Inquilab Logo Happiest Places to Work

زیبرا فنچز کی ’زبان‘ سمجھنے میں بڑی پیش رفت، سائنسداں کو ایک لاکھ ڈالر کا انعام

Updated: June 28, 2026, 9:40 PM IST | Berkeley

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کی محقق ڈاکٹر جولی ایلی نے زیبرا فنچز کی بنیادی ’’الفاظ‘‘ اور ان کے معانی کو ڈی کوڈ کرنے پر ۲۰۲۶ء کا ’’کولر-ڈولیٹل پرائز فار ٹو وے انٹر اسپیشیز کمیونیکیشن‘‘ جیت لیا ہے۔ ایک لاکھ ڈالر مالیت کا یہ عالمی انعام جانوروں اور انسانوں کے درمیان دو طرفہ رابطے کی تحقیق میں نمایاں پیش رفت پر دیا جاتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سائنس دانوں نے یہ سمجھنے کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے کہ جانور آپس میں کس طرح بات چیت کرتے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کی محقق ڈاکٹر جولی ایلی نے زیبرا فنچز کی بنیادی ’’الفاظ‘‘ کو ڈی کوڈ کرنے پر ۲۰۲۶ء کا ’’کولر-ڈولیٹل پرائز فار ٹو وے انٹر اسپیشیز کمیونیکیشن‘‘ جیت لیا، جس کے ساتھ انہیں ایک لاکھ امریکی ڈالر کا انعام بھی دیا گیا۔ اس کامیابی کو جانوروں اور انسانوں کے درمیان مستقبل میں بامعنی رابطے کی سمت ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ اس سال کے مقابلے میں زیبرا فنچز کے علاوہ چمپینزی، بونوبو اور افریقی اسٹرائپڈ چوہوں پر تحقیق کرنے والی ٹیمیں بھی فائنلسٹ تھیں، تاہم ججوں نے ڈاکٹر جولی ایلی کے کام کو اس شعبے میں سب سے نمایاں پیش رفت قرار دیتے ہوئے انہیں فاتح منتخب کیا۔ منتظمین نے ۲۰۲۷ء کے مقابلے کے لیے نئی درخواستیں بھی طلب کر لی ہیں، جبکہ انسانوں اور جانوروں کے درمیان کامیاب دو طرفہ رابطہ قائم کرنے والی ٹیم کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے عظیم انعام کا اعلان بدستور برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بین اینڈ جیریزز: خالص اسرائیل فلیور والی آئس کریم پر تنازع، ایکس پوسٹ حذف

ڈاکٹر جولی ایلی نے ۱۵؍ سال سے زائد عرصے تک زیبرا فنچز، جو چھوٹے مگر انتہائی آواز والے گانے والے پرندے ہیں، کا مطالعہ کیا۔ ان کی تحقیق میں ان پرندوں کی ۱۱؍ بنیادی آوازوں کی شناخت کی گئی اور یہ واضح کیا گیا کہ ہر آواز کس مقصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ایلی کے مطابق، یہ پرندے مختلف آوازوں کے ذریعے نہ صرف اپنی شناخت ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ وہ منفرد صوتی شناخت (Vocal Signature) کے ذریعے ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں، چاہے گفتگو کا موضوع کچھ بھی ہو۔ انعام حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر جولی ایلی نے کہا کہ ’’میں واقعی بہت اعزاز محسوس کر رہی ہوں۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی تحقیق مستقبل میں جانوروں کے ساتھ بامعنی رابطہ قائم کرنے کی عالمی کوششوں میں اہم کردار ادا کرے گی۔ 
کولر-ڈولیٹل پرائز 2024 میں جیریمی کولر فاؤنڈیشن اور تل ابیب یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر شروع کیا تھا تاکہ جانوروں کی زبان اور ان کے مواصلاتی نظام پر ہونے والی نمایاں سائنسی تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ سالانہ ایک لاکھ ڈالر کے انعام کے علاوہ فاؤنڈیشن نے ۱۰؍ ملین ڈالر کے عظیم انعام کا بھی اعلان کر رکھا ہے، جو اس تحقیقاتی ٹیم کو دیا جائے گا جو انسانوں اور جانوروں کے درمیان حقیقی دو طرفہ رابطے کا کامیاب نظام تیار کرے گی۔ ڈاکٹر ایلی نے زیبرا فنچز کو اس لیے منتخب کیا کیونکہ یہ نہایت زیادہ آوازیں نکالنے والے پرندے ہیں، جس کی وجہ سے محققین کو تجزیے کے لیے وسیع مقدار میں ڈیٹا دستیاب ہوا۔
تحقیق کے دوران انہوں نے ہزاروں آوازیں ریکارڈ کیں، ان کی درجہ بندی کی اور بعد ازاں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے ذریعے ان میں موجود بار بار دہرائے جانے والے مواصلاتی نمونوں کی شناخت کی۔ اس کے بعد انہوں نے رویہ جاتی تجربات (Behavioural Experiments) بھی کیے، جن میں پرندوں کو مختلف آوازیں سنائی گئیں اور ان کے ردعمل سے ثابت ہوا کہ وہ صرف آواز کی شکل نہیں بلکہ اس کے معنی بھی سمجھتے ہیں۔ بعض مواقع پر پرندے ایسی آوازوں میں زیادہ الجھتے تھے جن کا مطلب ایک جیسا تھا، نہ کہ جن کی آواز ایک جیسی تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ اس بات کا مضبوط ثبوت ہے کہ زیبرا فنچز اپنی آوازوں کے مفہوم کو ذہنی طور پر سمجھتے ہیں۔
لندن اسکول آف اکنامکس کے فلسفی اور ججنگ پینل کے رکن پروفیسر جوناتھن برچ نے اس تحقیق کو ’’بالکل غیر معمولی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ایلی نے صرف پرندوں کی 11 بنیادی آوازوں کی لغت تیار نہیں کی بلکہ تجرباتی طور پر یہ بھی ثابت کیا کہ پرندے خود ان معانی کو سمجھتے ہیں۔ تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر یوسی یوول، جو ججنگ پینل کے سربراہ بھی ہیں، نے اسے ’’اس میدان کا ایک اہم لمحہ‘‘ قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انسانوں اور جانوروں کے درمیان مکمل دو طرفہ رابطہ اب بھی ایک بڑا سائنسی چیلنج ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹیکساس سرکاری اسکولوں میں بائبل کی کہانیاں لازمی مطالعے کیلئے منظور کرنے والی پہلی ریاست بن گئی

دوسری جانب انعام کے بانی جیریمی کولر نے زیادہ پرامید مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کی بدولت انہیں یقین ہے کہ ۲۰۳۰ء تک جانوروں کے مواصلاتی نظام کا کوڈ بڑی حد تک سمجھ لیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے جانوروں کی زبان پر تحقیق کا منظرنامہ بدل دیا ہے۔ جدید مشین لرننگ ٹولز ہزاروں آوازوں کا تجزیہ کرکے پوشیدہ نمونوں اور ممکنہ معانی کی شناخت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے کر سکتے ہیں۔ اگرچہ سائنس داں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان ابھی پرندوں یا دیگر جانوروں کے ساتھ براہِ راست گفتگو کرنے سے کافی دور ہیں، تاہم ڈاکٹر جولی ایلی کی تحقیق اب تک کا سب سے مضبوط ثبوت فراہم کرتی ہے کہ بہت سی جانوروں کی نسلیں پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ انداز میں رابطہ کرتی ہیں۔ محققین کو امید ہے کہ مصنوعی ذہانت میں مسلسل ترقی نہ صرف جانوروں کی زبان کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ مستقبل میں انسان اور جانور کے درمیان بامعنی رابطے کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK