• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی حکم پرکئی یوٹیوب چیل بلاک، الجزیرہ نے صحافتی آزادی کی خلاف ورزی کہا

Updated: February 01, 2026, 12:51 PM IST | Doha

الجزیرہ کے مطابق درجنوں یو ٹیوب چینلز اسرائیلی حکم پر بلاک کردئے گئے، یوٹیوب کی اسرائیلی حکام کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی سخت مذمت کرتےہوئے اسے صحافتی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

الجزیزہ میڈیا نیٹ ورک نے یوٹیوب کی جانب سے اسرائیلی فیصلے کے تحت اپنے چینل پر پابندی کو تسلیم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو ’’میڈیا کی آزادی اور بین الاقوامی معیارکی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے۔جمعرات دیر شام امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں الجزیزہ نے کہا،’’ہم یوٹیوب کی اسرائیلی حکام کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی سخت مذمت کرتے ہیں جس میں پلیٹ فارم پر ہمارے چینلز کی نشریات پر پابندی اور اسرائیل میں ہماری ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا ہے۔یہ عمل اقوام متحدہ کے کاروبار اور انسانی حقوق کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جو عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ کریں اور ان حکومتی دباؤوں کا مقابلہ کریں جو آزاد صحافت کو خاموش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملے کیلئے اسرائیل امریکہ کو اکسا رہا ہے، ترک وزیرخارجہ کا دعویٰ

واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق اسرائیلی حکام نے اس ہفتے کے شروع میں قطر پر مبنی الجزیزہ اور لبنان کے المائدین کے نشریات کو۹۰؍ دن کے لیے بلاک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اسرائیلی مواصلاتی وزیر شلومو کارہی نے اتوار کو ایکس پر اعلان کیا کہ الجزیزہ اور المائدین کو اسرائیل میں ان کی ویب سائٹس، ٹیلی ویژن نشریات اور یوٹیوب پر اسی دن سے بلاک کیا جائے گا۔الجزیزہ نے کہا، ’’ہمارے ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور ویب سائٹ کو سلامتی کیلئے خطرہ قرار دینے کے دلائل پر بند کرنا ایک خطرناک پیغام ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں آزادی کے مخالف حکومتوں کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہو سکتی ہیں۔یہ شدت پسندی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے وسیع تر اور منظم نمونے کا حصہ ہے، جس میں ہمارے صحافیوں کی ہلاکت و حراست اور مقبوضہ علاقوں میں ہمارے دفاتر کی بندش شامل ہے، جو حقائق کو دبانے کے لیے ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز سنسرشپ کے آگے کیسے جھکتے ہیں، اس کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی جائیں اور سیاسی دباؤ سے تحفظ کے اقدامات کیے جائیں۔‘‘تاہم یوٹیوب کے انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران اور امریکہ میں جنگ ٹلنے کے آثار

الجزیزہ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے مئی۲۰۲۴ء میں الجزیزہ کے کام کرنے پر پابندی لگانی شروع کی تھی، اور نیٹ ورک کی اسرائیل-غزہ جنگ کی خبروں کو دلیل بنا کر یہ فیصلہ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔جبکہ جنگ کے دوران، اسرائیل نے۷۱۰۰۰؍ سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک اور۱۷۱۰۰۰؍ سے زیادہ کو زخمی کیا، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اور غزہ پٹی میں۹۰؍ فیصد شہری انتظامی دھانچے  کو تباہ کر دیا۔اس کے علاوہ اسرائیل نے دہائیوں سے فلسطینی علاقوں کے ساتھ شام اور لبنان کی زمینیں بھی قبضے میں لی ہوئی ہیں اور۱۹۶۷ء سے قبل کی سرحدوں کے ساتھ مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور انخلا سے انکار کرتا آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK