Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہرادون کے گاؤں میں خواتین کی منشیات مخالف مہم،لاٹھیاں لےکرنگرانی کرتی ہیں

Updated: August 29, 2026, 12:54 PM IST | Agency | Dehradun

گاؤں میں کوئی بھی نیا یا مشتبہ شخص نظر آنے پر خواتین روک کر کچھ بنیادی سوالات کرتی ہیں، جیسے آپ کہاں جا رہے ہیں؟ کس سے ملنے آئے ہیں؟

A group of women from Thani village can be seen. Picture: INN
تھانی گاؤں کی خواتین کا ایک گروپ دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

دہرادون کے اولڈ مسوری روڈ پر واقع تھانی گاؤں میںخواتین نے منشیات مخالف مہم شروع کردی ہے۔ جس کے تحت خواتین کے جتھے الگ الگ وقت میں ڈنڈے لاٹھیاں لے کر گاؤں کی نگرانی کرتے ہیں۔ ان سب کا مقصد ایک ہی ہےاپنے گاؤں کی گلیوں کو منشیات کے کاروبار سے محفوظ رکھنا ۔ گاؤں میں شام کے بعد خواتین کسی بھی اجنبی شخص کو روک کر کچھ آسان سوالات کرتی ہیں، جیسے آپ کہاں جا رہے ہیں؟ آپ کس سے ملنے آئے ہیں؟ اور آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟ صرف یہی نہیں، اگر کسی شخص پر شک ہو تو اسے آگے جانے سے بھی روک دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شمالی ہند میں بارش کا زور برقرار، کئی ندیاں اُبل پڑیں

مسئلہ کیسے سنگین ہوگیا؟

ٹربیون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پہاڑیوں کے درمیان واقع تھانی گاؤں میں ایک بڑا پوسٹر لگا ہوا ہے جس پر درج ہے: ’’بھنگ-گانجا ممنوع ہے۔ فروخت اور خریداری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘‘ اسی پوسٹر کے آس پاس کئی مرتبہ خواتین لاٹھی ڈنڈے لے کر پہرہ دیتی دکھائی دیتی ہیں۔ انہیں جو بھی شخص مشتبہ لگتا ہے، اسے روک کر پوچھ گچھ کی جاتی ہے اور جن لوگوں کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ منشیات کیلئےاگلے گاؤں کی طرف جا رہے ہیں، انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا جاتا ہے۔ گاؤں کی خواتین کی جانب سے ’ناری جاگرتی سنگٹھن‘کے بینر تلے شروع کیا گیا نگرانی کا نظام ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی: رکشا بندھن پر خواتین کو مفت سفر کا اثر، بس اڈوں پرہجوم

خواتین نے یہ قدم کیوں اٹھایا ؟

مقامی خاتون سدھا بدھانی بتاتی ہیں کہ ایک وقت صورتحال اتنی خراب تھی کہ لوگوں کی معمول کی زندگی متاثر ہونے لگی تھی۔ انہوں نے کہا،’’سڑک پر نکلنا مشکل ہوگیا تھا۔ ہم چہل قدمی کرنے کیلئے بھی ڈرتے تھے ۔ بچے دکانوں تک نہیں جا سکتے تھے۔ باہر نکلنے میں خوف محسوس ہوتا تھا۔‘‘خواتین کا الزام اور دعویٰ ہے کہ قریبی ایک بستی میں طویل عرصے سے منشیات فروخت کئے جانے کی شکایات ملتی رہی ہیں اور انہیں خریدنے کیلئے آنے والے ’نشیڑی‘ لوگ تھانی گاؤں کی سڑک کو راستے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ابتدا میں خواتین نے کارروائی کیلئے پولیس اور انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ شکایات کی گئیں اور درخواستیں بھی دی گئیں۔تاہم سدھا بتاتی ہیں کہ جب حالات بہتر نہیں ہوئے تو خواتین نے خود پہرہ دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے، ’’پہلے ہمیں لگا کہ یہ ہمارا کام نہیں بلکہ پولیس اور انتظامیہ کا ہے۔ لیکن جب پانی سر سے گزر گیا تو ہمیں خود باہر نکلنا پڑا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیرج چوپڑا نے ڈائمنڈ لیگ فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

تقریباً دو ماہ قبل شروع ہونے والی یہ مہم اب گاؤں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ خواتین کی مختلف ٹیمیں نگرانی کرتی ہیں۔ کسی مشتبہ شخص کے نظر آتے ہی خواتین کے وہاٹس ایپ گروپ میں پیغام بھیجا جاتا ہے، ’’سب پہنچو۔‘‘ اسکے بعد جو خاتون جہاں بھی ہوتی ہے، اپنا کام چھوڑ کر وہاں پہنچ جاتی ہے۔ اس مہم میں تقریباً۲۰؍ سال کی نوجوان لڑکیوں سے لے کر۶۰-۷۰؍ سال عمر کی خواتین تک شامل ہیں۔دن کے وقت گھر سنبھالنے والی خواتین شام کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں، جبکہ ملازمت پیشہ خواتین رات میں پہرہ دیتی ہیں۔ مقامی رہائشی للت دھیمان بتاتے ہیں کہ اس کیلئے  تقریباً شفٹوں جیسا نظام بن گیا ہے۔

خواتین کیا کہتی ہیں؟

انشویا روتیلا کہتی ہیں،’’ہم سب مائیں ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ کسی دوسری ماں کے بچے کی زندگی بھی نشے کی وجہ سے برباد ہو۔‘‘ان کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ خواتین کو گالیاں سننی پڑتی ہیں، دھمکیاں ملتی ہیں اور جھگڑے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔‘‘’ناری جاگرتی سنگٹھن‘ کی صدر سنیتا شرما کہتی ہیں کہ صورتحال اس وقت سنگین ہوگئی جب بچوں اور بزرگوں کا سڑک پر نکلنا مشکل ہونے لگا۔ ان کا الزام ہے کہ کچھ لوگ گھروں تک پہنچ کر منشیات کے بارے میں پوچھنے لگے تھے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK