Updated: April 15, 2026, 8:04 PM IST
| Kyiv
یوکرینی صدر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کے پاس یوکرین کے لیے وقت نہیںہے کیونکہ وہ ایران جنگ میں مصروف ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ ایران جنگ کے بڑھنے سے یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کی ترسیل میں کمی آ سکتی ہے، خاص طور پر فضائی دفاعی مواد پر دباؤ ہوگا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی۔ تصویر: آئی این این
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک بیان میںکہا ہے کہ’’ امریکی امن مذاکرات کاروں کے پاس یوکرین کے لیے وقت نہیں کیونکہ وہ ایران کی جنگ میں مصروف ہیں،‘‘ ساتھ ہی انہوں نے امریکی ہتھیاروں کی ترسیل میں رکاوٹوں پر افسوس کا اظہار کیا۔بعد ازاں زیلنسکی نے جرمن عوامی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ’’ اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر، جنہوں نے روس کے ساتھ یوکرین جنگ ختم کرنے کے مذاکرات میں ثالثی کی تھی، اس وقت مسلسل ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں۔‘‘تاہم زیلینسکی نے کہا کہ’’ گر امریکہ پوتن پر دباؤ نہیں ڈالے گا تو امریکی تونرم گوئی کے سبب وہ بے خوف ہوجائیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پولینڈ کے قانون ساز نے نازی سواستک والا اسرائیلی جھنڈا دکھا کر تنازع کھڑا کردیا
واضح رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے سب سے مہلک تنازعے کو ختم کرنے کے لیے امریکی قیادت میں ہونے والے مذاکرات مارچ کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں، اور روسی اور یوکرینی مذاکرات کار فروری میں جنیوا کے بعد سے نہیں ملے۔زیلنسکی نے کہا کہ’’ یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کا معاملہ سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔اگر جنگ جاری رہی تو یوکرین کے لیے ہتھیار کم ہوں گے۔ یہ خاص طور پر فضائی دفاعی مواد کے لیے نازک ہے۔‘‘ بعد ازاںزیلنسکی نے ناروے کے دورے کے دوران ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خاص طور پر پی اے سی ۳؍انٹرسیپٹر میزائلوں کے ساتھ پی اے سی ۲؍ میزائل کے لیے بھی ایک مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز میںوہ سمجھ گئے تھے کہ انہیں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔اور ہتھیاروں کی ترسیل میں سست روی کو فکر مندی ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھئے: روس چین تعلقات عالمی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں: لاوروف
واضح رہے کہ زیلنسکی نے یہ تبصرہ ناروے کے وزیراعظم جوناس گہر اسٹور کے ہمراہ کیا، جہاں دونوں لیڈروں نے اعلان کیا کہ انہوں نے ’’بہتر دفاعی اور سلامتی تعاون پر ایک مشترکہ اعلامیہ‘‘ پر دستخط کیے ہیں۔مزید برآںناروے کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ ناروے اور یوکرین دفاعی صنعتوں کے درمیان قریبی تعاون کو آسان بنانا چاہتے ہیں اور یوکرینی ڈرون اب ناروے میں تیار کیے جائیں گے۔‘‘ علاوہ ازیں منگل کو، زیلنسکی نے ایک سرکاری وفد کی قیادت میں برلن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چانسلر فریڈرک میرز اور کلیدی وزرا سے ملاقات کی اور یوکرین جنگ پر تبادلہ خیال کیا، جو اپنے پانچویں سال میں ہے۔دونوں ممالک نے دفاع پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کا بھی اعلان کیا۔