Inquilab Logo Happiest Places to Work

ششی تھرور پرسنالٹی رائٹس کے حصول کیلئے دہلی ہائی کورٹ پہنچے، ڈیپ فیکس سے ذاتی نقصان کا حوالہ دیا

Updated: May 08, 2026, 10:10 PM IST | New Delhi

کانگریس ایم پی نے الزام لگایا کہ نامعلوم عناصر، اے آئی اور ’مشین لرننگ‘ ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے ان کے چہرے، آواز، ذخیرہِ الفاظ اور انداز گفتگو کی نقل کرکے انتہائی حقیقت پسندانہ ویڈیوز تیار کرنے کی مذموم پروپیگنڈہ مہم چلا رہے ہیں۔ درخواست کے مطابق، کچھ ڈیپ فیک ویڈیو کلپس میں انہیں جھوٹے طور پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ”انتہائی شاندار“ قرار دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

Shashi Tharoor. Photo: X
ششی تھرور۔ تصویر: ایکس

دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور کے ’پرسنالٹی رائٹس‘ (شخصی حقوق) کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ان ڈیپ فیک ویڈیوز کو ہٹانے کیلئے احکامات جاری کرے گی جن میں تھرور کو پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

جمعہ کو ششی تھرور کی جانب سے دائر کردہ دیوانی مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس مینی پشکرنا نے مرکزی حکومت اور میٹا، ایکس سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو سمن جاری کئے۔ عدالت نے تمام جواب دہندگان کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی اور اشارہ دیا کہ تھرور کے ڈیپ فیک ویڈیوز کو بلاک کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں گے۔

کانگریس ایم پی نے الزام لگایا کہ نامعلوم افراد، اے آئی اور ’مشین لرننگ‘ ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے ان کے چہرے، آواز، ذخیرہِ الفاظ اور انداز گفتگو کی نقل کرکے انتہائی حقیقت پسندانہ ویڈیوز تیار کرنے کی مذموم پروپیگنڈہ مہم چلا رہے ہیں۔ درخواست کے مطابق، کچھ ڈیپ فیک ویڈیو کلپس میں انہیں جھوٹے طور پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ”انتہائی شاندار“ قرار دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان ویڈیوز میں تھرور یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ ”پاکستان سفارتی محاذ پر ہندوستان کے مقابلے میں بہت بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔“ تھرور نے ایسے کسی بھی بیان دینے سے انکار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راجستھان ہائی کورٹ: پولیس کو گرفتار افراد کی ’’تذلیل‘‘ کرنےکے خلاف ہدایات جاری

کانگریس لیڈر نے دلیل دی کہ یہ ڈیپ فیکس اتنے حقیقت پسندانہ تھے کہ انہوں نے نہ صرف عوام بلکہ سیاسی شخصیات اور غیر ملکی صحافیوں کو بھی گمراہ کیا، جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور ان کے بقول یہ بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا باعث بنا۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ یہ مہم حال ہی میں ختم ہونے والے کیرالا انتخابات کے دوران شروع ہوئی تھی اور اس کا مقصد ان کے محبِ وطن تشخص کو نقصان پہنچانا، رائے عامہ پر اثر انداز ہونا اور جمہوری عمل میں مداخلت کرنا تھا۔

تھرور کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ امت سبل نے عدالت کو بتایا کہ شکایات اور فیکٹ چیک کے باوجود یہ جعلی ویڈیوز آن لائن دوبارہ سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے مواد کی مسلسل واپسی کو اجاگر کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ”ایسے ویڈیوز راون کے دس سروں کی طرح بار بار واپس آ رہے ہیں۔“ انہوں نے مزید دلیل دی کہ یہ مسئلہ محض ذاتی نقصان تک محدود نہیں بلکہ ہندوستان کے عالمی وقار کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ انہوں نے تھرور کی طرف سے موقف اختیار کیا کہ ”انہوں نے میری شخصیت کا غلط استعمال کیا ہے اور دوسرے ملک کی تعریف پر مبنی یہ ویڈیوز مجھے نقصان پہنچانے کیلئے بنائی ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: پاکستان کی دہشت گردی کی حمایت کے باعث دریائے سندھ معاہدہ کی معطلی برقرار: وزارت

میٹا کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نشان زد کئے گئے کچھ مواد کے خلاف پہلے ہی کارروائی کی جا چکی ہے۔ وکیل نے بتایا کہ ”شیڈول ون میں شناخت کردہ تمام انسٹاگرام لنکس کو اب ناقابلِ رسائی بنا دیا گیا ہے۔ انہیں آج صبح ہی ہٹایا گیا۔“

واضح رہے کہ اے آئی کی مدد سے بڑے پیمانے پر بنائے جارہے ڈیپ فیکس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں اداکار انیل کپور اور امیتابھ بچن نے بھی ڈجیٹل اور اے آئی مواد میں اپنی شناخت، آواز اور مشابہت کے غیر مجاز استعمال کے خلاف تحفظ کیلئے عدالتوں کا رخ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK