Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیکساس سرکاری اسکولوں میں بائبل کی کہانیاں لازمی مطالعے کیلئے منظور کرنے والی پہلی ریاست بن گئی

Updated: June 27, 2026, 9:01 PM IST | Austin

ٹیکساس کے اساتذہ نے اپنی یہ صلاحیت چھین لئے جانے پر تنقید کی ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ ان کے طلبہ کیا پڑھیں گے۔ ڈلاس کے علاقے کی ایک استانی ایلیس ڈینٹ نے کہا کہ غیر مسیحی یا دہریہ (ایتھیسٹ) طلبہ کو بائبل کی کہانیاں پڑھانا کلاس میں تناؤ پیدا کرتا ہے، قطع نظر اس کے کہ مواد کو تعلیمی لحاظ سے کس طرح پیش کیا جائے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی ریاست ٹیکساس کے محکمۂ تعلیم کے بورڈ نے جمعہ کے دن ۵۰ لاکھ سے زائد سرکاری اسکولوں کے طلبہ کیلئے ریاستی سطح پر لازمی مطالعہ کی ایک فہرست کو منظور کرلیا ہے جس میں بائبل کی کہانیاں بھی شامل ہیں۔ ٹیکساس ایسا کرنے والی امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ یہ اقدام امریکی کلاس رومز میں مسیحی تعلیمات لانے کی قدامت پسند کوششوں کا حصہ ہے۔ اس فہرست میں چارلس ڈکنز کے ناول ”گریٹ ایکسپیکٹیشنز“ (Great Expectations) کے ساتھ ساتھ نیو ٹیسٹامنٹ (انجیل) کے اقتباسات بھی شامل ہیں۔ یہ بظاہر قومی سطح پر اپنی نوعیت کی پہلی فہرست ہے جو ۲۰۳۰ء سے نافذ العمل ہوگی۔

ریپبلکن پارٹی کے زیرِ اثر اسٹیٹ بورڈ آف ایجوکیشن نے ہفتوں کی شدید بحث کے بعد ۵ کے مقابلے میں ۹ ووٹوں سے اس فہرست کو منظوری دی۔ یہ اقدام پچھلے سال ٹیکساس کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جس کے تحت وہ ہر کلاس روم میں ’دس احکامات‘ (Ten Commandments) آویزاں کرنا لازمی قرار دینے والی سب سے بڑی ریاست بن گئی تھی۔ بورڈ اس ہفتے سوشل اسٹڈیز (مطالعۂ سماجیات) کے نئے نصاب پر بھی غور کر رہا تھا جو بائبل کی کہانیوں کو امریکی تاریخ سے جوڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کے دور اقتدار میں آئی سی ای کی حراست میں اموات میں ۱۴۰؍فیصد اضافہ

ٹیکساس کے اساتذہ نے اپنی یہ صلاحیت چھین لئے جانے پر تنقید کی ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ ان کے طلبہ کیا پڑھیں گے، اگرچہ وہ اب بھی سال کے دوران اضافی کتابیں پڑھنے کیلئے دے سکتے ہیں۔ ڈلاس کے علاقے کی ایک استانی ایلیس ڈینٹ نے کہا کہ غیر مسیحی یا دہریہ (ایتھیسٹ) طلبہ کو بائبل کی کہانیاں پڑھانا کلاس میں تناؤ پیدا کرتا ہے، قطع نظر اس کے کہ مواد کو تعلیمی لحاظ سے کس طرح پیش کیا جائے۔

حامیوں کا استدلال ہے کہ یہودی-مسیحی (Judeo-Christian) روایتیں امریکہ کی بنیاد رکھنے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ریپبلکن بورڈ ممبر برینڈن ہال نے سوشل میڈیا پر اس منظوری کو ”تاریخی“ قرار دیا۔ ۲۰۲۳ء کے ایک ریاستی قانون کے تحت ہر گریڈ لیول (جماعت) کیلئے از کم ایک ادبی کتاب لازمی قرار دی گئی تھی؛ تاہم اس نئی فہرست میں تقریباً ۲۰۰ تحریریں شامل ہیں، جو اس ضرورت سے کہیں زیادہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ڈنمارک: اسلامائزیشن کے خدشات، اذان پر پابندی کی تجویز، قانونی جائزہ دوبارہ شروع

’نیشنل کونسل آف ٹیچرز آف انگلش‘ کے صدر اینٹیرو گارسیا نے کہا کہ وہ کسی دوسری ایسی ریاست سے واقف نہیں ہیں جہاں لازمی مطالعہ کی فہرست میں مذہبی تحریریں شامل ہو۔ ’پین امریکہ‘ (PEN America) کے فریڈم ٹو ریڈ پروگرام کی کیسی میہان نے اس اقدام کو ٹیکساس کیلئے ”منفرد“ قرار دیا۔ اس فہرست میں پرائمری اسکول کے طلبہ کیلئے تصویری کہانیوں کی کتابیں جیسے ”داؤد اور جالوت“ (David and Goliath)، چوتھی جماعت تک یسوع (عیسیٰ علیہ السلام) کے بارے میں نیو ٹیسٹامنٹ کے اقتباسات، اور ڈکنز اور جین آسٹن کا مطالعہ کرنے والے ہائی اسکول کے طلبہ کیلئے امدادی مواد کے طور پر بائبل کے مخصوص پارے شامل ہیں۔

اس اقدام کے ناقدین، جن میں فورٹ ورتھ کی ٹیچر چانیا بانڈ بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ فہرست اب بھی ”بہت پرانی اور بہت زیادہ گورے لوگوں (وائٹ) پر مبنی“ ہے اور ٹیکساس کے کلاس رومز کے تنوع کی عکاسی کرنے میں ناکام ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK