Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال: فرقہ وارانہ تشدد میں شدت، ۳؍ ہلاک، کرفیو، وزیر اعظم کی امن کی اپیل

Updated: July 31, 2026, 3:06 PM IST | Kathmandu

نیپال کے سرحدی اضلاع میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۳؍ ہو گئی ہے، جس کے بعد حکام نے کرفیو مزید علاقوں تک توسیع دے دی ہے اور سیکوریٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم بلیندر (بالین) شاہ نے عوام سے امن، تحمل اور قومی یکجہتی برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔

Nepal`s Prime Minister Balendra (Balin) Shah. Photo: INN
نیپال کے وزیر اعظم بلیندر (بالین) شاہ۔ تصویر: آئی این این

نیپال کے جنوبی سرحدی علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں شدت آنے کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۳؍ ہو گئی ہے، جبکہ کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے حکام نے کرفیو کا دائرہ مزید اضلاع تک وسیع کر دیا ہے۔ سیکوریٹی فورسیز کو حساس علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ مزید بدامنی کو روکا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق تشدد کا آغاز کوشی صوبے کے سنسری ضلع میں اس وقت ہوا جب دو مختلف برادریوں کے مذہبی اجتماعات کے دوران لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور مذہبی جھنڈوں کی نمائش پر تنازع پیدا ہو گیا، جو بعد ازاں پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گیا۔ بعد میں یہ کشیدگی مدھیش صوبے کے بعض علاقوں تک بھی پھیل گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: بلوچستان: کوئلہ کان میں خوفناک دھماکہ، ہلاکتیں ۳۴؍ ہو گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

جمعرات کو سرہا ضلع کے گول بازار میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران ایک نوجوان ہلاک ہو گیا، جبکہ سنسری میں زخمی ہونے والا ایک شخص دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ اس طرح ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین ہو گئی۔ صورتحال کے پیش نظر حکام نے سنسری کے علاوہ دھنوشا، سرہا اور بیرگنج کے بعض علاقوں میں بھی غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ پولیس اور دیگر سیکوریٹی اداروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، جبکہ حساس مقامات پر گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ 

وزیر اعظم بلیندر (بالین) شاہ نے قوم سے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امن، ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھیں، افواہوں سے گریز کریں اور کسی بھی اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بنیں۔‘‘ انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ ’’حکومت اس تشدد کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائے گی اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے گا۔‘‘ حکام کے مطابق سیاسی اور انتظامی سطح پر بھی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی ہدایات پر عمل کریں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر، اکثریت ایران پر فوجی کارروائی کے خلاف: سروے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں پیش آنے والا یہ تشدد نیپال کے لیے ایک بڑا امن و امان کا چیلنج بن گیا ہے۔ حکومت کے لیے فوری ترجیح حالات کو معمول پر لانا، متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا اور مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK