Updated: June 25, 2026, 10:02 PM IST
| Florida
گوگل کے ویڈیو پلیٹ فارم یوٹیوب نے فلوریڈا کے ایک ۱۵؍ سالہ نوجوان کی جانب سے دائر مقدمہ عدالت سے باہر طے کر لیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ پلیٹ فارم کی بعض خصوصیات صارفین کو ضرورت سے زیادہ وقت تک مصروف رکھنے کے لیے تیار کی گئی ہیں اور ان کا نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔ مقدمے میں لامحدود اسکرول اور آٹو پلے جیسے فیچرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
گوگل کی ملکیت والے ویڈیو پلیٹ فارم یوٹیوب نے فلوریڈا کے ایک نوجوان کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کو طے کر لیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پلیٹ فارم کا ڈیزائن نوجوان صارفین میں مجبوری کی حد تک استعمال کو فروغ دیتا ہے اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق، مقدمہ ایک ۱۵؍ سالہ نوجوان نے دائر کیا تھا جس کی شناخت عدالتی دستاویزات میں صرف آر کے سی کے نام سے ظاہر کی گئی۔ نوجوان کا مؤقف تھا کہ یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیاں جان بوجھ کر ایسی خصوصیات تیار کرتی ہیں جو صارفین کو طویل وقت تک اسکرین سے جوڑے رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امسال اب تک مغربی کنارہ میں۷۰؍فلسطینی شہید، آباد کاروں کے حملوں میں اضافہ
مقدمے میں خاص طور پر لامحدود اسکرول (Infinite Scroll) اور آٹو پلے (Autoplay) جیسی خصوصیات کا ذکر کیا گیا، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ صارفین کو مسلسل مواد دیکھنے پر آمادہ کرتی ہیں اور بالخصوص کم عمر افراد میں غیر متوازن استعمال کا باعث بنتی ہیں۔ نوجوان کے مطابق، ان خصوصیات کے نتیجے میں اسے بے چینی، نیند میں خلل اور دیگر ذہنی و جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، مقدمے کے تصفیے کی شرائط عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ معاہدے کے تحت کسی فریق نے کیا شرائط قبول کیں۔ بی بی سی کو جاری کیے گئے ایک بیان میں گوگل کے ترجمان نے تصدیق کی کہ معاملہ طے پا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ’’ہم نے اس مقدمے کو حل کر لیا ہے اور عمر کے مطابق مصنوعات اور والدین کے کنٹرولز کی تیاری پر اپنی توجہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
یہ مقدمہ دراصل امریکہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف جاری ایک وسیع قانونی کارروائی کا حصہ ہے۔ نوجوان نے یوٹیوب کے علاوہ انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا، ٹک ٹاک اور اسنیپ انکارپوریشن کے خلاف بھی دعوے دائر کر رکھے ہیں۔ یہ تمام مقدمات ایک بڑے ملٹی ڈسٹرکٹ قانونی چارہ جوئی (Multi-District Litigation) کا حصہ ہیں، جس میں ایک ہزار سے زائد اسی نوعیت کے کیسز شامل ہیں۔ ان مقدمات کی آئندہ سماعت جولائی میں لاس اینجلس میں متوقع ہے۔ قانونی کارروائی میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایسے پلیٹ فارم ڈیزائن کیے جو نوجوان صارفین کو طویل وقت تک آن لائن رہنے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے ذہنی صحت کے بحران میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: چیک جمہوریہ ستمبر ۲۰۲۷ءسے اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی عائد کرے گا: وزیراعظم
مدعیان کا مؤقف ہے کہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی، ڈپریشن، نیند کے مسائل اور دیگر نفسیاتی چیلنجز میں سوشل میڈیا کے مخصوص ڈیزائن عناصر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جانب، متعلقہ کمپنیوں نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور کسی بھی قسم کے غلط طرزِ عمل سے انکار کیا ہے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات متعارف کرائے ہیں، جن میں والدین کے کنٹرولز، اسکرین ٹائم مینجمنٹ ٹولز اور بچوں کے لیے مخصوص پلیٹ فارمز شامل ہیں۔
یوٹیوب کی جانب سے بھی ماضی میں YouTube Kids سمیت مختلف حفاظتی فیچرز کو نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے پیش کیا جا چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ مقدمات صرف ایک قانونی تنازع نہیں بلکہ اس وسیع بحث کا حصہ ہیں جس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنی مصنوعات کے نفسیاتی اثرات کے لیے بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے یا نہیں۔