سماجوادی حکومت میں ۲۰۱۶ء میں پیش کئے گئے بل پرگورنر رام نائک نےدستخط کرنے سے انکار کردیا تھا، مرکزی وزارت داخلہ نے بھی اعتراض کیا تھا۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 11:23 AM IST | Lucknow
سماجوادی حکومت میں ۲۰۱۶ء میں پیش کئے گئے بل پرگورنر رام نائک نےدستخط کرنے سے انکار کردیا تھا، مرکزی وزارت داخلہ نے بھی اعتراض کیا تھا۔
یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے سماجوادی پارٹی (ایس پی) حکومت میں منظور کیے گئے ’مدرسہ تنخواہ بل‘ کو ختم کر دیا ہے۔۲۰۱۶ءمیں منظورکیے گئے ’اتر پردیش مدرسہ (اساتذہ اور دیگر ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی) بل۲۰۱۶ء‘ کو مقننہ کےدونوں ایوانوں سے یوگی حکومت نے واپس لےلیا۔اس کے ساتھ ہی تقریباً ایک دہائی سے زیر التوا اس بل کا باب اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ یہ بل قانونی اور آئینی وجوہات کے سبب نافذ نہیں ہوپایاتھا۔ گورنر اور بعد میں مرکزی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی وجہ سے اس بل کو منظوری نہیں مل سکی تھی۔ اب یوگی حکومت نے اسے باضابطہ طور پر واپس لے کر اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ممتا بنرجی کی پارٹی کے باغیوں میں بغاوت
سماجوادی پارٹی حکومت نے ۲۰۱۶ءمیں مدارس کے اساتذہ اور دیگر ملازمین کی وقت پر تنخواہوں کو یقینی بنانے کے مقصد سے اس بل کو قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں پاس کیا تھا۔حکومت نے دلیل دی تھی کہ اس کے ذریعہ مدارس کے ملازمین کو باقاعدگی سے تنخواہیں ملنے کو یقینی بنایا جائےگا اور ادائیگی میں تاخیر کے لیے جوابدہی طے کی جائےگی۔ بل میں التزام کیا گیا تھاکہ اگر مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہیں وقت پر ادا نہیں کی جاتی ہیں تو ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ اسی التزام اور دیگر نکات کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے گئے تھے۔دونوں ایوانوں میں بل پاس ہونےکے بعد اس وقت کے گورنر رام نائک کے پاس بھیجا گیا تھا۔گورنر نے بل کی بعض شقوں پر عدم اتفاق کا اظہارکیا اور اپنی منظوری دینے کے بجائے صدر جمہوریہ کے پاس بھیج دیا۔آئین کے التزامات کے تحت ایسے معاملات میں صدر کی رضا مندی ضروری ہوتی ہے۔ خصوصاً بل میں جب آئینی یا قانونی پریشانیاں درپیش ہوں۔صدر تک پہنچنے کےبعد مرکزی وزارت داخلہ نے اس بل کی جانچ کی۔جانچ پڑتال کے دوران بل کی متعدد شقوں پر اعتراضات کیے گئے۔ وزارت داخلہ نےتسلیم کیا کہ کچھ دفعات قانونی اور آئینی طور پر درست نہیں ہیں۔ اس کے بعد مرکز کی جانب سے اس بل کو واپس لینے کا مشورہ دیا گیا۔ یہی وجہ رہی کہ یہ قانون کبھی وجود میں نہیں آسکا اور برسوں تک زیر التواء رہا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اپوزیشن کا موقف سرکار تک پہنچائیں‘‘
اب یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے زیر التواء بل کو مقننہ کے دونوں ایوانوں سے واپس لے لیا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ جب کسی بل کو آئینی منظوری نہیں ملی اور وہ کبھی نافذ نہیں ہوا تو اسے زیر التوا رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ دونوں ایوانوں سے دستبرداری کے ساتھ ہی یہ بل قانون سازی کے عمل سےمکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ بل میں سب سے زیادہ بحث اس شق پر ہوئی تھی، جس میں تنخواہ کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی ہو۔ قانونی ماہرین کا خیال تھا کہ اس طرح کی شق بہت سے انتظامی اور آئینی سوالات کو جنم دیتی ہے۔