے قدرتی بہاؤ کو تیزکرنے کیلئے شہر کی ندیوںکی بحالی کے اقدامات شامل ہیں۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بی ایم سی کا شہر میںاسپنج پارک کی تعمیرکا منصوبہ ہےجن سے پانی کو زمین میں جذب کرنے میں مدد ملے گی ۔ اس میںتالابوںاورمین گروز کی بحالی اورتحفظ بھی شامل ہے۔ ان ۴۹۸؍ مقامات کے علاوہ۲۶؍ مقامات ایسے ہیںجہاںنکاسی آب کیلئے ریلوے اورایم ایم آر ڈی اے اپنی اپنی قانونی حدود میں مشترکہ طورپرکام کریں گے۔اس فنڈنگ کی ضرورت اس لئے بھی پیش آئی ہےکہ ممبئی میںبارش کے پیٹرن میںحالیہ برسوں میں کافی تبدیلی آئی ہےاورکئی علاقوں میں۴؍ گھنٹوں میں۱۸۰؍ ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی جارہی ہے۔
بی ایم سی نے ایسے ۳۹۱؍ مقامات پر انتظامی نوعیت کے اقدامات کئے ہیںجہاںپانی بھرنےکا مسئلہ ہے جبکہ ۲۹؍ مقامات ابھی باقی ہیںجہاںآئندہ مانسون میں علاقوں کے زیر آب آنے کےمسائل پیش آسکتے ہیں۔