مسک نے براہِ راست کمپنی پر لگائے جانےوالے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ قانونی کارروائی دراصل ان افراد کے خلاف کی جانی چاہئے جو اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 09, 2026, 10:18 PM IST | New Delhi
مسک نے براہِ راست کمپنی پر لگائے جانےوالے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ قانونی کارروائی دراصل ان افراد کے خلاف کی جانی چاہئے جو اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
امریکی ارب پتی ایلون مسک کے زیر ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ نے اپنےآرٹیفیشیل انٹیلی جنس ٹول ’گروک‘ کے استعمال پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام گروک کے ذریعے مشہور شخصیات کی غیر اخلاقی اور رضامندی کے بغیر ان کی ’’ڈجیٹل برہنہ‘‘ تصاویر تخلیق کرنے کے خلاف عالمی سطح پر ہونے والی تنقید کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ پلیٹ فارم نے اب تصویر ایڈٹ کرنے کی سہولت صرف سبسکرپشن کی ادائیگی کرنے والے صارفین تک محدود کر دی ہے اور فحش مواد کی روک تھام کے لیے سخت فلٹرز لگانے کا وعدہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یو آئی ڈی اے آئی نے آدھار کا میسکٹ ’’اُدئے‘‘ لانچ کیا
واضح رہے کہ دسمبر ۲۰۲۵ء میںکمپنی نے ایک اپ ڈیٹ کے ذریعےسبھی ایکس صارفین کو مشہور شخصیات اور عام شہریوں کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر تبدیل کرنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ اس کے ردِعمل میں، وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ۲؍ جنوری۲۰۲۶ء کو ایکس کو باضابطہ طور پر ایک نوٹس جاری کیا ۔ وزارت نے ایکس کے ابتدائی جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ ۲۰۰۰ء کی تعمیل میں ناکامی کی صورت میںایکس کو سیکشن ۷۹؍ کے تحت حاصل اپنی ’’سیف ہاربر‘‘ (محفوظ پناہ گاہ) کی حیثیت سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔ اس تحفظ کے ختم ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایکس اپنے پلیٹ فارم پر موجود غیر قانونی مواد کے لیے براہِ راست ذمہ دار ہوگا اور کمپنی کو آئی ٹی ایکٹ اور بھارتیہ نیا ئے سنیہتا (بی این ایس) کے تحت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزارت نے مطالبہ کیا ہے کہ گروک اے آئی کا فوری تکنیکی اور گورننس کی سطح پر جائزہ لیا جائے تاکہ قابلِ اعتراض مواد کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: سمندروں میں مائیکرو پلاسٹک اس کے قدرتی کاربن دفاع کو کمزور کر رہے ہیں: تحقیق
مسک کا صارف کی ذمہ داری پر اصرار
ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی، جس نے روک کو تیار کیا ہے، نے تکنیکی خامیوں کا اعتراف کیا اور حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کا عہد کیا ہے۔ تاہم، خود مسک نے اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال میں پلیٹ فارم کے کردار کو کم اہمیت دی اور صارف کی ذمہ داری پر زور دیا۔ براہِ راست کمپنی پر لگائے جانےوالے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مسک نے موقف اختیار کیا کہ قانونی کارروائی دراصل ان افراد کے خلاف کی جانی چاہئے جو اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ مسک نے کہا کہ’’ جو کوئی بھی گروک کو غیر قانونی مواد بنانے کے لیے استعمال کرے گا، اسے انہی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسے غیر قانونی مواد اپ لوڈ کرنے پر ہوتا ہے۔‘‘