ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین کی قیادت میں بدھ کو فورٹ علاقے میں ریاستی سی ای ٹی سیل کے دفتر کے سامنےنیٹ کا پرچہ لیک ہونے کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا۔
فورٹ میں یوتھ کانگریس کے کارکنان احتجاج کرتے ہوئے۔ (تصویر: آئی این این
ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین کی قیادت میں بدھ کو فورٹ علاقے میں ریاستی سی ای ٹی سیل کے دفتر کے سامنےنیٹ کا پرچہ لیک ہونے کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے ’نریندر مودی ہائے ہائے ‘ اور بی جے پی حکومت کے خلاف زبردست نعرے لگائے۔
نیٹ پیپر لیک پر بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین نے کہاکہ ’’ نیٹ کا پرچہ لیک ہونے سے ملک بھر کےتقریباً ۲۴؍ لاکھ طلبہ اور والدین کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اس سنگین معاملے میں اخلاقی ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہئے اور طلبہ کو بھی معاوضہ ملنا چاہئے۔‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ نیٹ پیپر لیک معاملے کی مکمل تحقیقات کیلئے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) تشکیل دی جانی چاہئے۔ اس ریکٹ کی پوری زنجیر ہے اور اس ریکٹ سے بی جے پی کے لوگ وابستہ ہیں ۔ اس طرح سے طلبہ کے مستقبل کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ ہم سب مل کر اس ناانصافی کا مقابلہ کریں گے اور طلبہ کو انصاف دلائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ’’ سوالیہ پرچہ لیک گھوٹالے میں ملوث لوگوں کو بی جے پی حکومت انعام کے طور پر بڑے عہدے دے رہی ہے۔‘‘
احتجاج میں ممبئی یوتھ کانگریس کے نائب صدر پنکج چودھری، جنرل سیکریٹری تیجس چندورکر، آصف خان، گرومن سنگھ، گنیش شیگر، میتیش سونکر، سنتوش یادو اور دیگر کارکنان شامل تھے۔